أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا‌ ۚ لَـكُمۡ فِيۡهَا دِفۡ ٴٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا ان میں تمہارے لیئے گرم کپڑے اور دوسرے فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا، ان میں تمہارے لیے گرم کپڑے اور دوسرے فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ اور ان میں تمہارے لیے حسن اور زیبائش ہے جب تم شام کو انہیں چرا کر واپس لاتے ہو اور جب صبح کو انہیں چراگاہ میں چھوڑتے ہو۔ اور وہ چوپائے تمہارا سامان لاد کر اس شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر مشقت کے خود نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا رب نہایت رحیم، بہت مہربان ہے۔ (النحل : 7 ۔ 5)

مشکل الفاظ کے معانی :

انعام : مویشی، بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ، مویشیوں کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاتا جب تک ان میں اونٹ نہ ہوں، انعام نعم کی جمع ہے، اصل میں نعم اونٹ کو کہتے ہیں، لیکن بھیڑ، بکری اور گائے وغیرہ پر بھی انعام کا اطلاق ہوتا ہے، عرب کے نزدیک چونکہ اونٹ بہت بڑی نعمت ہے اس لیے وہ اونٹ کو نعم کہتے ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص 64 ۔ 63)

دفء : جاڑے کی پوشاک، گرم کپڑے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے مویشی پیدا کیے اور ان کو تمہارے فوائد کے لیے مسخر کردیا، ان کے جسموں پر تمہارے گرم لباس کے لیے اون پیدا کیا اور ان میں اور فوائد بھی ہیں، تم ان کے دودھ سے غذا حاصل کرتے ہو، ان پر سواری کر کے سفر کرتے ہو اور ان پر اپنا سامان لاد کرلے جاتے ہو پھر ان جانوروں کی جو نسل چلتی ہے اس سے تمہارے مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اون کے لباس پہننے کا جواز :

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اون کا لباس پہننا جائز ہے، ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ سے پہلے جو رسول تھے مثلا حضرت موسیٰ انہوں نے اون کا لباس پہنا ہے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رات کے وقت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، آپ نے مجھ سے پوچھا : کیا تمہارے پاس پانی ہے میں نے کہا جی ہاں، آپ سواری سے اترے اور ایک طرف کو گئے حتی کہ رات کی سیاہی میں آپ چھپ گئے، پھر آپ آئے تو میں نے برتن سے آپ کے اوپر پانی ڈالا آپ نے اپنا چہرہ دھویا آپ نے اون کا ایک جبہ پہنا ہوا تھا آپ کے لیے اس کی آستینوں سے اپنی کلائیاں نکالنا مشکل ہوا حتی کہ آپ نے جبکہ کے نیچے سے اپنی کلائیاں نکال لیں۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 273، صحیح البخاری رقم الحدیث : 263)

جمال کا معنی اور مویشیوں کا جمال :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان مویشیوں میں تمہارے لیے جمال ہے، حدیث میں ہے اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 91) علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ بہت زیادہ حسن کو جمال کہتے ہیں، اور جمال کی دو قسمیں ہیں، ایک جمال وہ ہے جو اس کے نفس یا اس کے بدن یا اس کے افعال میں ہو، اور جمال کی دوسری قسم وہ حسن ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچائے، حدیث میں جو ارشاد ہے : اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے اس میں بھی اس امر پر متنبہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسروں تک خیر اور خوبی کو پہنچاتا ہے اور ان ہی لوگوں سے محبت کرتا ہے جو دوسرے لوگوں تک نیکیوں اور اچھائیوں کو پہنچائیں۔ (المفردات ج 1، ص 127، طبع مکہ مکرمہ)

علامہ قرطبی نے لکھا ہے جس چیز سے حسن اور زیبائش حاصل وہ جمال ہے اور جمال حسن کو کہتے ہیں، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ جمال جسمانی بناوٹ اور صورت میں بھی ہوتا ہے اور اخلاق باطنی اور افعال میں بھی ہوتا ہے، شکل و صورت کا جمال وہ ہے جس کو آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور دل میں وہ صورت نقش ہوجاتی ہے اور اخلاق باطنہ کا جمال یہ ہے کہ انسان کی صفات خوب صورت ہوں، اس میں علم اور حکمت ہو، عدل اور عفت (پاک دامنی) ہو وہ غصہ ضبط کرتا ہو اور ہر شخص کے ساتھ اچھائی کرتا ہو، اور افعال کا جمال یہ ہے کہ اس کے افعال سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہو اور وہ لوگوں کی مصلحتیں تلاش کرنے میں کوشاں رہتا ہو اور ان سے ضرر اور نقصان کو دور کرنے کے درپے رہتا ہو۔

مویشیوں کا جمال یہ ہے کہ ان کی جسمانی بناوٹ اور ان کی شکل و صورت دیکھنے میں اچھی لگتی ہو اور مویشیوں کی تعداد کا زیادہ ہونا بھی ان کے جمال میں داخل ہے کہ لوگ دیکھ کر یہ کہیں کہ یہ فلاں کے مویشی ہیں کیونکہ جب مویشی زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر چلتے ہیں تو اچھے لگتے ہیں، اسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ان میں تمہارے لیے حسن اور زیبائش ہے جب تم شام کو انہیں چرا کر واپس لاتے ہو اور جب صبح کو انہیں چراگاہ میں چھوڑتے ہو۔

بکریوں، گایوں اور اونٹوں کے مقاصد اور وظائف خلقت :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ چوپائے تمہارا سامان لاد کر اس شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر مشقت کے خود نہیں پہنچ سکتے تھے۔

اللہ سبحانہ نے مویشی پیدا کرنے کا بالعموم احسان فرمایا اور ان میں سے اونٹوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا کیونکہ وہ دوسرے جانوروں کی بہ نسبت باربرداری اور بوجھ اٹھانے کے زیادہ کام آتے ہیں، بکریوں کا دودھ دوہا جاتا ہے اور ان کو ذبح کر کے کھایا جاتا ہے اور بھیڑوں سے اون بھی حاصل کیا جاتا ہے اور ان کے چمڑے سے بہت کار آمد اور مفید چیزیں بنائی جاتی ہیں اور گائے اور بیلوں سے ان فوائد کے علاوہ ہل بھی چلایا جاتا ہے اور اونٹوں سے ان کے علاوہ ان پر بوجھ بھی لادا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص گائے کو لے کر جارہا تھا جس پر اس نے سامان لادا ہوا تھا، گائے نے اس کی طرف مڑ کر کہا میں اس لیے پیدا نہیں کی گئی لیکن میں ہل چلانے کے لیے پیدا کی گئی ہوں، لوگوں نے کہا سبحان اللہ اور انہوں نے تعجب اور خوف سے کہا کیا گائے نے کلام کیا، تب رسول اللہ نے فرمایا میں اور ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لے آئے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2388، السنن الکبری رقم الحدیث : 1414)

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ گائے کو اس لیے نہیں پیدا کیا گیا کہ اس کے اوپر سواری کی جائے یا اس پر سامان لادا جائے وہ صرف ہل چلانے، نسل بڑھانے ہم اس کا دودھ پینے ور اس کو ذبح کرکے اس کا گوشت کھانے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔

جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے کی ہدایت :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ مویشیوں پر سواری کر کے سفر کرنا اور ان پر سامان لادنا جائز ہے لیکن ان کی قوت برداشت سے زیادہ ان پر سامان نہ لادا جائے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانوروں کے ساتھ بھی نرمی اور ملائمت سے پیش آنے کا حکم دیا ہے، اور ان کے چارہ اور دانہ کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب تم فصلوں کے سرسبز اور زرخیز ہونے کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹوں کو بھی زمین کی پیداوار سے حصہ دو ، اور جب تم قحط کے ایام میں سفر کرو تو سفر جلدی طے کرو اور جب تم رات کے پچھلے حصہ میں ہو تو راستہ میں قیام کرنے سے احتراز کرو کیونکہ رات میں وہ زمین کیڑے مکوڑوں کی آماجگاہ ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 1926، السنن الکبری للنسائی، رقم الحدیث : 8814)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے کہ مسیب بن آدم بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت عمر بن الخطاب نے ایک شتربان کو مارا اور فرمایا اونٹ پر اس کی طاقت سے زیادہ سامان نہ لادا رکو۔

جانوروں کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک میں یہ بھی داخل ہے کہ جب وہ کسی جانور سے ساری عمر کام اور خدمت لیں اور جب وہ جانور بوڑھا ہوجائے اور کام کے قابل نہ رہے تو اس کی دیکھ بھال میں کمی نہ کریں جیسا کہ س حدیث میں ہے :

یعلی بن مرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تین چیزیں دیکھی ہیں جن کو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا آپ ایک عورت اور اس کے بیٹے کے پاس سے گزرے اس کے بیٹے پر جنون کی کیفیت تھی میں نے اس سے زیادہ جنون کسی میں نہیں دیکھا، اس عورت نے کہا یا رسول اللہ آپ میرے بیٹے کی حالت دیکھ رہے ہیں آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اس کے لیے دعا کروں، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر وہاں سے چلے گئے، آپ کے پاس سے ایک اونٹ گزراوہ اپنی گردن دراز کر کے آپ سے بڑبڑا رہا تھا، آپ نے فرمایا اس اونٹ کے مالک کو لاؤ وہ آیا تو آپ نے فرمایا یہ اونٹ کہہ رہا ہے میں ان کے گھر میں ُ یدا ہوا اور یہ مجھ سے کام لیتے رہے حتی کہ اب جب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو یہ مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، پھر آپ چلے گئے آپ نے دو الگ الگ درخت دیکھے، آپ نے مجھ سے کہا جاؤ ان درختوں سے جاکر کہو کہ آپس میں مل جائیں وہ درخت مل گئے، آپ نے قضا حاجت کی آپ نے مجھ سے فرمایا ان درختوں سے کہو کہ پھر الگ الگ ہوجائیں، پھر آپ چلے گئے، جب واپس اس بچہ کے پاس سے لوٹے، تو وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اس کی ماں نے چھ مینڈھے مہیا کیے تھے جس میں سے دو مینڈھے آپ کو ہدیہ کیے اور کہنے لگی کہ اس کے بچہ کو پھر جنون نہیں ہوا رسول اللہ نے فرمایا :

ما من شیء الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ الجن والانس۔ کافر جنات اور انسانوں کے سوا ہر چیز کو علم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ (المعجم الکبیر ج 22، ص 262 ۔ 261، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) 

حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی 774 ھ نے امام حاکم اور امام بیہقی کے حوالے اس حدیث کو اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی اسناد جید ہے ور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (البدایہ والنہایہ ج 4، ص 535 ۔ 534، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1418 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 5