حاضرو ناظر پر اعتراضات کے جوابات

تحریر: ظفر کیلم ادروی
 اعتراض: 1
ہرجگہ حاضر و ناظر ہونا خدا کی صفت ہے
علی کل شئ شھیدا۔
بکل شئی محیط۔ 
لہذا غیر میں یہ صفت ماننا شرک فی الصفت ہے۔
الجواب
ہر جگہ میں حاضر و ناظر ہونا خدا کی صفت ہرگز نہیں۔ خدائے تعالیٰ جگہ اور مکان سے پاک ہے کتب عقائد میں ہے
 لا یجری علیہ وزمان ولا یشتمل علیہ مکان۔
خدا پر نہ زمانہ گزرے کیونکہ زمانہ سفلی اجسام پر زمین میں رہ کر گزرتا ہے انہیں کی عمر ہوتی ہے۔چاند سورج ستارے حور و غلمان فرشتے بلکہ آسمان پر عیسی علیہ السلام معراج میں حضور ﷺ زمانہ سے علیحدہ ہیں اور نہ کوئی جگہ خدا کو گھیرے خدا تعالیٰ حاضر ہے مگر بغیر جگہ کے اسی لیے
 ثم استوی علی العرش
کو متشابہات سے مانا گیا ہے اور بکل شئ محیطا 
وغیرہ آیات میں مفسرین فرماتے ہیں علماً وقدرۃً یعنی اللہ کا علم اور اس کی قدرت عالم کو گھیرے ہوئے ہے۔
خدا کو ہر جگہ ماننا بے دینی ہے۔ ہر جگہ میں ہونا تو رسول خدا ہی کی شان ہوسکتی ہے اور اگر مان بھی لیا جائے تو بفرض محال بھی حضور ﷺ کی یہ صفت عطائی حادث مخلوق قبضہ الٰہی میں ہے اور خدا کی یہ صفت ذاتی قدیم غیر مخلوق ہے کسی کے قبضے میں نہیں اتنے فرق ہوتے ہوئے شرک کیسا؟
جیسے حیوۃ سمع بصر وغیرہ 
فتاوی رشیدیہ جلد اول کتاب البدعات ص 91 میں ہے
فخر دو عالم ﷺ کو مولود میں حاضر جاننا بھی غیر ثابت ہے اگر باعلام  اللہ تعالیٰ جانتا ہے  تو شرک نہیں ورنہ شرک ہے۔
 
اعتراض: 2
قرآن کریم فرماتا ہے: وما کنت لدیھم اذ یلقون اقلامھم۔
 آپ ان کے پاس نہ تھے جبکہ وہ لوگ اپنے اپنے قلم پانی میں ڈال رہے تھے۔
وما کنت لدیھم اذا جمعوا امرھم، وما کنت بجانت الغربی اذ قضینا الی موسی۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ گزشتہ زمانہ میں جو یہ مذکورہ واقعات ہوئے اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے صاف ظاہر ہوا کہ حضور ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں۔
الجواب
 یہ سوال اس وجہ سے ہے کہ معترض کو حاضر و ناظر کے معنی کی خبر نہیں ہم پہلے عرض کر چکے کہ حاضر و ناظر کی تین صورتیں ہیں۔۔
ایک جگہ رہ کر سارے عالم کو دیکھنا۔
 آن کی آن میں سارے عالم کی سیر کرلینا۔
 ایک وقت میں چند جگہ ہونا۔
ان آیات میں فرمایا گیا کہ آپ بایں جسم پاک وہاں موجود نہ تھے ان میں یہ کہاں ہے کہ آپ ان واقعات کو ملاحظہ بھی نہیں فرما رہے تھے اس جسد عنصری سے وہاں نہ ہونا اور ہے اور ان واقعات کو مشاہدہ فرمانا کچھ اور بلکہ آیات مذکورہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ آپ وہاں بایں جسم موجود نہ تھے لیکن پھر بھی آپ کو ان  واقعات کا علم اور مشاہدہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ سچے نبی ہیں یہ آیات تو حضور ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت کر رہی ہیں۔
تفسیر صاوی میں وما کنت بجانب الطور کی تفسیر میں ہے: (ترجمہ) یعنی یہ فرمانا کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کی جگہ نہ تھے جسمانی لحاظ سے ہے عالم روحانی کی حیثیت سے حضور ﷺ ہر رسول کی رسالت اور آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسمانی ظہور تک کے تمام واقعات پر حاضر ہیں۔
اعتراض: 3
 اگر حضور ﷺ ہر جگہ حاضروناظر ہیں تو مدینہ پاک حاضر ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
الجواب
جب خدا ہرجگہ ہے تو کعبہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ 
اور پھر معراج میں حضور ﷺ کے عرش پر جانے کا کیا فائدہ تھا؟
 جناب مدینہ منورہ دارالسلطنت ہے اور خاص تجلی گاہ جیسے کہ برقی طاقت کے لیے پاور ہاؤس بلکہ اولیاءاللہ کی قبور مختلف پاوروں کے قمقمے ہیں  ان کی بھی زیارت ضروری ہے۔
 
اعتراض: 4
 اگر حضور ﷺ حاضرو ناظر ہیں تو تم لوگ نماز کی امامت کیوں کرتے ہو ہر جگہ حضور ہی امام ہونے چاہیئں۔
الجواب
کسی آیت یا حدیث میں یہ نہیں کہ حضور کی موجودگی میں کوئی امامت نہیں کرسکتا۔ حضرت صدیق اکبر نے حضور کی حیات شریف میں 17 نمازیں پڑھائیں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضور کی موجودگی میں نماز فجر پڑھائی خود حضور انور نے ان کے پیچھے ایک رکعت پڑھی۔
جناب امامت کے لیے ضروری ہے کہ امام حاضر بھی ہو نظر بھی آئے نماز بھی پڑھائے حضور حاضر ہیں اور تمام جہان کو ملاحظہ فرما رہے ہیں مگر وہ تو نظر نہیں آتے ناظر ہیں مگر منظور نہیں نیز اب آپ یہ نماز کسی کو نہیں پڑھاتے کہ یہ نماز اسی عالم کی چیز ہے حضور دوسرے عالم سے تعلق رکھتے ہیں اور حضور پر اب نماز فرض نہیں ہم ہپر فرض  ہے فرض والا نفل والے کے پیچھے نہیں پڑھ سکتا۔
منقول: جاءالحق، از مفسر شہیر مفتی احمد یار خا نعیمی علیہ الرحمہ