أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمۡ دٰخِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتا ہے اور اس وقت وہ اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتا ہے اور اس وقت وہ اللہ کے حضور عاجزی کرتے ہیں۔ اور جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمینوں میں ہیں زمین پر چلنے والے اور فرشتے سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (النحل : ٤٨، ٤٩ )

ہر چیز کے سائے کے سجدہ کی توضیح اور ترجیح :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے عذابوں سے کفار مکہ کو ڈرایا اور دھمکایا تھا اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے کمال کو ظاہر فرمایا ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا ہے اور آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تابع ہے اور ہر چیز اس کی عظمت اور قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے سجدہ ریز ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتا ہے، اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جن کا سایہ نہیں ہوتا۔ مثلا فرشتے، جنات، ہوا اور خوشبوئیں اور اس نوع کی دیگر چیزیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس سے مراد ہے ایسی چیز جس کا سایہ ہوسکتا ہو۔ مثلا کثیف مادی اجسام اور فرشتے، جنات اور ہوائیں لطیف اجسام ہیں اور خوشبوئیں وغیرہ ازقبیل اعراض ہیںَ

عربی میں سائے کے لیے ظلم اور فے دونوں لفظ مستعمل ہیں۔ علامہ سمعانی متوفی ٤٨٩ ھ نے لکھا ہے کہ صبح کے وقت کے سائے کو ظل کہتے ہیں اور دوپہر کے وقت کے سائے کو فے کہتے ہیں اور ان دونوں کا ایک دوسرے پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکتا ہے۔

اکثر متقدمین کا یہ نظریہ ہے کہ سجدہ سے یہاں مراد اللہ کی اطاعت ہے، حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ نے کہا تمام چیزیں خواوہ حیوانات ہوں یا جمادات وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کو سجدہ ریز ہیں۔ حسن بصری نے کہا اے ابن آدم تیرا سایہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور تو اللہ کو سجدہ نہیں کرتا، یہ تیرا بہت برا فعل ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زوال کے بعد ظہر کی چار رکعات پڑھنا نماز سحر کی مثل ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ساعت میں ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے پھر یہ آیت پڑھی : یتفیئوا ظللہ عن الیمین وعن الشمائل سجدا للہ۔ (النحل : ٤٨) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٢٨، تاریخ بغداد ج ١ ص ٢٥٣، کتاب العظمہ، رقم الحدیث : ١٢٣٥، ١٢٣٦)

اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : زوال کے بعد ظہر کی چار رکعات سنتیں پڑھنا نماز سحر کی مثل ہے، نماز سحر کی تشریح میں اختلاف ہے، بعض علماء نے کہا اس سے مراد تہجد کی نماز ہے اور بعض نے کہا اس سے مراد فجر کی دو سنتیں اور فرض کی دو رکعات ہیں، یعنی ظہر کی چار رکعات ثواب میں فجر کی چار رکعتوں کی مثل ہیں۔ انہوں نے کہا اس سے مراد تہجد کی نماز نہیں ہوسکتی، کیونکہ تہجد کی نماز نفل ہے اور ظہر کی چار رکعات سنت ہیں اور سنت نفل کی مثل نہیں ہوسکتی، جبکہ مشبہ بہ اقوی ہوتا ہے اس لیے مراد یہ ہے کہ ظہر کی چار سنتیں صبح کے فرض اور اس کی سنتوں کی چار رکعات کی مثل ہیں، اور مشبہ بہ کے اقوی ہونے کی وجہ ی ہے ہ کہ فجر کی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں قرآن مجید میں ہے :

ان قران الفجر کان مشھودا۔ (بنی اسرائیل : ٧٨) بیشک فجر کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

یعنی ظہر کی چار سنتیں، صبح کی دو سنتوں اور دو فرضوں کے اجر کے برابر ہیں۔

اور ملا علی قاری نے یہ کہا ہے کہ نماز سحر سے مراد اخیر شب میں تہجد کی نماز ہے اور مشبہ بہ کے اقوی ہونے کی یہ وجہ ہے اس وقت عبادت کرنے میں بہت مشقت ہوتی ہے اور تہجد کی نماز پڑھنا بہت مشکل اور بہت دشوار ہوتا ہے۔

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : اس وقت ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، حالانکہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز ہر وقت اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛

وان من شیء الا یسبح بحمدہ۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے۔

اس لیے اس حدیث میں جو فرمایا ہے کہ زوال کے بعد ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اس سے مراد ہے کہ وہ اس وقت میں خاص تسبیح کرتی ہے جو باقی اوقات کی تسبیح سے مختلف ہوتی ہے۔

ہر چیز کے سجدہ ریز ہونے کا محمل :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمینوں میں ہیں، زمین پر چلنے والے اور فرشتے، سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

سجدہ کی دو قسمیں ہیں : سجدہ عبادت اور سجدہ بہ معنی اطاعت اور خضوع۔ سجدہ عبادت وہ ہے جیسے مسلمان اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور سجدہ بہ معنی اطاعت اور خضوع یہ وہ سجدہ ہے کہ اس معنی میں کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز ممکن ہے اور ممکن کا عدم اور وجود مساوی ہوتے ہیں، اس لیے اس کو عدم سے وجود میں لانے کے لیے کسی مرجح کی ضرورت ہوتی ہے سو ہر ممکن زبان حال سے یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے وجود میں واجب الوجود کا محتاج ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ممکنات میں سے جس چیز کو کام میں لگا دیا ہے وہ اسی کام میں لگا ہوا ہے اور اسی کی اطاعت کر رہا ہے، سورج، چاند اور دیگر سیاروں کے لیے جو نظام بنادیا ہے وہ اسی نظام کے تحت کام کررہے ہیں، دریاؤں اور سمندروں کی روانی، درختوں میں پتوں، پھلوں اور پھولوں کا کھلنا، حیوانات کی نشوونما، موسموں کا بدلنا، دن اور رات کا توارد، سب کچھ اس کے حکم سے ہورہا ہے اور سب اس کی اطاعت کر رہے ہیں اور کائنات کی ہر چیز جو اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے وہ اسی معنی میں ہے، بعض مفسرین نے کہا کہ فرشتے جو سجدہ کرتے ہیں وہ اس معنی میں ہے جیسے مسلمان اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور کائنات کی باقی چیزیں جو سجدہ کرتی ہیں وہ سجدہ بہ معنی اطاعت اور خضوع ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوگا لفظ مشترک سے ایک جملہ میں دو معنی مراد نہیں ہوسکتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 48