أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَاَمِنَ الَّذِيۡنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنۡ يَّخۡسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ يَاۡتِيَهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

جو لوگ بری سازشیں کرتے ہیں کیا وہ اس بات سے بےخوف ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب لے آئے جہاں سے عذاب آنے کا انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ بری سازشیں کرتے ہیں کیا وہ اس بات سے بےخوف ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب لے آئے جہاں سے عذاب آنے کا انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو۔ یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے، سو وہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ یا وہ ان کو عین حالت خوف میں پکڑ لے، تو بیشک تمہارا رب بہت مہربان، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ (٤٧۔ ٤٥ )

کفار مکہ کو انواع و اقسام کے عذاب سے ڈرانا اور دھمکانا :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے الذین مکروا السیئات، مکر کا معنی ہے خفیہ طریقہ سے فساد کی کوشش کرنا، مفسرین نے کہا ہے کہ کفار مکہ غیر اللہ کی عبادت میں اور بت پرستی میں مشغول رہتے تھے اور گناہوں میں مبتلا رہتے تھے اور زیادہ قریب یہ ہے کہ وہ خفیہ طریقہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو ایذا پہنچانے کی کوشش میں مشغول رہتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چار قسم کی دھمکیاں دی :

پہلی دھمکی یہ دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں اس طرح دھنسا دے گا جس طرح قارون کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ زمین میں زدھنسانے کے عذاب کا حدیث میں بھی ذکر آیا ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک شخص تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا چلا رہا تھا، اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستار ہے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٨٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٤١ )

دوسری دھمکی یہ دی کہ ان پر وہاں سے عذاب آئے گا جہاں سے عذاب کا انہیں وہم و گمان بھی نہ ہوگا، جیسے قوم لوط پر اچانک عذاب آگیا تھا۔

تیسری دھمکی یہ دی کہ اللہ تعالیٰ حالت سفر میں ان پر عذاب نازل فرمائے گا، کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو ان کے شہروں میں ہلاک کرنے پر قادر ہے اسی طرح ان کو ان کے سفر کے دوران بھی ہلاک کرنے پر قادر ہے، وہ کسی دور دراز علاقہ میں پہنچ کر اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکتے بلکہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں اللہ تعالیٰ ان کو پکڑ لے گا وہ کسی دور جگہ جاکر اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، جیسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے :

لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد۔ (آل عمران : ١٩٦) (اے مخاطب) کافروں کا شہروں میں سفر کرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔

چوتھی دھمکی یہ دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عین حالت خوف میں پکڑ لے گا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ابتدا ان پر عذاب طاری نہیں کرے گا بلکہ پہلے ان کو خوف میں مبتلا کرے گا اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے اللہ تعالیٰ ان کے قریب والوں پر ہلاکت طاری کردے گا اور وہ اس خوف میں مبتلا ہوں کہ ان پر بھی ایسا عذاب آجائے گا اور وہ بڑے عرصہ تک خوف اور گھبراہٹ اور وحشت اور دہشت میں مبتلا رہیں گے۔

اس آیت میں یہ الفاظ ہیں او یاخذھم علی تخوف۔ اور تخوف کا معنی خوف اور گھبراہٹ ہے جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اور اس کا معنی تنقص بھی ہے یعنی نقصان اور کمی کرنا یعنی اللہ تعالیٰ ابتدا ان پر عذاب نہیں لائے گا بلکہ پہلے ان کے آس پاس کی بستیوں کو ہلاک کرے گا اور ان کے گرد بستیاں کم ہوتی جائیں گی، اور بتدریج عذاب کا ریلا ان کی طرف بڑھتا رہے گا اس کا معنی یہ ہے کہ آہستہ آہستہ ان کے مالوں اور جانوں میں کمی ہوتی جائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 45