أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ‌ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو جو (اتنی چیزیں) پیدا کرتا ہے کیا وہ اس کی مثل ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے، پس کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو (اتنی چیزیں) پیدا کرتا ہے کیا وہ اس کی مثل ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے، پس کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ (النحل : 17) 

اس کائنات کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر استدلال 

اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود اور اپنی توحید پر اپنی تخلیق سے استدلال فرمایا : النحل :4 میں ذکر فرمایا کہ اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا اور یہ اس کے وجود اور الوہیت پر قوی دلیل ہے کہ اس نے پانی کی ایک بوند سے جیتا جاگتا انسان بنادیا اور اس کو اتنی ذہنی اور جسمانی طاقت عطا کی کہ اس نے بحر و بر کو مسخر کرلیا، پھر النحل : 5 ۔ 8 میں فرمایا : اس نے چوپایوں کو پیدا کیا جن کے اون میں تمہارے لیے لباس ہے، جن کے گوشت میں اور دودھ میں تمہاری غذا ہے، جن کی پیٹھوں میں تمہارے لیے سواری ہے اور باربرداری کا ذریعہ ہے، پھر ان کو اتنا حسین بنایا کہ ان کو دیکھنا تمہارے لیے خوشی اور فرحت کا موجب ہے، پھر النحل :10 میں بیان فرمایا کہ اس نے تمہارے پینے کے لیے اور تمہاری زراعت کی سیرابی کے لیے آسمان سے پانی نازل فرمایا اور النحل : 12 میں فرمایا : اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو اور ستاروں کو تمہارے مصالح اور منافع کے مسخر کیا، النحل :13 میں فرمایا اس نے زمین میں تمہارے لیے گونا گوں اقسام کی مخلوق پیدا کی، النحل 14 میں فرمایا اس نے سمندر میں تمہاری غذا کے لیے تروتازہ گوشت پیدا کیا، اور تمہاری زینت کے لیے اس میں انواع و اقسام کے زیورات رکھے، اور النحل 15 میں فرمایا کہ اس نے سمندر کے پانی میں تمہارے سفر کے لیے کشتیاں اور جہاز بنائے اور اس نے زمین پر پہاڑوں کو بنایا تاکہ وہ اپنی گردش کے دوران اپنے محور سے نہ ہٹ سکے، اس نے راستوں میں مختلف نشانیاں رکھیں تاکہ تمہارے لیے منزل کا تعین آْسان ہو اور النحل 16 میں بتایا کہ اس نے آسمان پر ستارے بنائے تاکہ ریگستانوں اور سمندروں میں دوران سفر تم اپنی منزل کا سراغ لگا سکو۔

اب دیکھو یہ اللہ کی تخلیقات ہیں، کیا یہ تخلیقات اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کا پتا نہیں دیتیں، کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب چیزیں خودبخود وجود میں آگئی ہیں، اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ سب چیزیں خودبخود بن گئی ہیں تو وہ بتائے کہ وہ خود کیوں خودبخود وجود میں نہیں آیا، وہ اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے تولیدی نظام کا کیوں محتاج تھا، جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ پوری کائنات ایک اتفاقی حادثہ ہے تو ہم اس سے یہ کہتے ہیں کہ اتفاقات میں دوام، ربط اور تسلسل نہیں ہوتا، پھر کیا وجہ ہے سیب کے درخت میں ہمیشہ سیب ہی لگتا ہے آما یا امرود کیوں نہیں لگتا، اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ کا ئبات کئی خداؤں کی مجموعی کاوش کا نتیجہ ہے تو اول تو ہم یہ کہتے ہیں کہ کس کا یہ دعوی ہے کہ اس کائنات کے بنانے میں اس کا دخل ہے۔ کیا بےجان، اندھے اور گونگے بت یہ کہتے ہیں، کیا حضرت عیسیٰ اور عزیر نے یہ کہا، کیا گائے اور پیپل کا درخت یہ کہتا ہے۔ قرآن مجید کی ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نمرود نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ہے، جب حضرت ابراہیم نے اس سے یہ فرمایا : اگر یہ بات ہے تو سورج کو مغرب سے طلوع کر کے دکھاؤ تو وہ مبہوت ہوگیا، پھر نمبرود تو عبرتناک موت مرگیا اور خدا وہ ہے جو ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے۔

اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کچھ غیر مرئی قوتیں ہیں جنہوں نے ملکر اس کائنات کو بنایا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر یہ اعلان کیا کہ وہ تنہا بلا شرکت غیر اس کائنات کو بنانے والا ہے تو انہوں نے اپنے نمائندے بھیج کر اللہ تعالیٰ کے دعوی توحید کو رد کیوں نہیں کیا، انہوں نے اپنی خدائی پر کوئی دلیل کیوں نہیں قائم کی، پھر ہم بغیر کسی برہان اور دلیل کے بلکہ بغیر کسی دعوی کے اللہ تعالیٰ کے کسی غیر کی خدائی یا خدائی میں شرکت کیوں مانیں، ثانیا جس چیز کے بنانے میں کئی لوگ شریک ہوں ان میں ضرورت اختلاف بھی ہوتا ہے، پھر اس کائنات کے تمام نظام میں یکسانیت کیوں ہے ؟

اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور توحید پر ان تمام تخلیقات کو بطور دلیل پیش کیا اور جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو خالق مانتا ہے اس کی کون سی تخلیق ہے اور اس نے کیا بنایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 17