أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقِيۡلَ لِلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا مَاذَاۤ اَنۡزَلَ رَبُّكُمۡ‌ؕ قَالُوۡا خَيۡرًاؕ لِّـلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ‌  ؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ ‌ ؕ وَلَنِعۡمَ دَارُ الۡمُتَّقِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور متقین سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے، انہوں نے کہا اچھا (کلام) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے، اور آخرت کا گھر سب سے اچھا ہے اور بیشک متقین کا گھر کیا ہی اچھا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور متقین سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا اچھا (کلام) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے اور آخرت کا گھر سب سے اچھا ہے اور بیشک متقین کا گھر کیا ہی اچھا ہے۔ جن میں وہ داخل ہوں گے وہ دائمی جنتیں ہیں، ان کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، ان کے لیے اسمیں وہ سب کچھ ہے جس کی وہ خواہش کریں گے، اللہ متقین کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔ ان (متقین) کی جب فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو اس وقت وہ پاکیزہ ہوتے ہیں، فرشتے کہتے ہیں تم پر سلام ہو تم جنت میں داخل ہوجاؤ ان کاموں کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔ (32 ۔ 30)

آیات ساقبہ سے ارتباط :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے احوال بیان فرمائے تھے جن سے جب پوچھا جاتا تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو وہ کہ تے کہ پہلے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہی، اور فرمایا وہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور فرمایا کہ فرشتے ان کی روحیں اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں اور فرمایا کہ وہ آخرت میں اسلام کا اظہار کریں گے، لیکن اس وقت ان کا اسلام مقبول نہیں ہوگا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ مومنوں کا ذکر فرما رہا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہیں گے اچھا کلام نازل کیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں کیا کیا درجات تیار فرمائے ہیں تاکہ کافروں کی وعید کے ساتھ مومنوں کے وعد اور ان کی بشارت کا بھی متصل ذکر ہو۔

امام رازی کے نزدیک متقی کا مصداق اور بحث و نظر :

اس آیت میں فرمایا ہے اور متقین سے کہا گیا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے، تقوی کا معنی ہے کسی چیز کو ترک کرنا اور اس سے بچنا۔ امام رازی کی تحقیق یہ ہے کہ متقی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام حرام کاموں سے مجتنب ہو اور تمام نیک کاموں کو کرنے والا ہو ہرچند کہ کامل متقی وہی ہوتا ہے، بلکہ اس آیت میں متقی سے مراد وہ شخص ہے جو شرک سے مجتنب ہو اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان اور یقین رکھتا ہو۔ امام رازی کی دلیل یہ ہے کہ جب ہم کسی شخص کو قاتل یا ضارب کہتے ہیں تو اس کا معنی یہ نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں کا قتال ہو یا دنیا کے تمام انسانوں کو مارنے والا ہو، بلکہ جس شخص نے کسی ایک کو بھی قتل کردیا وہ قاتل کہلائے گا اور جس نے کسی ایک شخص کو بھی مارا وہ ضارب کہلائے گا، اسی طرح جو شخص تقوی کے افراد میں سے کسی ایک فرد کے ساتھ متصف ہوگیا وہ متقی ہے، مگر اس پر ہمارا اجماع ہے کہ تقوی کے لیے کفر اور شرک سے اجتناب ضروری ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس قید پر کسی اور قید کا اضافہ نہ کیا جائے، کیونکہ مطلق کو مقید کرنا خلاف اصل ہے، لہذا مقید میں زیادہ قیود کا اضافہ بھی خلاف اسل ہے اس لیے متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر اور شرک سے مجتنب ہوں اور اللہ اور رسول پر ایمان لے آئیں، اور اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام برے کاموں سے مجتنب ہوں اور اللہ اور رسول پر ایمان لے آئیں اور اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام برے کاموں سے مجتنب ہوں اور تمام نیک کاموں سے متصف ہوں، نیز اللہ تعالیٰ نے متقین کا ذکر کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہوں جو کفر اور شرک سے مجتنب ہوں۔ (تفسیر کبیر ج ٧، ص ٢٠٠، مطبوعہ دار الفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)

ہماری رائے یہ ہے کہ جو لوگ کفر اور شرک سے مجتنب ہوں اور اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہوں اور ان میں برائیوں سے اجتناب اور نیکیوں سے اتصاف کی اور قیود کا لحاظ نہ کیا جائے تو ان پر مومنین کا اطلاق کردینا کافی ہے، لیکن جب ان پر متقین کا اطلاق کیا جائے گا تو اس میں مزید قیود کا اضافہ کرنا اور تقوی کے مزید افراد کا بھی لحاظ کرنا ہوگا ورنہ پھر محض مومنین اور محض متقین میں کوئی فرق نہیں رہے گا، امام رازی نے اس سلسلہ میں قاتل اور ضارب کی جو مثال دی ہے وہ صحیح نہیں ہے، اس مقام پر عالم اور مفتی کی مثال درست رہے گی، عرف میں اس شخص کو عالم نہیں کہتے جو کو صرف ایک مسئلہ کا علم نہ اس شخص کو جسے تمام مسائل کا علم ہو بلکہ جس شخص کو قابل ذکر اور قابل شمار مسائل کا علم ہو اس کو عالم کہتے ہیں، اسی طرح اس کو مفتی نہیں کہتے جو کسی کو ایک مسئلہ بتادے نہ اس کو مفتی کہتے ہیں جو سارے جہان کے مسائل بلکہ جو قابل ذکر اور قابل شمار مسائل کا حل بتائے اس کو مفتی کہتے ہیں، اسی طرح صرف ایک بار کپڑا پیچنے والے کو بزاز اور صرف ایک بار جوتی مرمت کرنے والے کو خصاف (موچی) اور صرف ایک بار کپڑا دھونے والے کو قصار (دھوبی) نہیں کہتے اسی طرح اس شخص کو متقی نہیں کہا جائے گا جو کفر اور شرک سے اجتناب کر کے کلمہ پڑح لے اور بس ! بلکہ اس شخص کو متقی کہا جائے گا جو کفر اور شرک سے مجتنب ہو، اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور تمام فرائض اور واجبات کو ادا کرے اور بشری تقاضے سے اگر اس سے فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہوجائے تو وہ اس کا اتدارک اور تلافی کرلے اور اگر انسانی کمزوری اور نفس امارہ کی لغزش سے وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوجائے تو اس پر نادم ہو اور توبہ استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا امیدوار رہے، تقوی کے مفہوم میں صرف کفر اور شرک سے اجتناب داخل نہیں ہے بلکہ نفسانی خواہشوں سے بچنا بھی تقوی کی حقیقت میں داخل ہے، اللہ تعالیٰ فرمایا ہے :

ولو انھم امنوا واتقوا لمثوبۃ من عنداللہ خیر۔ (البقرہ : ١٠٣) اور اگر وہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو اللہ کی طرف سے ثواب بہت بہتر ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقوی ایمان لانے کے بعد کا مرتبہ ہے، ایمان لانے کے بعد اللہ کے ڈر سے نیک کام کرنا اور برے کام ترک کرنا یہ تقوی ہے اور جو ایسا کرے وہ متقی ہے۔ اور جو جتنی زیادہ نیکیاں کرے گا اور جس قدر زیادہ برے کاموں سے بچے گا وہ اتنا بڑے اور کامل متقی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

للذین احسنوا منھم واتقوا اجر عظیم۔ (آل عمران : ١٧٢) مومنوں میں سے جو نیک کام کرتے ہیں اور تقوی اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اجر عظیم ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان لانے اور احسان (نیک کام) کے بعد تقوی کا درجہ اور مرتبہ ہے، قرآن مجید اور احادیث سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ تقوی میں ایمان کے بعدنیک کام کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی صفت کا بھی دخل ہے، تقوی کا پہلا مرتبہ کبیرہ گناہوں اور فرائض کے ترک سے بچنا ہے، دوسرا مرتبہ صغیرہ گناہوں اور واجبات کے ترک سے بچنا ہے، تیسرا مرتبہ مکروہات تنزیہیہ اور خلاف سنت سے بچنا ہے اور چوتھا مرتبہ دنیاوی امور میں انہماک اور اشغال اور یاد الہی سے غافل کرنے والی چیزوں سے بچنا ہے، امام رازی متقی میں اور کفر اور شرک سے اجتناب اور اللہ اور رسول پر ایمان کے علاوہ اور کسی قید کے اعتبار کرنے کو خلاف اصل کہتے ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ واجب ہے کہ اس میں صرف کفر اور شرک سے اجتناب کا اعتبار کیا جائے تو امام رازی کی اس تحقیق کے اعتبار سے یہ لازم آئے گا کہ جو مومن شرابی، جواری، اور زانی ہو اور نماز روزہ کا تارک ہو اس کو بھی متقی کہا جائے گا، یہ بات ہماری ناقص فہم سے بالاتر ہے، اللہ تعالیٰ امام رازی کے درجات بلند فرمائے وہ معتزلہ کے رد کی شدت میں مرجئہ کی طرف چلے گئے۔

نیکوکاروں کے دنیاوی اجر کی متعدد صورتیں :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے، اس اچھے اجر کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو آخرت میں اجر عظیم ملے گا، اور بہت ثواب ہوگا اور بعض نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی نیکیوں کا دس گنا اجر دیا جائے گا یا سات سو گنا اجر دیا جائے گا یا بےحد و حساب اجر دیا جائے گا۔ 

اس آیت کی تفسیر میں دو سرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نیک کام کیے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ان کو ان کی نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے اور دنیا میں نیکیوں کے اجر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت اور عقیدت پیدا فرما دیتا ہے وہ ان کی زندگی میں بھی ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور ان کے لیے ایصال ثواب کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

ان الذین امنوا وعملوا الصالحت سیجعل لھم الرحمن ودا۔ (مریم : ١٩٦) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے عنقریب رحمن (اپنے بندوں کے د لوں میں) ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس بندہ سے جبریل محبت کرتا ہے تو جبریل ندا کرتا ہے کہ اللہ فلاں بندہ سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس بندہ سے آسمان والے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ الحدیث (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٣٧)

حضرات صحابہ کرام، اولیاء عظام اور ائمہ مجتہدین اس آیت اور اس حدیث کے مصداق ہیں، آج تک مسمان غوث اعظم اور حضرت علی ہجویری اور حضرت مجدد الف ثانی سے محبت کرتے ہیں ان کے فضائل اور مناقب بیان کرتے ہیں اور ان کے لیے ماں باپ اور رشتہ داروں سے زیادہ ایصال ثواب اور دعا کرتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کی نیکیوں کا صلہ عطا فرمایا ہے، حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی اجر کے حصول کی دعا فرمائی تھی :

واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ (الشعراء : ٨٤) اور میرے لیے میرے بعد والوں میں میرا اچھا ذکر جاری رکھ۔

نیک عمل کرنے والوں کے لیے دنیا میں اچھے اجر کی دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صالح علماء کو اپنے دینی مخالف کے مقابلہ میں بحث کا اندر کامیابی عطا فرماتا ہے اور نیک مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں فتح اور نصرت سے نوازتا ہے۔

اور اس کی تیسری صورت یہ ہے کہ جب بندہ فرائض پر پابندی کرنے کے بعد دوام کے ساتھ نوافل ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندہ پر مکاشفات اور مشاہدات کے دروازے کھول دیتا ہے، اس کے سینہ میں کائنات کے اسرار اور موجودات کے حقائق اور دقائق منکشف کردیتا ہے، اس کا دل تجلیات الہیہ کا آئینہ بن جاتا ہے اور وہ اسے اپنی صفات کی معرفت عطا فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم۔ (محمد : ١٧) اور جن لوگوں نے ہدایت قبول کی اللہ نے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کردیا اور انہیں ان کا تقوی عطا فرمایا۔

والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔ (العنکبوت : ٦٩) اور وہ لوگ جو ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جس شخص نے میرے ولی سے عداوت رکھی میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کردیتا ہوں، اور میں نے اپنے بندہ پر جو چیزیں فرض کیں ہیں اس سے زیادہ کسی چیز کے ساتھ تقرب حاصل کرنا مجھے محبوب نہیں ہے، اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے، حتی کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے وہ چیزوں کو پکڑتا ہے اور اس کے پیر ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے تو میں اس کو وہ ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ طلب کرے تو میں اس کو ضرور پناہ دوں گا، اور میں کسی کام کے کرنے میں اتنی تاخیر نہیں کرتا جتنی تاخیر مومن کی روح قبض کرنے میں کرتا ہوں، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کو رنجیدہ کرنا ناپسند کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٥٠٢، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : ٣٤٧ )

سو جو لوگ دنیا میں اللہ عزوجل کی اچھی عبادت کرتے ہیں تو اللہ دنیا میں ان کو اچھا اجر عطا فرماتا ہے بایں طور کہ دنیا میں انہیں اپنی صفات کا مظہر بنا لیتا ہے، ان کی دعا کو اپنے کرم سے ضرور قبول فرماتا ہے اور جب تک وہ اپنی موت پر راضی نہ ہوجائیں ان پر موت موت طاری نہیں کرتا۔

نیکوکاروں کا آخرت میں اجر وثواب :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور آخرت کا گھر سب سے اچھا ہے اور بیشک متقین کا گرھ کیا ہی اچھا ہے، یعنی نیکو کاروں کو آخرت میں جو جنت کا ثواب ملے گا وہ دنیا کے گھر سے بہت اچھا ہے اور بہت عظیم ہے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے اور فرمایا متقین کا گھر کیا ہی اچھا ہے اس کے دو محمل ہیں ایک یہ کہ متقین کا جنت میں گھر کیا ہی اچھا ہے کیونکہ دنیا میں نیک عمل کرکے انہوں نے آخرت کے ثواب کو اور جنت کو حاصل کرلیا اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ متقین کا آخرت میں گھر کیا ہی اچھا ہے اور یہ جمہور کا قول ہے۔

اس کے بعد فرمایا جن میں وہ داخل ہوں گے وہ دائمی جنتیں ہیں، ان کے نیچے سے دریا بہتے ہیں یعنی ان کو جنت میں اونچے اور بلند مکان ملیں گے اور ان کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہوں گے، پھر فرمایا اس میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی وہ خواہش کریں گے یعنی ان کو ہر سعادت اور خیر مل جائے گی، اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دنیا میں انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، البتہ جنت میں غلط قسم کی ناجائز خواہشیں پیدا نہیں ہوں گی، مثلا کسی کے دل میں یہ خواہش نہیں ہوگی کہ اس کو نبیوں سے اونچا درجہ اور مرتبہ مل جائے، اسی طرح کسی کے دل میں قوم لوط کے عمل کی خواہش پیدا نہیں ہوگی۔

قبض روح کے وقت نیکوکاروں کی کیفیت :

پھر فرمایا اللہ متقین کو اسی طرح جزا دیتا ہے، یعنی یہ تقوی کی جزا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے متقین کی یہ صفت بیان کی ان متقین کی جب فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو اس وقت وہ پاکیزہ ہوتے ہیں یہ اس کے مقابلہ میں ہے کہ جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا متقین اس وقت طیبین (پاکیزہ) ہوتے ہیں یہ ایک جامع کلمہ ہے جو معانی کثیرہ کا متحمل ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا متقین نے وہ تمام کیے اور جن کاموں سے منع کیا وہ ان تمام کاموں سے مجتنب رہے اور وہ پاکیزہ اخلاق سے مزین تھے اور برے اخلاق سے گریزاں تھے اور وہ نفسانی اور جسمانی لذتوں سے خالی اور روحانی لذتوں سے معمور تھے اور طیبین میں یہ معنی بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس وقت ان کی روح قبض کی اس وقت ان کو جنت کی بشارت بھی دی گویا کہ وہ اس حال میں جنت اور اس کی نعمتوں کا مشاہدہ کر رہے تھے اور جس شخص کی مرتے وقت یہ کیفیت ہو اس کو بقض روح کے وقت جاں کنی کی تکلیف اور اذیت نہیں ہوتی، اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے کہ فرشتے متقین کی روحیں جس وقت قبض کرتے ہیں اس وقت وہ طیب و طاہر ہوتے ہیں اور اس وقت فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ تم پر سلام تم جنت میں داخل ہوجاؤ ان کاموں کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٧، ص ٢٠٢، ٢٠٣، مطبوعہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی نے فرمایا ہے کہ طیبین متقین کی صفت ہے اور پھر طیبین کی تعریف میں ذکر کیا ہے کہ وہ تمام نیک صفات سے متصف ہوتے ہیں اور تمام بری صفات سے مجتنب ہوتے ہیں، امام رازی کی اس عبارت سے بھی یہ واضح ہوگیا کہ صرف کلمہ گو متقی ہیں ہے بلکہ متقی وہ ہوتا ہے جو تمام نیک کام کرتا ہے اور تمام برے کاموں سے بچتا ہو۔

اور بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں حشر کی کیفیت بیان کی گئی ہے اس موقع پر فرشتے متقین سے کہیں گے تم پر سلام ہو تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ طیبین میں چھ اقوال ہیں۔

(١) یہ لوگ شرک سے پاک ہیں۔

(٢) یہ لوگ صالحین ہیں۔

(٣) ان کے اقوال اور افعال پاکیزہ ہیں۔

(٤) ان کے نفوس پاکیزہ ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے ثواب پر اعتماد ہے۔

(٥) اللہ کی طرف رجوع کے وقت ان کے نفوس پاکیزہ ہیں۔

(٦) ان کی موت پاکیزہ اور سہل ہے، ان کی روح قبض کرتے وقت کوئی دشواری ہوگی نہ ان کو درد ہوگا اس کے برخلاف کافر کی روح بہت سختی سے نکالی جاتی ہے اور اس کو بہت درد اور اذیت ہوتی ہے۔

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ جب ملک الموت بندہ مومن کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو اس سے کہتا ہے اے اللہ کے ولی تم پر میرا سلام ہو اللہ تعالیٰ تم پر سلام بھیجتا ہے، اور حضرت ابن مسعود نے کہا جب ملک الموت مومن کی روح قبض کرتا ہے تو کہتا ہے کہ تمہارا رب تم پر سلام بھیجا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠، ص ٩٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 30