أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ لَّـكُمۡ مِّنۡهُ شَرَابٌ وَّمِنۡهُ شَجَرٌ فِيۡهِ تُسِيۡمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا جس کو تم پیتے ہو، اور اسی سے درخت (بھی سیراب) ہوتے ہیں، جن میں تم مویشی چراتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا جس کو تم پیتے ہو اور اسی سے درخت (بھی سیراب ہوتے) ہیں جن میں تم مویشی چراتے ہو۔ وہ اس پانی سے تمہارے لیے فصل اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔ (النحل : 10، 11)

مشکل الفاظ کے معانی۔

تسیمون ؛ اس کا مادہ سوم ہے، سوم کا معنہ ہے جانوروں کو چرانا اور چگانا، اسی سے ماخوذ ہے الابل السائمۃ جنگل کی خود رو گھاس چرنے والے اونٹ جو بغیر اگائی ہوئی قدرتی گھاس چرتے ہون۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کا ذکر فرمایا تھا، ان کے ذکر سے ایک تو اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود سے اپنی الوہیت اور توحید پر استدلال فرمایا تھا اور دوسرے انسان کو یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حیوانوں میں انسان کے لیے کتنی نعمتیں رکھی ہیں اور اس جہان میں حیوانات کے بعد جس مخلوق کو شرف اور فضیلت حاصل ہے وہ نباتات ہیں سو اللہ تعالیٰ حیوانات کے ذکر کے بعد نباتات کا ذکر فرما رہا ہے۔

بارش کے پانی سے کھیتوں اور باغوں کی روئیدگی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا جس کو تم پیتے ہو اور اسی سے درخت ہیں جن میں تم مویشی شراتے ہو اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہم جو پانی پیتے ہیں، وہ سب بارش کا پانی تو نہیں ہوتا، کنووں چشموں اور دریاؤں سے حاصل شدہ پانی کو ہم زیادہ تر پیتے ہیں اور کھیت اور باغات بھی زیادہ تر دریاؤں اور نہروں کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دریاؤں اور نہروں کا پانی بھی بارش سے حاصل ہوتا ہے اور بارش کا پانی ہی زمین کے اندر اس کی تہہ میں چلا جاتا ہے جو کنووں اور چشموں سے نکالا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے پانی سے فصلوں اور باغات کے اگانے کا ذکر فرمایا ہے اس پانی سے جو روئیدگی اور سبزہ حاصل ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہی : ایک تو وہ خود رو گھاس اور خود رو درخت ہیں جو جنگلوں، میدانوں اور سبزہ زاروں میں ہیں جن میں مویشی جانور چرتے چگتے ہیں، اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا اور اسی پانی سے درخت ہیں جن میں تم مویشی چراتے ہو، اور روئیدگی کی دوسری قسم اناج اور غلہ کے لہلہاتے ہوئے کھیت ہیں اور زیتون، کھجور، انگور اور مختلف پھلوں کے باغات ہیں جن سے انسان اپنی غذا اور خوراک حاصل کرتے ہیں اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے۔ وہ اس پانی سے تمہارے لیے فصل اگاتا ہے اور ذیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل۔

زمین کی پیداوار میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر نشانی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک اس میں غور وفکر کرنے والے لوگوں کے لئیے نشانی ہے۔

زمین کی اس روئیدگی میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلیل ہے کیونکہ ایک دانہ یا بیج کو مٹی میں دبا دیا جاتا ہے پھر کچھ عرسہ گزرنے کے بعد اس دانہ میں زمین کے مرطوب اجزا سرایت کرجاتے ہیں، پھر وہ دانہ پھول جاتا ہے اور پھولنے کے بعد اوپر اور نیچے سے پھٹ جاتا ہے اور اس کے اوپر اور نیچے سے دوباریک کونپلیں نکلتی ہیں۔ اوپر والی کونپل زمین کا سینہ چیر کا باہر نکل آتی ہے اور نیچے والی کونپل زمین کے اندر نفوذ کرجاتی ہے پھر اویر کی جانب پہلے سرسبز پودا ہوتا ہے پھر ایک تناور درخت بن جاتا ہے اور زمین کے نیچے گہرائی میں جڑیں چلی جاتی ہی، درخت اوپر کو جاتا ہے جڑیں نیچے کو جاتی ہیں۔ درخت کا تنا بھی لکڑی ہے اور جڑیں بھی لکڑی ہیں اور ایک چیز کی طبیعت کا ایک تقاضا ہوتا ہے، پھر تنا اوپر کیوں جارہا ہے، جڑیں نیچے کیوں جارہی ہیں، معلوم ہوا کہ یہاں طبیعت کے تقاضے پر عمل نہیں ہورہا یہاں اس قادر قیوم، قہار مطلق اور صناع ازل کے حکم پر عمل ہورہا ہے، اس نے لکڑی کے جس حصہ کو اوپر جانے کا حکم دیا وہ بڑھتا ہوا اوپر چلا گیا اور اس نے لکڑٰ کے جس حصہ کو نیچے جانے کا حکم دیا وہ زمین کی تہوں کو چیرتا ہوا نیچے چلا گیا، پھر ہم دیکھتے ہیں اسی دانہ یا بیج سے شاخیں، پتے، کلیاں، پھول اور پھل نکل آتے ہیں، پھر ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، خوشبو مختلف ہوتی ہے، پھولوں اور پھلوں کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے، بیج ایک تھا ایک زمین میں بویا گیا ایک قسم کا پانی ملا، ایک سورج کی حرارت اور ایک چاند کی کرنوں سے اس بیج کو نشونما حاصل ہوئی، پھر اس میں یہ مختلف تاثیرات اور مختلف آثار کس کے کرنے سے وجود میں آئے، اگر ان آثار کا سبب سورج یا چاند ہے یا زمین یا بارش ہے تو وہ ایک ہی نوع کی چیزیں ہیں ان سے الگ الگ آثار کیوں ظاہر ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رنگ اور خوشبو اور ذائقہ اور تاثیر کا موجد ان میں سے کوئی چیز نہیں ہے، وہی ایک صناع مطلق اور قادر ازل ہے جس نے ایک ننھے سے بیج سے اتنے مختلف آثار پر مشتمل عظیم الشان درخت پیدا کردیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 10