ماہ رمضان المبارک کی برکتیں اور روزہ کی حقیقت

تحریر: محمد نثار نظامی
اللہ تعالیٰ نے سال کو بارہ مہینوں پر تقسیم فرمایا ہے اور ہر ایک مہینے کو برابر نہیں کیا، بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت دی ،اور جن دنوں ،مہینوں کو فضیلت سے نوازا ہے ان میں عبادات کے ثواب کو بھی بڑھا دیا  ہے ،اس حیثیت سے ماہ رمضان المبارک کو بڑی خصوصیات اور فضائل حاصل ہیں،یقینا یہ خیرو برکت کا مہینہ ہے ،تقوی و پرہیز گاری کا مہینہ ہے ،اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں نازل ہوتی ہیں ،رزق میں کشادگی اور فراخی ہوتی ہے ،خوان نعمت ہر کسی کے لیے کشادہ ہوتا ہے ،اللہ کی نعمتیں ہر کس و ناکس کو نصیب ہوتی ہیں ،ہر شخص اعمال صالحہ کی طرف مائل نظر آتا ہے ،رحمت خداوندی بندوں کو ڈھانپ لیتی ہے ،سائل محروم نہیں ہوتا چاہے رزق کا طلبگار ہو یا رب کی مغفرت کا بلکہ مانگنے سے سوا عطا کیا جاتا ہے۔
در کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا
جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو 
اس ماہ مبارک میں ہر طرف رحمت و نور کی بارش ہوتی ہے ،ہرسو بہاریں نظرآتی ہیں ،ایسی بہاریں کسی اور مہینے میں نہیں دیکھنے کو ملتیں اور کیوں نہ ہو کہ اس مہینے کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے سرکار دوعالم ﷺ اس ماہ مبارک کی آمد سے پہلے اس کے استقبال کی تیاریاں کیا کرتے تھے ،اس کے لئے خصوصی دعائیں کیا کرتے تھے اسی لیے اللہ کے نیک بندے بھی اس ماہ مبارک کی قدر کرتے ہیں ،اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان ہی کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کا ذکر قرآن مقدس میں آیا ہے باقی دوسرے مہینوں کو یہ شرف حاصل نہیں ، یہی وہ ماہ مبارک ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا ہے ، یہی وہ باعظمت مہینہ ہے کہ جس کے ابتدا میں رحمت ہے، اور وسط میں مغفرت ہے ،اور بالآخر دوزخ سے نجات ہے ، اس ماہ میں ہر روز دس لاکھ گنہگاروں کو جہنم سے نجات ملتی ہے اور اس ماہ کی ٢٩ / تاریخ کو پورے مہینے میں جتنے آزاد ہوتے ہیں انکے مجموعے کے برابر اس رات میں آزاد کیۓ جاتے ہیں ،اللہ رب العزت کا کروڑہا کروڑہا احسان کہ اس نے ہمیں ماہ رمضان جیسی پاکیزہ اور عظیم الشان نعمت تحفے میں عطا کی ، اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے لا محدود برکتیں اور رحمتیں رکھی ہیں ،اس مہینے میں روزے دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتاہے
عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور حدیث پاک میں ہے کہ رمضان کے روزہ دار کے لئے دریا کی مچھلیاں افطار تک دعاۓ مغفرت کرتی رہتی ہیں 
رمضان کی تحقیق: رمضان “رمضاء” سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں “گرم پتھر ” اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ عرب کے قبیلہ والے شدید گرمی کے موسم میں روزے رکھا کرتے تھےلہذا جب ان لوگوں نے مہینے کا روزہ رکھنا چاہا تو ان ایام میں یہ مہینہ انتہائی گرمی کے موسم میں آیا چنانچہ اسی مناسبت سے اس کا نام رمضان رکھا گیا 
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس مہینے کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ماہ مقدس معاصی کو جلا دیتا ہے  جیسے آگ سونے کو جلاکر اس کا میل کچیل دور کردیتی ہے اسکو صاف و شفاف کرلیتی ہے اسی طرح اس ماہ مقدس کی عبادتیں اور نیکیاں مسلمانوں کو معاصی سے پاک و صاف کر دیتی ہیں ،خدا کے قریب کردیتی ہیں 
:ماہ رمضان میں مرنےکی فضیلت
فیضان سنت میں انیس الواعظین کے حوالے سے ہے کہ جو خوش نصیب مسلمان ماہ رمضان میں انتقال کر تا ہے اسکو سوالات قبر سے امان مل جاتی ہے ،عذاب قبر سے بچ جاتا ہے اور جنت کا حقدار قرار پاتا ہے ،چنانچہ حضرات محدثین کرام رحمہم اللہ المبین کا قول ہے “جو مومن اس مہینے میں مرتا ہےوہ سیدھا جنت میں جاتا ہے گویا اس کے لئے باب سقر بند ہے”۔
:شیطان کے قید میں ہونے کے باوجود گناہ کیوں ہوتے ہیں
بلاشبہ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس ماہ مقدس میں شیطان قید کردیے جاتے ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر گناہ کیوں ہوتا ہے تو اسکی وجہ بیان کرتے ہوئے مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان تحریر فرماتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ ماہ رمضان میں آسمانوں کے دروازے بھی واشگاف ہوتے ہیں جن سے اللہ کی خاص رحمتیں زمین پر نازل ہوتی ہیں اور جنتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنت والے حورو غلمان کو خبر ہوجاتی ہے کہ دنیا میں رمضان آگیا اور وہ روزہ داروں کے لئے دعاؤں میں مشغول ہوجاتے ہیں یقیناً ماہ رمضان میں دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینے میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی ،وہ جو مسلمانوں میں مشہورومعروف ہے کہ رمضان میں عذاب قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے ،اور درحقیقت ابلیس مع اپنی ذریتوں کے قید کردیا جاتا ہے ،اس مہینے میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفس امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے ۔
:روزہ کی حقیقت
 روزہ اللہ کی ایک قیمتی نعمت ہے اور ایک سخت عبادت بھی ،اس میں انسانی خواہشات اور نفسانی رغبتوں کی بندش ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ ہمیں خیرالامم کادرجہ دیتے ہوئے روزےکی فرضیت کو صرف امت محمدیہ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں رکھا بلکہ اس سے قبل جتنی بھی امتیں گزری ہیں کسی کو بھی اس عبادت کی فرضیت سے آزاد نہیں کیا۔
البتہ پہلی امتوں کے روزے کی صورت ہمارے روزوں سے مختلف تھی ،حضرت آدم علیہ السلام پر چاند کے ہر مہینے تیرہ،چودہ،پندرہ تاریخ کے روزے فرض تھے،حضرت نوح علیہ السلام ہمیشہ روزہ دار رہتے تھے ،حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو محرم کی دس تاریخ یعنی عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم تھا ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر صرف رمضان ہی کے روزے فرض تھے۔
شیخ التفسیر حضرت ملا احمدجیون رحمۃاللہ علیہ پچھلی امتوں کے روزے کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں : پہلے صرف سال میں ایک ہی روزہ عاشورہ کے دن فرض ہوا تھا پھر یہ منسوخ ہوکر چاند کی تیرہویں ،چودہویں اور پندرہویں تاریخوں کے روزے فرض ہوۓ پھر یہ بھی منسوخ ہوکر رمضان کے روزے فرض ہوۓ مگر لوگوں کو اختیار تھا چاہے روزہ رکھیں چاہے فدیہ ادا کریں پھر یہ اختیار منسوخ ہوکر روزہ لازم ہوۓ مگر یہ پابندی رہی کہ رات کو سونے سے پہلے جو چاہو کھالو سوکر کچھ بھی نہیں کھا سکتے پھر یہ بھی منسوخ ہوکر صبح تک کھانے پینے کا اختیار دیا گیا مگر جماع پھر بھی حرام رہا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آنے پر رات میں بھی یہ حلال کردیا گیا۔
:روزے کا فلسفہ
روزے کا فلسفہ خود پرور دگار عالم نے بیان فرما دیا ہے کہ میں نے تم پر روزہ اس لیے فرض کیا تاکہ تم “متقی و پرہیزگار “بن جاؤ جیساکہ (لعلکم تفلحون )سے معلوم ہوتا ہے ،روزے ہی کو یہ امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی دوسر ی عبادات سے احکام میں صفت تقوی سے متصف ہونے کا ذکر نہیں فرمایا حالانکہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان میں نیکی کا جو ہر اور تقوی کا نور ہر عبادت پیدا کرتی ہے ،
:روزہ کے جسمانی فوائد
طبی نقطۂ نظر سے روزہ کی افادیت و اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اطباۓ متقدمین سے لیکر اس عصر حدیث کے ماہرین تک اسلامی روزہ کی تعریف و توصیف میں ہرایک رطب اللسان ہیں اور اس کے جسمانی فوائد ہر ایک کے نزدیک مسلم الثبوت ہیں
ارسطو، فیشاغورث،اور بطلیموس جیسے حکماۓ متقدمین  کا ماننا ہے کہ روزہ تز کیۂ قلب اور دماغ کی صفائی کا بہترین علاج ہے  
ایک یوروپی غیر مسلم ڈاکٹر نے روزہ کا جائزہ لینے کے بعد خود روزہ رکھا تاکہ اپنی ذات پر روزہ کا اثر دیکھ سکے اور اس کا تجزیہ کرسکے ، روزہ رکھنے کے بعد اس نے روزہ سے متعلق اپنا تأثر یوں پیش کیا : ” روزہ نہ تو کام سے روکتا ہے نہ کام کرنے والے کی قوت و توانائی سست کرتا ہے بلکہ روزہ سے فاسد جسمانی مادے جل جاتے ہیں بعض اعضاء میں کم طاقت ضرور پیدا ہوجاتی ہے مگر وہ مضرنہیں بلکہ اپنی توانائی کی بشارت ہے ،روزہ انسان کو جسمانی مشقت سے نہیں روکتا ،روزہ داروں کی سماعت و بصارت دونوں تیز ہوجاتی ہے علاوہ ازیں جب غذائی بے اعتدالیوں سے ہاضمہ میں فتور ہوجاتاہے تو جسمانی فضلات بروقت اور پورے طور پر خارج نہیں ہوتے بلکہ بطور غلاظت خون میں شامل رہتے ہیں ،روزہ ان فضلات کے اخراج میں مدد دیتا ہے ض”، 
:غمخواری کا جذبہ
روزہ رکھنے سے جذبۂ غمخواری پیدا ہوتا ہے ،ایک غنی شخص روزہ رکھتا ہے تو اسکو گرسنگی اور پیاس کی حالت میں ان بے کسوں اور محتاجوں کی یاد ضرور آتی ہے جو نان شبینہ کے بھی محتاج ہیں جن کے لیے اپنے اور اہل و عیال کے پیٹ کی آگ بجھانا مشکل ہوتا ہے جو کئی کئی وقت فاقہ کرکے نہایت ہی عسرت و تنگدستی کے عالم میں زندگی کے روزو شب گزارتے ہیں پھر احساس اغنیاء کے دلوں میں رحم پیدا کرتا ہے اور ایمانی غیرت و حمیت غریبوں اور ناداروں کی امداد اعانت کرنے پربر انگیختہ کرتی ہے