روزہ و رمضان میں اخلاص کی برکتیں

تحریر:محمد عارف رضا نعمانی مصباحی 
 اللہ عزوجل اخلاص کے ساتھ کیے گئے عمل کو پسند فرماتا ہے۔ اخلاص یہ ہے کہ نیک اعمال صرف اللہ ہی کے لیے کیے جائیں۔اس میں غیر کی خوشی کا شائبہ بھی نہ ہو۔قرآن پاک میں جا بجا اخلاص کا ذکر آیا ہے۔معاملات میں بھی اخلاص کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔جیسا کہ ہم دنیوی معاملات میں عام طور سے دیکھتے ہیں۔جو اپنے معاملات میں سچا ہو اس کو لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔خاص طور سے عبادات اور طاعات میں اخلاص کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔اہل علم کے نزدیک اخلاص کی تعریف کچھ یوں ہے: فرماں برداری میں ریا (دکھاوا)کو ترک کرنے کانام اخلاص ہے۔قاضی فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ لوگوں کے لیے عمل کو ترک کرنا ریا ہے اور لوگوں کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ مذکورہ دونوں چیزوں کے نہ ہونے کا نام اخلاص ہے۔اعمال کے کدورات سے پاک ہونے کا نام اخلاص ہے۔اخلاص یہ ہے کہ تم اپنے عمل کے ذریعے اللہ کی خوشنودی چاہو۔  التعریفات للجرجانی،ص۷۱،۸۱
مذکورہ تمام تعریفات سے اخلاص کا صحیح معنی و مفہوم واضح ہوگیا۔ بندہ کسی عمل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرے،یہ اخلاص ہے۔ اخلاص کا ہونا عمل کی قبولیت کا ضامن ہے۔اخلاص کے بارے میں قرآن پاک میں متعدد آیات آئی ہیں۔اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ”قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَاَقِیْمُوا وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ“۔  الاعراف۷،آیت ۹۲
ترجمہ:تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے،اوراپنے منہ سیدھے کروہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص)اسی کے بندے ہو کر۔  کنزالایمان
یعنی جیسے اس نے تمہیں نیست سے ہست کیا،ایسے ہی مرنے کے بعد زندہ فرمائے گا۔ یہ اْخروی زندگی کا انکار کرنے والوں پر حْجّت ہے اور اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جب اسی کی طرف پلٹنا ہے اور وہ اعمال کی جزا دے گا تو طاعات و عبادات کو اس کے لیے خالص کرنا ضروری ہے۔  تفسیر خزائن العرفان
اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی ہدایت دی ہے۔جب عبادات میں غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جس کے روزوں میں اللہ عزوجل نے اخلاص کی عظیم مثال رکھی ہے۔روزے کی حالت میں بندہ کھانے پینے سے صرف اللہ ہی کے لیے رکتا ہے۔کسی قسم کا دکھاوامقصود نہیں ہوتاتواللہ بندوں کوبہت ثواب عطا فرماتا ہے۔
موجودہ دور کی افطار پارٹیاں اور امدادی کٹ:موجودہ دور میں اگردیکھا جائے تو اکثر وبیشتراعمال خیرصرف نام و نمود کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اب کسی بھی قسم کی امداد مستحق تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس وقت کی تصاویر محفوظ کی جاتی ہیں اورسوشل میڈیا پر شیئر بھی کی جاتی ہیں،تاکہ دنیا ہماری سخاوت کو دیکھے۔ اس لینے والے کے دل پر کیاگزرتی ہے جب وہ خود اپنی تصویر سوشل میڈیاپر دیکھتا ہے یا سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کا حوالہ دے کر لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں؟ ایسوں کی داد و دہش سخاوت نہیں ہے۔ایک غریب انسان کے لیے رمضان کے کچھ خرچ کا آپ نے انتظام کر دیا، اسے آپ کی تصویرکشی اور اس کے وائرل ہونے نے شرمندہ کر دیا۔جس کی وجہ سے اس غریب کی خود داری کوٹھیس پہنچی۔بعض تو ایسے خود دار ہوتے ہیں کہ فاقہ کشی کو ایسی مدد پر ترجیح دیتے ہیں۔لہٰذا ایسا کرنے سے ضرور بچیں، جس سے کسی کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔
افطار پارٹیوں کا حال اور بھی برا ہوتا جا رہا ہے۔پہلے تو غریب روزے دار کو روزہ افطار کرنے کے لیے تازہ پانی کا سہارا لینا پڑتا تھا۔اتنا مال کہاں کہ وہ عمدہ لذیذکھانوں کا انتظام کرے۔طرح طرح  کے مشروبات ا ور ماکولات کا انتظام کرے۔محلے کے بعض اہل خیر حضرات افطار کا انتظام کر تے ہیں۔کچھ حضرات توایسے ہیں جوضروری سامان گھر بھیجوا دیتے ہیں،تاکہ کسی کی چندروز کی افطاریاں اچھی ہوجائیں لیکن کچھ اہل خیر افطار پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں،تاکہ لوگ ان کے گھر جمع ہو کر افطار کریں۔ کچھ افطار پارٹیاں ایسی بھی ہو تی ہیں کہ جن میں کئی کئی محلوں کے صرف مالداروں کی دعوت ہوتی ہے۔اگر کوئی غریب آجائے تو ناک اور بھویں اپنا زاویہ بدل دیتی ہیں۔انہیں کسی کنارے بٹھا دیا جاتا ہے۔پیسے والوں کی ہی آؤ بھگت ہوتی ہے۔لگتا ہے یہ دو چار گھنٹے زیادہ روزہ رکھتے ہیں۔ افطار کا زیادہ ثواب توکسی محتاج،غریب مسافر کو افطار کرانے سے ملتا ہے کیوں کہ اس میں کوئی سیاست یانمائش نہیں ہوتی لیکن اس کی طرف بہت کم لوگ دھیان دیتے ہیں۔افطار پارٹیوں میں سیاست عام ہوتی جارہی ہے۔اب تو بڑے پیمانے پر افطار پارٹیاں ہو رہی ہیں۔بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے نیتاوں کو بلایا جاتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ غیر مسلم نیتا افطار پارٹیوں میں آکر کسی غریب روزے دار کاحق کھا جاتے ہیں۔ایسی پارٹیاں منعقد کرانے والے اللہ کی رضا کم اورلوگوں کی خوشی زیادہ چاہتے ہیں۔اللہ خیر کرے۔
قریب دو سال پیشتر رمضان شریف میں نزدیک کے ایک گاؤں میں جانے کاا تفاق ہوا۔معلوم ہواکہ مسجد میں آج فلاں کی طرف سے افطار میں گاوں بھر کی دعوت ہے۔پھر احباب نے بتایا کہ پورے مہینے کسی نہ کسی کی طرف سے مسجد میں افطار کا انتظام کیاجاتاہے۔جس میں محلے بھر کے سبھی لوگوں کی عام دعوت ہوتی ہے۔احباب کے اصرار پر میں بھی حاضر ہوا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ افطار کا انتظام مسجد کی چھت پر ہے۔مسجد کی چھت استعمال کرنے کامحتاط مسئلہ بتایاگیا۔افطار کا وقت قریب ہوا تو گاوں کے کچھ غیر مسلم نیتا مسجد میں آئے،ساتھ میں کچھ مسلم نیتا بھی تھے۔ افطار کیا۔افطار کے فوراًبعد سب اپنی اپنی گاڑی سے چلے گئے،حیرت تواس وقت ہوئی کہ مسلم نیتاوں کی بھی غیرت ایمانی اس قدر مر چکی تھی کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے جس اللہ کی عبادت کاسہارا لے رہے ہیں،مسجدمیں اسی کا رزق کھا رہے ہیں،اسی کے آگے ایک وقت بھی سر جھکانے کو تیار نہیں۔جو کبھی مسجدنہیں آتا ہے وہ بھی ایسے موقع پر مسجد میں آکر سر جھکا ہی لیتا ہے۔مجھے اس وقت بہت افسوس ہوا۔ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ اگر خد اکسی سے ناراض ہوتا ہے تو اس سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
خدارا! میرے مسلمان بھائیو!اگر اللہ نے مال دیا ہے اور نیکیوں کی توفیق دی ہے تو اسے اللہ کی رضا حاصل کرتے ہوئے خرچ کریں،کیوں کہ”دولت،خد ا کی نعمت ہے،لیکن اس سے بڑی نعمت راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ ہے“۔(قول حافظ ملت)
جب بندہ اللہ کے لیے خرچ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔لیکن اخلاص شرط ہے۔ اگراخلاص کی برکتیں دیکھنی ہوتوبزرگان دین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں۔ان کے شب و روز کا جائزہ لیں توان کے خلوص وللہیت کااندازہ ہو سکے گا۔ یہ نام و نمود سے بے نیاز ہو کراللہ کی بار گاہ میں سربسجود ہوتے ہیں۔ آئیے ان کے اخلاص کی ایک جھلک دیکتے ہیں:
 عبدالواحد بن زید کاقول ہے کہ   ”قبولیت اخلاص سے جڑی ہوئی ہے،دونوں میں جدائی نہیں“۔  الاخلاص والنیۃ لابن ابی الدنیا،ص۷۳ 
امام اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیرسے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فرشتہ بندے کے عمل کوخوشی خوشی لے کر چڑھتا ہے۔جب رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچتاہے تو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کے عمل کو سجین(جہنم کاوہ مقام جس میں کفار و فجارہوں گے) میں ڈال دو،کیوں کہ اس کام سے میری خوشنودی مطلوب نہیں تھی۔  الاخلاص والنیۃ لابن ابی الدنیا،ص۵۴
اس حدیث پاک سے بالکل واضح ہوگیا کہ اللہ عزوجل ریا اور دکھاوے کو کس قدر ناپسند کرتا ہے۔جس طرح اللہ عزوجل دکھاوے کو ناپسند کرتا ہے اسی طرح اخلاص کے ساتھ کیے گئے عمل کو پسند فرماتا ہے۔بندوں کو چاہیے کہ اپنے اعمال میں مخلص ہو جائیں، کیوں کہ عمل کی قبولیت اخلاص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اللہ عزوجل بندوں کو مال و دولت اور شہرت و عزت دے کر آزماتا ہے کہ میرابندہ میراشکر ادا کرتا ہے یا  ناشکری کرتا ہے۔تو بندے کو چاہیے کہ اللہ کی بارگاہ میں اخلاص کی برکتوں کا سوال کیا کرے۔نیکیوں کی توفیق مانگا کرے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ۔کیوں کہ بسا اوقات تمام سامان آرائش و زیبائش کے بعد بھی راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ نہیں ملتا ہے تو انسان خسارے میں پڑتا ہے۔
تراویح میں اخلاص کا امتحان:
رمضان المبارک میں اللہ عزوجل روزے اور قرآن پاک کے ذریعہ بندوں کے اخلاص کا امتحان لیتا ہے۔اس امتحان کے نتیجے میں روزہ اور قرآن پاک کو بندے کا سفارشی بنادیتا ہے۔اللہ کے بندے ان امتحانات  میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو اس میں اخلاص کے تعلق سے کامیاب نہیں ہو پاتے۔مسلمانوں میں رمضان کی ابتدائی تاریخوں میں تو خوب جوش رہتا ہے لیکن چند ہی دنوں کے بعد وہ سست پڑجاتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ صرف تین،پانچ،سات زیادہ سے زیادہ دس دن کی تراویح ہو۔ ایک بار پورا قرآن ختم کرکے اپنے کام دھندے پر دھیان دیا جائے۔یہ ان کی غلط فہمی ہے۔تراویح تو پورے ماہ رمضان میں پڑھنا ہے۔ایک قرآن کے بعد تراویح معاف نہیں ہے۔لہٰذا ایسی کوتاہیوں سے بچیں۔اس رحمت و برکت والے مہینے میں روزہ رکھ کر،قرآن ذوق و شوق سے سن کر اپنے قلوب و اذہان کو نورانی بنائیں۔اپنی عبادتوں میں اخلاص پیدا کریں کیوں کہ ایک مومن کے لیے اخلاص ہی سرمایہ نجات ہے۔
حضرت حسن بصری سے مروی ہے: ”بے شک لوگ جمع ہو کراللہ عزوجل کا ذکرکرتے،تو اس دوران کسی کو آنسو آجاتا،تو وہ اسے روکتا، پھر آتا تو پھر روکتا،پھر آتا تو پھر روکتا،جب اسے یہ ڈرہوتاکہ آنسو نکل جائے گا تو اٹھ کر چلا جاتا“۔  الاخلاص والنیۃ لابن ابی الدنیا،ص۳۶       
حضرت حسن بصری سے ہی مروی ہے کہ”آدمی بیس بیس برس عبادتیں کیا کرتا لیکن اس کے پڑوسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی“ لیکن اب صدقات و عطیات کی ادائیگی پڑوسیوں کو دیکھادیکھا کر ہوتی ہے۔اللہ عزوجل دکھاوے کو ناپسند کرتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اخلاص کو پیش نظر رکھیں تاکہ ہمارے اعمال اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول ہوں۔
یہ باتیں عرض کرنے کا مقصدیہ ہے کہ رمضان المبارک، اللہ کی رحمت و برکت لوٹنے کا بہترین مہینہ ہے۔اس مہینے میں نیکیاں کثرت سے کی جاتی ہیں۔ہر شخص نیکیوں کی طرف مائل ہوتاہے۔اس مہینے میں خیرات کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نیکیوں کی روح اخلاص میں پوشیدہ ہے۔اگر نیکیاں اخلاص سے خالی ہوں تو محض دکھاوا رہ جاتاہے۔اس لیے اس مہینے میں نیکیوں کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہیں۔جب رمضان گرمیوں میں پڑتا ہے توروزے داروں کے لیے ٹھنڈے پانی کا انتظام اللہ کی رضا کا سبب ہے۔عمدہ کھجوروں کا پیکٹ بنا کر گھر گھر بھجوا دیں،کچھ پیکٹ بنوا کر گھر میں رکھیں اور آنے جانے والوں کو تحفۃً پیش کریں۔بظاہر یہ اعمال چھوٹے لگتے ہیں لیکن اجر میں بہت بڑے ہیں۔اللہ کی رضا کا سبب بن سکتے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں ہماری نمازیں:
آج کل اس ماہ رمضان میں ”کورنا وائرس“کے خوف سے حکومتوں نے یہ حکم جاری کر دیا ہے کہ چندآدمی ہی مسجد میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔ہماری مجبوری ہے اس لیے گھروں میں پنج وقتہ اور تراویح پڑھتے ہیں، اس میں بھی ہمیں اخلاص کو گلے سے لگانا ہوگا، مسجد میں عدم حاضری کا افسوس تو ہے لیکن اخلاص کے ساتھ اگر ہم گھروں میں ہی نمازیں اداکریں تراویح بھی پڑھیں تو امید ہے کہ بارگاہ خداوندی سے کہ ہمیں مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب عطا فرمائے گا۔
ایسے وقت ان لوگوں کے اخلاص کا امتحان ہوجاتا ہے جو مسجد میں جاکر نماز اور تراویح کا خوب اہتمام کرتے تھے لیکن اس سال جب گھروں میں مقید ہیں تونماز اور تراویح دونوں غائب ہے۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے اللہ تعالیٰ تو دلوں کی جانتا ہے کیا یہ لوگ اس سے ڈرتے نہیں کہ کل جب وہ مسجدوں میں جاکر نمازپڑھیں گے تورب کی بارگاہ سے ایسی نمازیں لوٹادی جائیں گی۔لہٰذا نماز ہر جگہ پڑھنی ہے مسجد میں اجازت ہوتو مسجد میں ورنہ گھر میں، اللہ کی عبادت تو کرنی ہے۔رب کائنات ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے، آمین۔