أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِهٖؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا اور (تمام) ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں، بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا، اور (تمام) ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں، بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔ اور اس نے تمہارے لیے جو گوناگوں رنگوں کی چیزیں زمین میں پیدا کی ہیں، بیشک ان میں نصیحت حاصل کرنے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانی ہے۔ (النحل : 12، 13)

سورج اور چاند اور دن اور رات کے تواتر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں :

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اے لوگو ! تم پر جن نعمتوں کا پہلے ذک کیا ہے ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا تم پر یہ انعام ہے کہ اس نے دن اور رات کو تمہارے کام میں لگا دیا دن کو اس لیے بنایا کہ تم اس میں کاروبار حیات کرو اور تلاش روزگار کے لیے سعی کرو اور رات اس لیے بنائی کہ تم اس میں آرام کرو۔ فرض کیجیے اگر مسلسل دن ہوتا تو لوگ آرام کے ایک لمحے کے لیے بھی ترس جاتے اور اگر مسلسل رات ہوتی تو لوگوں کو کام کاج کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے اور رزق فراہم کرنے کے مواقع میسر نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا الخ (آپ کہیے یہ بتاؤ اگر اللہ قیامت تک کی رات بنا دیتا تو اللہ کے سوا کوئی اور خدا تھا جو تمہارے پاس دن کی روشنی لے آتا ؟ سو کیا تم (غور سے) نہیں سنتے۔ آپ کہیے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ قیامت تک کا دن بنا دیتا تو اللہ کے سوا کوئی خدا تھا جو تمہارے پاس رات کو لے آتا جس میں تم آرام کرتے ؟ سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو، اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل (روزگار) تلاش کرو، اور تاکہ تم (اس نعمت پر) شکر ادا کرو۔ (القصص :71 تا 73)

اور اللہ کی تم پر یہ نعمت بھی ہے کہ اس نے سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا، ایک دن میں سورج کے طلوع اور غروب کے دورانیہ سے تم اپنے کام کاج اور نمازوں کے اوقات معین کرتے اور روزے کے سحر اور افطار کو معین کرتے ہو اور چاند کے دکھائی دینے اور اس کے چھپنے سے تم مہینوں کا تعین کرتے ہو۔ رمضان، عید الفطر، عید الاضحی، حج اور قربانی کے مہینوں اور تاریخوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے، نیز سورج کی گردش سے مختلف موس وجود میں آتے ہیں اس کی حرارت سے کھیتیاں اور پھل پکتے ہیں، سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بارشیں ہوتی ہیں اور چاند کی کرنوں سے پھلوں میں ذائقہ پیدا ہوتا ہے اور چاند کے گھٹنے بڑھنے سے سمندر میں مدو جزر ہوتا ہے، غرض سورج اور چاند میں اللہ تعالیٰ کی بہت نعمتیں ہیں۔

سورج اور چاند سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر استدلال 

اور سورج اور چاند میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کی نشانی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سورج اور چاند ایک مخصوص نظام کے تحت گردش کر رہے ہیں، وہ ایک مخصوص جانب سے طلوع کرتے ہیں اور مخصوص جانب میں غروب ہوجاتے ہیں، ان کو اس کام پر کس نے لگایا ہے اور کس نے ان کو اس نظام کا پابند کیا ہے، کسی بت نے، کسی انسان نے، کسی جانور نے، کسی درخت نے، کسی دیوی یا دیوتا نے، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں حادث اور فانی ہیں، ان سے پہلے بھی سورج اور چاند اسی طرح گردش کرتے رہے تھے اور ان کے بعد بھی اسی طرح گردش کرتے رہے، اس سے معلوم ہوا کہ سورج اور چاند کا خالق اس کائنات میں سے کوئی چیز نہیں ہے بلکہ ان کا خالق اس کائنات سے باہر کوئی ہستی ہے اور وہ وحد ہے اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو گردش ایک طرز اور ایک نمط پر نہ ہوتی اور ان کے طلوع اور غروب کی ایک جہت نہ ہوتی اس لیے سورج اور چاند کا خالق ایسی ذات ہے جو اس کائنات سے خارج ہے اور واحد ہے، اور اس کا وجود واجب اور قدیم ہے، کیونکہ اگر وہ ممکن اور حادث ہو تو وہ اپنے وجود میں کسی علت کا محتاج ہوگا، اور یہ سلسلہ کسی ایسی ذات پر منتہی ماننا ہوگا جو سب کی علت ہو اور اس کی کوئی علت نہ ہو، وہ واجب اور قدیم ہو اور حادث نہ ہو، وہی ساری کائنات کا خدا ہے، سب کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے اور وہی سب کی عبادت کا مستحق ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس نے تمہارے لیے جو گوناگوں رنگوں کی چیزیں زمین میں پیدا کی ہیں، بیشک ان میں نصیحت حاصل کرنے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانی ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے انواع و اقسام کے جانور اور رنگ برنگے پرندے، درخت، پھول، پھل اور پودے پیدا کیے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی بہت نعمتیں ہیں جن کا تم کو شکر کرنا چاہیے، اور اگر تم غور کرو تو ان میں اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت اور اس کی وحدت کی بہت نشانیاں ہیں۔

ان آیتوں کی تقریر بھی اسی طرح ہے جس طرح ہم نے اس سے پہلے دو آیتوں کی تقریر کی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 12