أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَاَتَى اللّٰهُ بُنۡيَانَهُمۡ مِّنَ الۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ السَّقۡفُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَاَتٰٮهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک ان سے پہلے لوگوں نے (بھی ایسی) سازشیں کیں تھیں تو اللہ نے ان کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا سو ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی پھر ان پر وہاں سے عذاب آگیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ان سے پہلے لوگوں نے (بھی ایسی) سازشیں کیں تھیں تو اللہ نے ان کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا، سو انکے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی، پھر ان پر وہاں سے عذاب آگیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا۔ پھر وہ ان کو قیامت کے دن (بھی) رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں وہ میرے شرکا جن کے متعلق تم جھگڑتے تھے، جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔ (النحل : ٢٦، ٢٧ )

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان سے پہلے لوگوں نے سازشیں تیار کیں تھیں۔

امام ابن جوزی فرماتے ہیں اس سے مراد نمرود کنعان ہے اس نے ایک نہایت بلند عمارت بنائی تھی تاکہ اس عمارت پر چڑھ کر آسمان والوں سے جنگ کر کے ان کو ہلاک کردے، اس عمارت کے طویل میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا طول پانچ ہزار ہاتھ تھا، اور مقاتل نے کہا اس کا طول دو فرسخ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک زبردست آندھی بھیجی جس نے اس محل کی چوٹی کو سمندر میں گرا دیا اور باقی عمارت اس کے رہنے والوں پر گر پڑی۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ کفار مکہ ہیں جو مکہ کے راستہ میں کھڑے رہتے تھے تاکہ مکہ میں آنے والوں کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق گمراہ کریں، اس سلسلہ میں تیسرا قول یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے بڑے بڑے کافر بھی اپنے نبیوں کے خلاف سازش کرتے تھے لیکن ان کی سازشیں ان پر الٹ گئیں۔ 

نیز فرمایا پھر ان پر وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انہیں گمان تک نہ تھا، یعنی وہ سمجھتے تھے کہ وہ بہت امن سے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا، ان کے مکان ان پر گرپڑے یا ان پر کوئی آسمانی عذاب آگیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن رسوا کرے گا یعنی ان پر ذلت والا عذاب نازل فرمائے گا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہاں ہیں میرے شرکا جن کے متعلق تم جھگڑتے تھے، اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ہے پھر اس نے کیسے فرمایا کہاں ہیں میرے شرکا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تمہارے زعم اور اعتقاد میں جو میرے شرکا تھے وہ کہاں ہیں، پھر فرمایا جن لوگوں کو علم دیا گیا وہ کہیں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد فرشتے ہیں اور دوسروں نے کہا اس سے مراد مومنین ہیں جب وہ قیامت کے دن کافروں کی ذلت اور رسوائی دیکھیں گے تو کہیں گے کہ آج ساری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ کافر دنیا میں مسلمانوں کا انکار کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اور جب قیامت کے دن مسلمان کافروں سے یہ بات کہیں گے تو یہ کلام کافروں کی اہانت اور ان کو ایذا پہنچانے میں زیادہ موثر ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 26