أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ؕ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو اب تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ اس میں رہو گے، سو تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اب تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے سو تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانہ ہے۔ (النحل : ٢٩ )

اس آیت میں جہنم کے دروازوں کا ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں سزا کے مختلف درجات ہیں، لہذا بعض لوگوں کی سزا بعض دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوگی، اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے تاکہ ان کا رنج اور غم زیادہ ہو، پھر فرمایا متکبرین کا کیسا برا ٹھکانہ ہے، ان کا تکبر یہ تھا کہ وہ حق کو قبول نہیں کرتے تھے توحید پر واضح دلائل دیکھنے اور سننے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو واحد نہیں مانتے تھے، اور انبیاء (علیہم السلام) کی طرف سے جو دین لے کر آئے تھے اس کو قبول نہیں کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 29