أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰۤئِكَةُ اَوۡ يَاۡتِىَ اَمۡرُ رَبِّكَ‌ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

وہ (کافر) اس کے سوا اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا عذاب آجائے، ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح کیا تھا، اللہ نے ان پر (بالکل) ظلم نہیں کیا وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ (کافر) اس کے سوا اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا عذاب آجائے ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح کیا تھا اللہ نے ان پر (بالکل) ظلم نہیں کیا وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ سو ان کے کاموں کی برائیاں انہیں پہنچ گئیں اور ان کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (النحل : ٣٣، ٣٤)

کفار کے انتظار عذاب کی توجیہ :

اس آیت میں کفار کے دوسرے شبہ کا جواب دیا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر طعن کرتے ہوئے کفار کہتے تھے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو پھر چاہیے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ آکر یہ کہے کہ آپ اللہ کے فرستادہ اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا وہ تو ایمان لانے کے لیے صرف فرشتوں کے منتظر بیٹھے ہیں، اس آیت کی دوسری تقریر یہ ہے کہ جب کافروں نے قرآن مجید پر یہ طعن کیا کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی، اس کے بعد مومنوں کا ذکر فرمایا کہ جب ان سے قرآن مجید کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عمدہ کلام ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ثواب کی بشارت سنائی اس کے بعد پھر کافروں کی مذمت کی کہ یہ اپنے اقوال باطلہ سے رجوع نہیں کریں گے الا یہ کہ ان کے پاس عذاب کے فرتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آجائیں یا یہ کہ کسی آسمانی عذاب کے انتظار میں ہیں، اس کے بعد فرمایا ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح کیا تھا وہ بھی انبیا (علیہم السلام) کا انکار کرتے رہے اور جب انبیاعلیہم السلام ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ وہ آسمانی عذاب کب آئے گا اور انبیا (علیہم السلام) کا مذاق اڑاتے تھے حتی کہ ان پر وہ آسمانی عذاب آگیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، اور ان پر جو عذاب نازل کیا گیا اس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور ایسے کام کیے جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا، کیونکہ وہ نہ صڑف رسولوں کا انکار کرتے تھے بلکہ رسولوں سے کہتے تھے کہ تم ہم کو جس عذاب کی دھمکیاں دے رہے ہو وہ اب تک آ کیوں نہیں چکتا۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں، یا آپ کے رب کا عذاب آجائے، اس عذاب سے مراد یا تو دنیا میں عذاب ہے، جیسے غزوہ بدر میں کافروں کو قتل کیا گیا اور ان کو قید کیا گیا، یا اس قسم کا عذاب ہے کہ ان پر زلزلے آئیں یا ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے قیامت کا عذاب مراد ہو اور کفار مکہ کسی آسمانی عذاب کے منتظر تھے نہ قیامت کے عذاب کے منتظر تھے، لیکن چونکہ وہ ایمان نہیں لارہے تھے اور ان کا ایمان نہ لانا ان پر عذاب نازل کرنے کا موجب تھا اس لیے عذاب کا انتظار کرنے کی ان کی طرف اضافت کی گئی یعنی ان کے ایمان نہ لانے کا انجام دنیا میں آسمانی عذاب ہے یا قیامت کے دن کا ہولناک عذاب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 33