اسلام کی پہلی جنگ

تحریر: محمد ظفر نوری ازہری
اس وقت ہرجگہ ایک ٹی وی سیریل “ارطغرل غازی” کا کافی چرچہ ہے۔ اس سیریل کے بارے میں کافی کچھ لکھا اور بولا جارہا ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر شوشل میڈیائی ایپس کی ڈی پیز پر لوگ ارطغرل غازی کی پک لگا رہے ہیں۔ اس کے بولے ہوئے ڈائیلاگس کو اپنی باتوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔  لوگ کہہ رہے ہیں اس سیریل کو ضرور دیکھیں کمال کا سیریل ہے۔ لاجواب ایکٹینگ ہے۔ عمدہ ڈائیلاگس ہیں تاریخ عثمانیہ کی بہترین منظر کشی ہے۔ ایسالگتا ایکٹرس، ڈاریکٹرس، اور رائیٹرس نے وقعات کو اسکرین پر اتار کر رکھدیا ہے۔  جو پہلے ایپسوڈ سے لیکر اخری ایپسوڈ تک اپنے ناظرین کو باندھ کے رکھتا ہے۔ یہ سیریل پانچ سیشن پر مشتمل ہے ۔ اس میں کل ١٥۰ ایپسوڈس ہیں اور ہر ایک ایپسوڈ کا ڈیورینش تقریباً دو گھنٹہ کا ہے ۔ اب تک ١٦۰ ممالک میں اسے دیکھا جاچکا ہے ۔ ۹۰ سے زیادہ زبانوں میں اس کی باضابطہ ڈبنگ ہوچکی ہے ۔اس سیریل کو بچے بچیاں بوڑے جوان سبھی کو دیکھائیں۔ اس سے ان کے اندر ہمت حوصلہ، جوش جزبہ، بہادری اور جواں مردی  پیدا ہوگی۔ راقم الحروف سے کچھ لوگوں نےاس سیریل کے بارے میں پوچھا کہ اس میں جو فلمایا گیا ہے کیا وہ حقیقت ہے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا دکھایا گیا ہے اس میں؟  انہوں نے بتایا کہ غازی ارطغرل اور سلطنت عثمانیہ کے بارے میں بتایا گیا اور ساتھ میں عشق مجازی پر بھی اچھا خاصہ فوکس ہے۔ میں نے ان سےجوابا کہا غازی ارطغرل کا ذکر تاریخ میں بہت طوالت اور عشق محبت کے ساتھ مجھے نہیں مل سکا ہے۔ رہی اس سیریل کی بات تو یہ فلمی دنیا کا اصول ہے کسی بھی چیز کو مرچ مسالہ لگا کر پیش کرتے ہیں جس سے ناظرین کی دلچسپی بنی رہے انشاء اللہ کبھی موقع ملا تو غازی ارطغرل اور سلطنت عثمانیہ کی تاریخی حقیقت پیش کریں گے۔
   لیکن اج ہم اپ کے سامنے عشق و وفا، جرأت و بہادری جنگی صف بندی اور مورچہ بندی کی وہ داستان سنائیں گے۔ جس پر زمین والوں کو بھی فخر ہے اسمان والوں کو بھی ناز ہے۔ جسے  ١٤ سو سالوں سے بیان کیا جارہا ہے۔ جب بھی سنتے یا پڑھتے ہیں دل چاہتا ہے۔ بس سنتے چلے جائیں یا پڑھتے چلے جائیں اور اپنے قلب و جگر زہن و فکر کو روشن کرتے چلے جائیں اور اس داستان کو رہتی دنیا تک پڑھا سنا جاتا رہے گا کیوں کہ اس کا ذکر خالق ارض سماں نے بھی اپنے مقدس کلام میں فرمایا ہے۔ جس کی حقانیت و صداقت پر ہمارا ایمان ہے۔ تو ائیے شروع کرتے ہیں۔
    اج سے چودھ سو انچالیس سال پہلے ۲ ہجری رمضان المبارک کے مہینے کی اس گھڑی کو یاد کریں کہ مدینہ شریف کی مقدس سر زمین ہے ہمارے اقا صلی اللہ علیہ وسلم نے “جنگ بدر” سے پہلے ایک ہنگامی میٹنگ کے لئے صحابہ کرام کو طلب فرمایا، حکم پاتے ہی سب دیوانے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم  میں حاضر ہوگئے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا خطرے سے کس طرح نپٹنا ہے؟ مہاجرین اور انصار نے یقین دلایا سرکار ہم آپ کی ہربات ماننے کو تیار ہیں اور آخری سانس تک آپ کے ساتھ ہیں اگر ضرورت پڑے گی تو اپنےخون کی آخری بوند تک نچوڑ دیں گے، مگر آپ کی بات خالی نہیں جانے دیں گے۔ حضرت سعد ابن عبادہ رضی اللہ عنہ نے تو یہاں تک کہا یارسول اللہ! اگر آپ کا حکم ہوگا تو ہم سمندر میں بھی چھلانگ لگادیں گے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس طرح بولے ہم موسی علیہ السلام کی امت کی طرح نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب لڑو ہم یہیں بٹھیے ہیں “فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَ‌بُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ” (١،۲) بلکہ ہم آخری سانس تک آپ کے ساتھ ہیں، اور مشرکین کا ڈٹ کے مقابلہ کریں گے۔ ان کی باتیں سن کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کا چہرہ فرط مسرت سے چمک اٹھا سبحان اللہ !!یہاں راقم الحروف اس بات کو اعتماد و یقین کی بلند و بالا چوٹی پہ کھڑے ہوکر  ببانگ دہل  کہہ رہا ہے کہ چشم فلک نے کبھی نہ ایسا آقا دیکھا ہوگا اور نہ ہی ایسے غلام دیکھے ہوں گے۔ آقا بھی بے مثال ہے اور بھی غلام بھی لا جواب ہیں۔
 مشورے کے بعد اپنے آقا کا حکم پاتے ہی سب جنگ کی تیاریوں میں لگ گئے ١۲ رمضان المبارک تک تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں آج جنگ پر روانگی کا دن تھا ہر ایک اسلام اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  پر قربان ہونے کے لیے بے قرار تھا۔ اسلام کے ان ٣١٣ جانباز وں کے پاس ٹوٹی پھوٹی ۸ تلواریں، ٦ زرہیں (لوہے کا لباس)، اور ۷۰ اونٹ اور صرف دو گھوڑے تھے (٣)  انہیں لیکر جیسے ہی نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مدینے سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے طنز کسے اور کہا اووو!!! یہ فوج ہے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی نہ جن کے پاس ڈھنک کے ہتھیار ہیں اور نا ہی جنگی سازو سامان اور تو اور نہ پہنے کے لیے مکمل کپڑے ہیں اور نہ کھانے کے لیے بھر پیٹ کھانا! مزید برآں یہ قریش مکہ سے جنگ کے لئے جارہے ہیں! ہو سکتا ہے  جانثاروں نے کچھ اس طرح جواب دیاہو:
 نہ طاعت پر نہ تقوی پر نہ زہد و اتقاء پر ہے۔۔۔ہمارا ناز جو کچھ  ہے محمد  مصطفی پر ہے۔
    ٣١٣ جانباز جن میں ٦۰ مہاجرین تھے باقی انصار تھے۔ انصار میں سے ۸٣ قبیلہ اوس سےتھےباقی ١۷۰ قبیلہ خزرج سے تھے۔ یہ سب اپنی جانوں کو ہتھلی پہ لیکر سروں پر  کفن باندھکر شوق شہادت میں سرشار ہوکر  میدان بدر کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ سبحان اللہ!!! لیکن ذرا رک کر پہلے اس بات کو بھی سمجھتے چلیں کہ آخر میدان بدر میں جانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیوں اسلام نے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی؟ کیوں صحابہ کرام اپنی جانوں کا نذرانہ لٹانے کے لیے تیار ہو گئے؟ تو پھر خوب غور سے پڑھو!! مشرکین مکہ مسلمانوں کو ختم کردینا چاہتے تھے چراغِ اسلام کوہمیشہ کے لئیے  بجھادینا چاہتے تھے اور مسلمانوں کے جانی دشمن بن گئے تھے۔ مسلمان ان کی تمام حرکتوں کو برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مکہ شریف سے ہجرت کر کے  مدینے شریف میں شفٹ ہو گئے تھے۔  یہاں امن و سکون سے رہ رہے تھے یہ انہیں ایک آنکھ نہ بھایا  اور دین کا کام بھی یہاں ٹھیک ٹھاک انداز سے چل رہا تھا۔ یہ تو ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہاتھا پھر عمر بن حضرمی کے قتل کا بہانہ بناکر اس دور کی “گودی میڈیا” نے بھی مسلمانوں کے خلاف کافی زہر اگلا لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے نفرتیں بھردیں (٤) اسکے چند دن بعد ایک مکی ڈاکوکرز بن جابر فہری نے مدینے کی ایک چراگاہ پر حملہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانوروں کو لیکر بھاگ گیا مسلمانوں نے اس کا پیچھا کیا مگر جب تک وہ وہاں سے نو دو گیارہ ہو چکا تھا(٥) اور مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو گھیر نے کے لیے مکہ کے آس پاس کے قبائل سے اتحاد کرنا شروع کردیا اور ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی نگرانی میں روانہ کیا تاکہ اس سے جو بھی فائدہ ہو اس پیسے کو مسلمانوں کو ختم کرنے میں استعمال کیا جائے۔ اسی قافلہ کو ابو سفیان واپس لا رہاتھا اسے بھنک لگی کہیں قافلہ راستے ہی میں نہ لوٹ لیا جائے۔ اس لیے اس نے ایک قاصد مکہ روانہ کردیا خبر پاتے ہی مکہ کے سبھی چودھری پوری تیاری سے مکہ سے چل دیئے ابو سفیان نے پھر خبر کی کہ قافلہ سلامتی کے ساتھ آراہا ہے کو ئی خطرہ نہیں ہے آپ لوگ نہ آئیں(٦)مگر مکہ کے چودھریوں  نے کہا اب واپس نہیں جائیں گے بلکہ مسلمانوں کو سبق سکھا کر ہی واپس جائیں گے اب جب تک ہماری تلواریں ان کے خون کا مزہ نہیں چکھ لیں گی تب تک میان میں نہیں جائیں گی ان کے سروں پر جنگ، لڑائی، خون خرابہ، مار کاٹ کا  کا بھوت سوار تھا۔ عمر بن حضرمی کے ورثا نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا! عرب کے سارے چودھری ہتھیاروں سے لیس ہوکر ان کے ہزار سے زیادہ چیلے چپاٹے مکمل کیل کانٹوں سے تیاری کے علاوہ ١۰۰ گھوڑے، ۷۰۰ اونٹ  ہر طرح کا اسلحہ اور جنگی سازو سامان لیکر بدر پہونچ گئے۔ (۷)
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے جانثاروں کو لیکر بدر پہونچ گئے بدر مدینہ شریف سے ۸۰ میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے جہاں ملک شام جانے والے قافلے پڑاؤ کرتے تھے زمانہ جاہلیت میں اس جگہ ایک میلہ بھی لگتاتھا اور یہاں ایک کنواں بھی تھا اس کے مالک کا نام “بدر” تھا جہاں اسلامی لشکر نے پڑاؤ کیا وہاں ریتیلی زمین تھی اور جہاں مشرکین مکہ نے پڑاؤ کیا وہاں چکنی مٹی مسلمانوں نے بدر میں جو چشمے تھے سب کو پورکر ایک چشمے پر قبضہ کرلیا اور ایک اونچے ٹیلے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر بنادیا گیا۔
  ١۷ رمضان المبارک کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم  میدان میں تشریف لائے اور ایک چھڑی سے نشان بنادئیے کہ یہاں فلاں قتل ہوگا یہاں فلاں قتل ہوگا(۸) ادھر مشرکین مکہ نے بھی ایک جاسوس عمیر بن وہب جمحی کو بھیجا تاکہ پتہ لگائے  کہ مسلمان کتنے ہیں؟ اور ان کے پاس کتنے ہتھیار ہیں؟ وہ حالات کا جائزہ لیکر سرداران قریش کو اس جاسوس نے اس طرح  رپورٹ دی کہ تعداد میں تو وہ تین سو کے آس پاس ہیں لیکن سنو “البلایا تحمل المنایا”یعنی میں نے بلائیں دیکھی ہیں جو موت کو لادھے ہوئی ہیں میری مانو تو رات کے سناٹے میں یہاں سے بھاگ چلو فائدے میں رہوگے تمہاری عزت اور چوھراہٹ دونوں بچ جائیں گیں،  کیونکہ میں نے وہاں کسی کی آنکھوں میں زندگی جینے کی تمنا نہیں دیکھی ہے۔ ان میں کا ہر ایک تم میں سے ایک ایک کو قتل کر کے ہی قتل ہوگا اور تم اپنا اتنا جانی نقصان کر کے  جیت بھی گئے تو تمہاری جیت کس کام کی!!! سرداران قریش طاقت اور کھمنڈ کے نشےمیں چور تھے بولے اتنے لوگوں سے تو جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ہم ان کو ماریں گے اور رسیوں سے باندھ کر لے چلیں گے اور دنیا کو بتائیں گے یہ ہم سے ٹکر لینے کے لیے نکلے تھے اس طرح کے بڑے بڑے بول بول رہے تھے  اور پوری رات شراب و کباب اور ناچ گانے میں گزاری وہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات عبادت میں گزاری اور آپ کے ساتھیوں کے اوپر انگھ طاری کردی گئی جس سے تھکاوٹ دور ہوجائے (۹) 
   آج ١۷ رمضان المبارك مطابق ١٣ مارچ ٦۲٤ء  جمعة المبارك کا دن ہے۔ فجر کی نماز کے لیے سرکار نے سب کو بیدار کردیا نماز ادا کی گئی اور سرکارنے ایک خطبہ بھی دیا پھر  آسمانی حملہ ہوا بارش کی شکل میں جس جگہ پر مسلمان تھے وہاں کی ریت اچھی طرح جم گئی اور جہاں مشرکین تھے وہاں چکنی مٹی کی وجہ سے کیچڑ ہی کیچڑ ہو گئی۔ اس بارش نے مسلمانوں کے لیے باران رحمت اور مشرکین کے لیے سامان زحمت کا کام کیا۔ ارشادربانی ہے وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ(١۰) ترجمہ: اور خدا نے آسمان سے پانی برسا دیا تا کہ وہ تم لوگوں کو پاک کرے۔(١١) دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں ایک طرف ٣١٣ نہتھے مجاہدین ہیں اور دوسری طرف ہزار سے زیادہ مکمل جنگی سازو سامان کے ساتھ ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  صف بندی فرمارہے تھے آپ کے دستِ اقدس  میں ایک چھڑی تھی آپ نےحضرت سواد رضی اللہ عنہ کے پیٹ پہ ہلکے سے ماری اور فرمایا کہ سیدھے کھڑے رہو  حضرت سواد نے کہا یارسول اللہ! آپ نے میرے پیٹ پر چھڑی ماری ہے مجھے قصاص (بدلہ) چاہیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا بدلہ لے سکتے ہو وہ  بولے جب آپ نے مارا تھا میرا پیٹ ننگا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور فرمایا اپ بدلہ لے سکتے ہو حضرت سواد چھڑی لیکر آئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بدن سے  چپٹ گئے اور بولے کہ گستاخی معاف ہو۔ سرکار! جنگ کا نقارہ بج نے والا ہے ہوسکتا ہے میں آج شہید ہوجاؤں اس لیے سوچا کہ آپ کے بدن سے چمٹ جاؤں تاکے اس کی مہک قیامت تک باقی رہے (١۲) صف بندی فرما کر ہر ایک کو اسکے مورچے کی ذمہ داری سونپ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے  اور اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم  زار و قطار رو رہے ہیں حضرت ابو بکر کہہ رہے ہیں چپ ہوجائیں سرکار مگر سرکار کی ہچکیاں بندھی ہوئی ھیں،  پھر اسی عالم میں آپ نےاپنی دعا میں وہ تاریخ ساز جملے کہے جس کا حق صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہی ہے آپ نے فرمایا اے اللہ میری پوری زندگی کی محنت ہیں یہ ٣١٣ مولی آج انہیں تو کامیاب فرمادے اگر یہ اس میدان میں ہار گئے مولی! تو قیامت تک تجھے رب کہنے والابھی کوئی پیدا نہ ہوگا(١٣)
 پھر جنگ کا نقارہ بجادیا جاتا ہے۔ ابو جہل اینڈ کمپنی کی طرف سے ولید، عتبہ، اور شیبہ یہ تین میدانِ جنگ  میں آئے ادھر سے تین انصار صحابہ میں سے مقابلے کے گئے تو انہوں نے کہا تم ہماری جوڑ کے نہیں ہو ہمارے برابری کے آئیں پھر ادھر سے حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ، اور حضرت علی گئے اور ان تینوں کو چند منٹوں میں  واصلِ  جہنم کردیا پھر یک بارگی حملہ کردیا گیا پھر کیا تھا اللہ کی مدد سے مشرکین مکہ کے چھکے چھوڑادئیے  ابو جہل سمیت  سب سرداران قریش کی لاشیں خاک آلود تھیں ان کے ۷۰ لوگ مارے گئے۔ جن میں ٣٦ ذوالفقار حیدری کا شکار ہوئے ۷۰ گرفتار ہو گئے باقی سب بھاگ گئے اور ١٤ مسلمان بھی شہید ہوئے(١٤)
  میدان بدر میں مسلمانوں نے فتح و ظفر کے جھنڈے گاڑ دیئے اسی دن کو قران نے “یوم فرقان” کہا ہے۔ یہ اسلام کی پہلی جنگ تھی جس کا ذکر  اللہ پاک نے قرآن شریف  میں بھی فرمایا تاکہ ان عظیم جانثاروں کا تذکرہ رہتی دنیا تک ہوتا رہے  مسلمانوں پاس ظاہری اسباب کم تھے مگر ان کے پاس سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  جیسے قائد و سپہ سالار تھے۔ ان کے سینوں میں اللہ کا خوف اور عشق رسول کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ان میں جوش تھا۔ جنون تھا۔ حوصلہ تھا۔ جذبہ تھا۔ جنہوں ثابت کردیا کہ جنگیں آلات، حرب و ضر ب سے نہیں بلکہ بہترین قیادت حوصلوں اور اللہ کی مدد سے جیتی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوئی اور مشرکین کی ساری ہنکڑی، نیتا گیری، اور دادا گیری سب دھری کی دھری رہ گئی مشرکین کی بے پناہ زیادتیوں کے باوجودمسلمانوں نے ان کے  قیدیوں کے ساتھ بھی بہتر سلوک کیا۔ قید بند کے ایام میں خود روکھا سوکھا کھا کر انہیں اچھا کھلایا پلایا  اور فدیہ لے کر انہیں بھی چھوڑ دیا۔
  جذبہ ایمانی جگانے  کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کو صحابہ کرام کے واقعات اسلامی غزوات (جنگیں) کی داستانیں سنائیں ان شاء اللہ تعالی ١٤ سو سال گزر کے بعد بھی ان کی قربانیاں محسوس کریں گے اور پھر تمہیں “ارطغرل غازی” دیکھنے کی حاجت نہیں رہے گی اور ہاں !امام زین العابدین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ہمیں غزوات رسول کی تعلیم قرآن کی سورتوں کی طرح دی جاتی تھی(١٥)
مولی کریم ہمیں بھی سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  پڑھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین
  
  #مصادر و مراجع#
(١) سورہ مائدہ ۲٤
(٢) صحیح بخاری
(٣) زرقانی علی مواہب جلد۲، 
      معجم کبیر جلد١١، 
      مدارج النبوت جلد۲
(٤) مواہب الدنیہ شرح زرقانی ج۲
(٥) مدارج النبوت ج ۲
(٦) سیرت ابن ہشام غزوہ بدر الکبری
(۷) زرقانی علی مواہب جلد۲،
     معجم کبیر جلد١١،
     مدارج النبوت جلد۲
(۸) جامع ترمذی ابواب الجہاد
(۹) زرقانی علی المواہب جلد۲،
     سیرت دلائل النبوۃ جلد٣ للبیہقی
(١۰) سورہ انفال ١١
(١١) زرقانی علی المواہب جلد۲،
      سيرت حلبية جلد٢
(١۲) سیرت ابن ہشام جلد۲
(١٣) صحیح مسلم ،سیرت ابن ہشام ج۲
(١٤) عمدۃ القاری جلد ١۰
(١٥) سبل الھدی والرشاد جلد ٤