أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل :19)

کافروں کو ان کے کفر کے باوجود نعمتیں عطا فرمانے کی توجیہ 

اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو اپنے ظاہری کفر کے علاوہ اپنے باطن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف طرح طرح کی سازشیں چھپائے رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ تمہارے ظاہری کفر کو بھی جانتا ہے اور باطنی سازشوں سے بھی باخبر ہے۔ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دہریوں اور مشرکوں اور نافرمانوں پر جو مسلسل نعمتوں کی بارش فرما رہا ہے اس سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کفر اور ان کی سرکشی کا علم نہیں ہے، وہ ظاہر اور چھپی ہوئی ہر بات کا جاننے والا ہے، اور ظلم اور سرکشی کے باوجود اس کا نعمتیں عطا فرمانا سرکشوں اور ظالموں کے حق میں استدراج ہے اور ان کو ڈھیل دینا ہے، اور اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے کسی بندہ کو دنیا ملے نہ آخرت، ان ظالموں نے اپنے ظلم اور سرکشی کی وجہ سے اپنی آخرت تو خود ضائع کردی تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ کم از کم یہ لوگ دنیا سے تو محروم نہ ہوں، اور اس میں مسلمانوں کے لیے یہ سوچنے کی چیز ہے کہ اللہ کے اوصاف اور اس کے اخلاق ایسے ہیں کہ وہ منکروں اور مخالفوں کو بھی نوازتا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ بھی اپنے دشمنوں کو معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں اور اللہ کے اخلاق سے متخلق ہوجائیں، اور اس آیت کا تیسرا محل یہ ہے کہ کفار بتوں کی پوجاپاٹ کرتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں حالانکہ وہ بت بول سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں نہ ان کو کسی چیز کے ظاہر کا علم ہے نہ باطن کا جبکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس سے ظاہر اور باطن کی کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 19