أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ مَّاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ‌ۙ قَالُـوۡۤا اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہاں ہیں۔ تاکہ یہ قیامت کے دن اپنے (گناہوں کے) مکمل بوجھ اٹھائیں، اور ان لوگوں کے بوجھ بھی جن کو یہ بغیر علم کے گمراہ کر رہے ہیں۔ سنو ! وہ کیسا برا بوجھ ہے جس کو یہ اٹھا رہے ہیں۔ (النحل : ٢٤، ٢٥) 

کافروں کو اپنے پیروکاروں کے کفر پر عذاب ہونے کی توجیہ :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور بت پرستوں کے مذہب کا رد فرمایا، اور اب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں مشرکین جو شبہات پیش کرتے تھے ان کا ازالہ فرما رہا ہے۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت پر قرآن مجید کو بطور معجزہ پیش فرمایا، مشرکین نے اس پر یہ شبہ پیش کیا کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں، امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ کفار مکہ، مکہ کے راستوں میں بیٹھ جاتے تھے اور باہر سے آنے والے قرآن عظیم کے متعلق سوال کرتے تو وہ کہتے کہ اس میں تو پہلے لوگوں کے قصہ ہیں، (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٦٢٧٧)

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب مشرکین لوگوں کو قرآن عظیم کے متعلق گمراہ کرتے ہیں اور ان کو اسلام لانے سے روکتے ہیں تو ان پر ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے کے گناہ کا بوجھ بھی ہوگا اور جو لوگ ان کے گمراہ کرنے کی وجہ سے اسلام نہیں لائیں گے ان کے کفر کے گناہ کا بوجھ بھی ان پر ہوگا، کیونکہ جو شخص کسی کے گناہ کا سبب ہوتا ہے تو اس کے گناہ کا بوجھ بھی اس شخص پر ہوتا ہے اور اس سے دوسرے شخص کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی، کیونکہ پہلے شخص کے دو جرم ہیں ایک تو اس نے خود گناہ کا کام کیا اور دوسرا جرم یہ ہے کہ اس نے دوسرے لوگوں کو اس گناہ کی رہنمائی کی، سو اس کو گناہ کے کام کا عذاب بھی ہوگا اور گناہ کا راستہ دکھانے کا بھی عذاب وہ گا اور جتنے لوگوں کو وہ گناہ کا راستہ دکھائے گا ان سب کے گناہوں کے سبب بنے کا اس کو عذاب ہوگا اور اس کی رہنمائی سے جو گناہ کریں گے ان کو صرف اپنے گناہ کا عذاب ہوگا اس لیے اب یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ دوسروں کے فعل کا اس کو عذاب کیوں ہوگا کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

ولا تزر وازرۃ وزر اخری۔ (الزمر : ٧) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

جو شخص کسی کام کا سبب ہو تو اس سبب سے جو لوگ بعد میں اس کام کو کریں گے ان کے عمل میں اس شخص کا بھی حصہ ہوگا جو اس کام کا سبب تھا خواہ وہ کام اچھا ہو یا برا اس کے متعلق حسب ذیل احایث ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا آدم کے پہلے بیٹے پر اس کا خون ہوگا کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٧٧، سنن الترمزی، رقم الحدیث : ٣٦٧٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٩٨٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٦١٦، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٤٢ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اس کو اس کی تباع کرنے والوں کے اجور کی مثل اجر بھی ملے گا اور ان کے اجور میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے گمراہی کی دعوت دی اس ا کے اوپر اس کی اتباع کرنے والوں کے گناہوں کی مثل گناہ ہوں گے اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٧٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٥٤، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٦٠٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٢٠٦، مسند احمد ج ٢ ص ٣٩٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٧٤)

اسلام میں کسی نیک کام کی ابتدا کرنے کا استحسان ور استحباب :

حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ دیہاتی آئے جنہوں نے اون کے موٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے، رسول اللہ نے ان کی بدحالی کو دیکھا وہ فقر میں مبتلا تھے، آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے پر برانگیختہ کیا، لوگوں کو صدقہ کرنے میں کچھ دیر ہوئی حتی کہ آپ کے روئے مبارک پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے، پھر انصار میں سے ایک شخص چاندی کی ایک تھیلی لے کر آیا، پھر دوسرا شخص آیا، پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا، حتی کہ آپ کے چہرے مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے، پھر رسول اللہ نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کسی نیک کام کے طریقہ کی ابتدا کی پھر اس کے بعد نیک کام پر عمل کیا گیا تو اس نیک کام پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور ان عمل کرنے والوں کے اجور میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اور جس شخص نے اسلام میں کسی برے کام کی ابتدا کی اور اس کے بعد برے کام پر عمل کیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں ان بعد والوں کے گناہوں کو بھی لکھا جائے گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم، کتاب العلم، رقم حدیث الباب : ٩٥، رقم الحدیث المسلسل بلا تکرار ٢٦٧٤، رقم الحدیث بالتکرار : ٦٦٧٤)

علامہ یحییٰ بن شرف نوووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

یہ دنوں حدیثیں اس مفہوم میں صڑیح ہیں کہ نیک کاموں کی ابتدا کرنا مستحب ہے اور برے کاموں کی ابتدا کرنا حرام ہے اور جو شخص ابتدا کوئی نیک کام کرے یا کسی نیک کام کے طریقہ کو ایجا کرے خواہ وہ علم کی تعلیم ہو یا عبادت یا ادب کا کام ہو یا اس کے سوا کوئی چیز ہو تو اس کو اپنے متعبین کی نیکیوں کا اجر بھی ملے گا اور جو شخص کسی برے کام کے طریقہ کی ابتدا کرے گا تو اس کو اپنے پیروکاروں کے بارے کاموں کا بھی عذاب ہوگا۔ (صحیح مسلم، بشرح النووی، ج ١٠، ص ٦٧٥٠، مطبوعہ مکتابہ نزار، مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

عبادت میں کسی نیک کام کو ایجاد کرنے کی مثال یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال سے فرمایا : اے بلال ! یہ بتاؤ کہ تم نے اسلام میں ایسا کون سا عمل کیا ہے جس کے ا جر کی تم کو سب سے زیادہ توقع ہے۔ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہاری جوتیوں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلال نے کہا میرے نزدیک میرے جس عمل کے اجر کی زیادہ توقع ہے وہ یہ ہے کہ میں دن اور رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جتنی نماز میرے لیے مقدر کی گئی ہے میں وہ نماز پڑھتا ہوں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٤٩، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٤٥٨، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٨٢٣٦)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اپنے اجتہاد سے نفلی عبادت کا وقت معین کرنا جازئ ہے، کیونکہ حضرت بلال نے اپنے اجتہاد سے ہر وضو کے بعد نماز پڑھنے کا وقت معین فرمایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تصویب اور تصحیح فرمائی، امام ابن جوزی نے فرمایا اس حدیث میں اس پر ترغیب دی ہے کہ ہر وضو کے بعد نماز پڑھی جائے تاکہ وضو اپنے مقصود سے خالی نہ رہے اور مہلت نے کہا اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ بندہ اپنے جس عمل کو مخفی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس عمل پر بہت عظیم جزا عطا فرماتا ہے۔ اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ صالحین کو اللہ تعالیٰ جن اعمال صالحہ کی ہدایت دیتا ہے ان سے ان اعمال کے متعلق سوال کرنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اس عمل میں ان کی اقتدا کرسکیں۔ (فتح الباری ج ٣، ص ٣٤، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

ہر وضو کے بعد نماز پڑھنے کو سنت بلال کہتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تحسین فرمائی اور قیامت تک جتنے مسلمان ہر وضو کے بعد نماز پڑحنے کو معمول بنائیں گے اور ان کے اجر وثواب سے حضرت بلال کو حصہ ملتا رہے گا۔ اس طرح حضرت عمر نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کے طریقہ کی ابتدا کی اور قیامت تک جتنے مسلمان جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے رہیں گے ان کے ان اعمال سے حضرت عمر کو حصہ ملتا رہے گا۔

اسی طرح مسلمانوں نے میلاد النبی کی محافظ منعقد کرنے کا طریقہ شروع کیا اور ان محافل میں آپ کے فضائل اور محاسن اور آپ کی سرت طیبہ کا بیان کرنے کا اہتمام کیا اور ادب اور تعظیم سے کھڑے ہو کر آپ پر صلوۃ وسلام پڑھنے کا طریقہ شروع کیا، لا ریب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، خلفائے راشدین اور اخیار تابعین کے دور میں یہ طریقہ مروج نہ تھا لیکن یہ تمام افعال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور تکریم پر دلالت کرتے ہیں اور ہر وہ کام جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور اجلال پر دلالت کرتا ہو اس کا کرنا مستحسن اور باعث ثواب ہے۔ خواہ وہ نیا کام ہو۔ 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں :

جب انسان مدینہ کے قریب پہنتے تو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے یا وضو کرے اور غسل کرنا افضل ہے اور صاف ستھرے یا کئے کپڑے پہنے اور نئے کپڑے پہننا افضل ہے، اور بعض مسلمان مدینہ کے قریب پہنچ کر پیدل چلنا شروع کردیتے ہیں حتی کہ پیدل چلتے ہوئے مدینہ میں داخل ہوتے ہیں یہ مستحسن ہے اور ہر وہ کام جس میں زیادہ ادب اور زیادہ اجلال ہو وہ مستحسن ہے۔ (فتح القدیر ج ٣، ص ١٦٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا جس کام کو مسلمانوں نے اچھا سمجھا وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور جس کام کو مسلمانوں نے برا سمجھا وہ اللہ کے نزدیک برا ہے، اور تمام مسلمانوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنائیں (حافظ ابو عبداللہ حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حافظ ذہبی نے بھی یہ لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے) (المستدرک ج ٣، ص ٧٨، ٧٩، مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 24