أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَلۡقٰى فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِكُمۡ وَاَنۡهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ زمین تمہارے ساتھ (ایک طرف) جھک نہ جائے اور اس نے دریا اور راستے بنائے تاکہ تم سفر کرسکو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ زمین تمہارے ساتھ (ایک طرف) جھک نہ جائے اور اس نے دریا اور راستے بنائے تاکہ تم سفر کرسکو، اور راستوں میں نشانیاں بنائیں اور لوگ ستاروں سے سمت کا تعین کرتے ہیں۔ (النحل : 16 ۔ 15)

زمین پر پہاڑوں کا نصب کرنا اس کی حرکت کے منافی نہیں ہے 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان تمیدبکم اس کا معنی ہے کسی بڑی چیز کا ہلنا اور اس کا حرکت کرنا، اس آیت کا لفظی معنی اس طرح ہوا کہ اور اس نے زمین پر پہاڑوں کو اس لیے نصب کیا ہے تاکہ وہ ہلے اور حرکت کرے، حالانکہ مقصود یہ ہے کہ وہ نہ ہلے اور حرکت نہ کرے، اس لیے یہاں پر لفظ لا محذوف ہے، اس کی نظیر یہ آیت ہے :

یبین اللہ لکم ان تضلوا (النساء : 186) اس کا لفظی معنی ہے : اللہ تمہارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ ہو حالانکہ مقصود یہ ہے کہ تاکہ تم گمراہ نہ ہو، یہاں بھی اسی طرح لا محذوف ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور اس نے زمین میں رواسی کو ڈال دیا، رواسی کا لفظ رسو سے بنا ہے۔ 

امام خلیل بن احمد الفراہیدی المتوفی 175 ھ لکھتے ہیں :

رسا یرسو کا معنی ہے کسی شخص کو محکم اور مضبوط کرنا، رسوت الحدیث کا معنی ہے میں نے اپنی بات کو پختہ کیا، رسا الجبل کا معنی ہے پہاڑ کی جڑ زمین پر ثابت ہے، اور رست السفینۃ کا معنی ہے جہاز لنگر انداز ہوا اور اب ادھر ادھر ڈولتا نہیں ہے۔ (کتاب العین ج 1، ص 678، مطبوعہ ایران، 1414 ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

رسا کا معنی ہے کسی چیز کا ثابت ہونا، قدور راسیات (سبا :13) کا معنی ہے چولہوں پر جمی ہوئی دیگیں، اور رواسی شامخات (المرسلات :27) کا معنی ہے مضبوط پہاڑ۔ (المفردات ج 1، ص 259، مطبوعہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھاری پہاڑ نصب کردیئے تاکہ زمین اپنے مرکز پر قائم رہے اور اپنے محور پر گردش کرتی رہے اور اس سے ادھر ادھر نہ ہٹ سکے۔

زمین، چاند اور سورج کی حرکت کے حساب سے سائنس دان یہ متعین کرتے ہیں کہ چاند گرہن کب ہوگا اور سورج کو گرہن کب لگے گا، اور ان کا حساب اس قدر صحیح ہوتا ہے کہ وہ کئی مئی مہینے اور بعض اوقات کئی کئی سال پہلے بتا دیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو اتنے بج کر اتنے منٹ پر سورج یا چاند گرہن ہوگا اور اتنی دیر تک گرہن لگا رہے گا، اور فلاں ملک میں یہ گرہن اتنے وقت پر دکھائی دے گا اور فلاں ملک میں یہ گرہن اتنے وقت پر دکھائی گے گا، اور ان کا یہ حساب اتنا حتمی اور درست ہوتا ہے کہ آج تک اس میں ایک سکینڈ کا بھی فرق نہیں پڑا۔ سورج گرہن کا معنی ہے زمین اور سورج کے درمیان چاند کے حائل ہوجانے سے سورج کا جزوی یا کلی طور پر تاریک نظر آنا، عربی میں اس کو کسوف شمس کہتے ہیں۔ (اردو لغت ج 12، ص 155)

ابھی چند ماہ پہلے سورج کو گرہن لگا، اور مغرب سے کچھ دیر پہلے سورج تاریک ہونا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ سورج مکمل تاریک ہوگیا اور تقریبا پانچ منٹ تک تاریک رہا۔ ہم نے کراچی میں اس کا مشاہدہ کیا، اور سائنس دانوں نے کئی ماہ پہلے بتادیا تھا کہ کراچی میں فلاح تاریخ کو اتنی دیر کے لیے اتنے بج کر اتنے منٹ پر سورج مکمل تاریک ہوجائے گا، سائنس دان نہ جادوگر ہیں نہ غیب دان ہیں ان کی یہ پیش گوئی ان کے حساب پر مبنی ہے، وہ زمین، چاند اور سورج کی حرکات کا مکمل حساب رکھتے ہیں اور ان کی رفتار کا بھی صحیح حساب رکھتے ہیں، اس لیے ان کو معلوم ہوتا ہے کہ چاند کس تاریخ کو اور کس وقت زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوگا اور کتنی دیر حائل رہے گا اور انہیں تمام دنیا کے نظام الاوقات کا بھی علم ہوتا ہے اس لیے وہ بہت پہلے اپنے حساب سے بتا دیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے سورج کو گرہن لگے گا اور اتنی دیر رہے گا، اسی طرح چاند گرہن کا معنی ہے کہ چاند اور سورج کے درمیان زمین حائل ہوجائے جس کی وجہ سے چاند جزوی یا کلی طور پر تاریک ہوجائے، ابھی چند ہفتے پہلے چاند کو گرہن لگا اور پاکستان میں رات کو دس بجے چاند مکمل طور پر تاریک ہوگیا تھا، اور سائنس دانوں نے کافی پہلے بتادیا تھا کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے چاند گرہن لگے گا اور فلاں فلاں ملک میں اتنے اتنے بجے نظر آئے گا اور اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو زمین کی حرکت اور اس کی رفتار کا علم ہوتا ہے اور وہ اس حساب سے جان لیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے زمین چاند اور سورج کے درمیان حائل ہوجائے گا اور اتنی دیر تک حائل رہے گی، اور تدریجا حائل ہوگی اور کس وقت مکمل حائل ہوجائے گی۔ قدیم خیال کے علما جو زمین کو ساکن مانتے ہیں اور اس کی حرکت کے قائل نہیں ہیں اور وہ یہ نہیں مانتے کہ زمین اور چاند کی حرکت اور اس کی رفتار کا سائنس دان حساب رکھتے ہیں وہ اس کی کیا توجیہ کریں گے کہ سائنس دان ہفتوں اور مہینوں پہلے سورج اور چاند کے گرہن ہونے اور ان کے نظام لاوقات کی بالکل ٹھیک پیش گوئی کرتے ہیں اور آج تک ان کی پیش گوئی غلط نہیں ہوئی، کیا وہ سائنس دانوں کو جادوگر یا غیب داں گردانتے ہیں۔

اس دور میں سائنس کی جتنی ایجادات ہیں ہمارے علما ان سے استفادہ کرتے ہیں، گھڑیوں کے اوقات سے نماز پڑھاتے ہیں، مسجدوں اور گھروں میں بجلی کی روشنی اور برقی پنکھے لگواتے ہیں، ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں، لاؤڈ اسپیکر پر تقریریں کرتے ہیں اور نمازیں پڑھاتے ہیں، کاروں، ٹرینوں اور طیاروں میں سفر کرتے ہیں اس کے باوجودوہ سائنسی علوم کی مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ سائنس کا علم کسی فکر اور نظریہ سے مستفاد نہیں ہوتا، سائنس کا علم مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل ہوتا ہے، یہ تمام ایجادات مشاہدہ اور تجربہ سے وجود میں آئی ہیں، اسی طرح زمین اور چاند کی حرکت اور ان کی رفتار کا تعین بھی انہوں نے رصد گاہوں میں مشاہدات اور آلات کے ذریعہ کیا ہے، قدیم فلسفہ کی طرح یہ صرف فکر اور نظریہ کا معاملہ نہیں ہے، قرآن مجید رشد و ہدیات کی کتاب ہے، فلسفہ اور سائنس کی کتاب نہیں ہے، قرآن کریم نے اس سے بحث نہیں کی کہ زمین ساکن ہے یا متحرک ہے کیونکہ دنیا میں صالح حیات اور خروی فلاح کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ زمین حرکت کرتی ہے یا حرکت نہیں کرتی، اس لیے علما کو چاہیے کہ زمین کی حرکت اور سکون کو دین اور اعتقاد کا مسئلہ نہ بنائیں۔ بعض قدیم الخیال علما یہ کہنے سے باز نہیں آتے کہ قرآن اور حدیث میں ہے کہ زمین ساکن ہے اور تعلیم یافتہ لوگوں اور ترقی یافتہ اقوام پر اس سے اسلام کے متعلق منفی اثر پڑتا ہے، ایسا کہنا کوئی اسلام کی خدمت اور دین کی تبلیغ نہیں ہے بلکہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا ذریعہ ہے اور دوسری اقوام کو اسلام پر ہنسنے کا موقع فراہم کرنا ہے، اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے، بہرحال اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کو نصب کردیا تاکہ وہ اپنے مدار سے ادھر ادھر نہ ہو، یہ آیت زمین کی گردش کے منافی نہیں ہے اور نہ زمین کے سکون کو مستلزم ہے۔

دنیا اور آخرت میں انسان کی ہدایت کے انتظامات 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور راستوں میں نشانیاں بنائی اور لوگ ستاروں سے سمت کا تعین کرتے ہیں۔

راستوں میں نشانیاں بنانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام راستے ایک جیسے سیدھے اور سپاٹ نہیں ہیں، اور پوری زمین کو ایک ہموار میدان نہیں بنایا، بلکہ کہیں انواع اقسام کے جنگل ہیں، کہیں اونچی نیچی پگڈنڈیاں ہیں، مختلف طرح کے چھوٹے بڑے پہاڑوں کا سلسلہ ہے، کہیں دریا ہیں کہیں میدان ہیں، کہیں چشمے ہیں اور کہیں آبشار ہیں، اور یہ سب اس لیے ہیں کہ تمہیں راستوں اور مقامات کی نشانیاں متعین کرنے میں آسانی ہو۔ برطانیہ میں تمام مکان ایک ڈئزائن اور ایک طرح کے قطار در قطار بنے ہوئے ہوتے ہیں، کوئی مہمان وہاں جائے اور اس کو مکان نمبر بھول جائے تو وہ مطلوبہ مکان تک نہیں پہنچ سکتا، میرے ساتھ خود ایک مرتبہ برسٹل میں یہ واقعہ ہوچکا ہے، غرض اللہ تعالیٰ نے راستوں اور گزر گاہوں میں ایسی قدرتی علامتیں بنادیں ہیں جن سے انسان اپنی مطلوبہ جگہ کی نشانیاں متعین کرسکتا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور لوگ ستاروں سے سمت کا تعین کرتے ہیں، اس نعمت کی قدر انسان کو اس وقت ہوتی ہے جب اس کا گزر کسی لق و دق ریگستان سے ہو، اس وقت وہ صرف ستاروں سے اپنی منزل کا تعین کرتا ہے یا سمندری سفر میں انسان کو اس عظیم الشان نعمت کا احسان ہوتا ہے کیونکہ وہاں پر اور کوئی علامت اور نشانی نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی منزل کی شناخت کرسکے، سو جہاں راستوں کا تعین کرنے کے لیے اور منزل کی شناخت کے لیے کوئی قدرتی علامت نہیں ہوتی ایسے صحراؤں اور سمندروں میں اللہ تعالیٰ نے مسافروں کی رہنمائی کے لیے آسمان پر ستاروں کا جال بچھا رکھا ہے اور قدیم زمانے سے لے کر آج تک ان ہی ستاروں کے سہارے مسافر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔

یہاں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو دنیاوی سفر میں اس کی رہنمائی کے اتنے انتظام کر رکھے ہیں، تو وہ اس کے آخرت کی طرف سفر میں اس کی رہنمائی سے کب غافل ہوسکتا ہے، اس نے سفر آخرت میں انسان کی رہنمائی کے لیے انبیا اور رسل بھیجے، کتابوں اور صحیفوں کو نازل کیا، ہر دور میں مجددین اور نیک انسانوں کو پیدا کیا جو انسانوں کو بھلائی اور برائی کے راستوں سے مطلع کرتے رہتے ہیں اور اس کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور اس کو برائی سے متنفر کرتے رہتے ہیں، بلکہ خود انسان میں عقل و خرد رکھی جو اس کو برے کاموں سے روکتی ہے، اس کے اندر ضمیر کی طاقت پیدا کی جو اس کو برائی پر ملامت اور سرزنش کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رحم و کرم سے ہماری دنیا اور آخرت کی رہنمائی کے لیے ذرائع وسائل مہیا کردیے ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہم خود ان ذرائع اور وسائل سے استفادہ نہ کریں، اور نیکی کے بجائے بدی اور ہدایت کے بجائے گمراہی کو اختیار کرلیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 15