أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعَلَى اللّٰهِ قَصۡدُ السَّبِيۡلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٌ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدٰٮكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ۞

ترجمہ:

اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے، اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو (جبرا) ہدایت دے دیتا۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو (جبرا) ہدایت دے دیتا۔ (النحل :9)

لوگوں کو جبرا ہدایت یافتہ بنانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم سیدھے راستے کے بیان کو اپنے ذمہ لے لیا ہے، وہ رسولوں اور نبیوں کو بھیج کر اور کتابوں اور صحائف کو نازل کر کے اور براہین اور دلائل قائم کر کے سیدھا راستہ بیان فرماتا ہے، اور جو شخص سیدھا راستہ حاصل کرنے کا ارادہ کرے اور نیک اعمال کا قصد کرے اس کے لیے نیک اعمال پیدا فرما دیتا ہے، اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں جن پر چلنے سے ہدایت ھاصل نہیں ہوتی اس ٹیڑھے راستہ کی دو تفسیریں ہیں۔

(١) کافروں کی مختلف ملتیں، یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت۔

(٢) اہل الاہواء اور اہل البدعات، جنہوں نے محض اپنی خواہشات سے نئے نئے مسالک بنا لیے ہیں جن کی قرآن عظیم اور احادیث صحیحہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔

حضرت ابن عباس نے کہا جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے ایمان کے طریق آسان کردیتا ہے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے ایمان لانا اور اس کے طریقوں پر عمل کرنا دشوار کردیتا ہے، حضرت ابن عباس کے اس قول کا معنی یہ ہے کہ جو شخص ایمان کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایمان لانے کے راستے آسان کردیتا ہے اور جو شخص کفر اور گمراہی کو اختیار کرتا ہے اس کے لیے کفر اور گمراہی کو پیدا کردیتا ہے، وہ جبرا کسی کو مسلمان نہیں بناتا اسی لیے فرمایا : اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو (جبرا) ہدایت دے یتا لیکن لوگوں کو جبرا ہدایت یافتہ بنانا اس کی حکمت کے خلاف ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 9