أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰى هُدٰٮهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ مَنۡ يُّضِلُّ‌ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اگر آپ ان کی ہدایت پر حریص ہیں (تو سن لیں کہ) بیشک اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کردے اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر آپ ان کی ہدایت پر حریص ہیں (تو سن لیں کہ) بیشک اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کردے، اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ (النحل : ٣٧)

کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ کو تسلی دینا :

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار مکہ کے اسلام اور ایمان لانے کے لیے بہت کوشش کرتے تھے اس کے باوجود وہ اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے تھے، اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت رنج ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دینے کے لیے فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے لیے کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیا سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کفر اور گمراہی کو پیدا کردیا اور جب اللہ ان کے لیے کفر اور گمراہی کو پیدا کرچکا ہے تو وہ اب ان کے لیے ہدیات کو پیدا نہیں کرے گا اور اب ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا، سو اب آپ ان پر افسوس نہ کریں اور ان کے متعلق غمگین نہ ہوں، قرآن عظیم میں اس نوع کی اور بھی آیات ہیں :

ومن یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا۔ (المائدہ : ٤١) اور جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے تو آپ ہرگز اللہ کی طرف سے اس کے لیے کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتے۔

انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء۔ (القصص : ٥٦) بیشک آپ اس کو ہدایت یافتہ نہیں بناتے جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند کو، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔

اس معنی کو بیان کرتے ہوئے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا :

ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یردی ان یغویکم ھو ربک والیہ ترجعون۔ (ھود : ٣٤) اور اگر میں تمہاری خیر خواہی چاہوں تو میری خیر خواہی تم کو نفع نہیں دے سکتی اگر اللہ نے تمہیں گمراہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

اور جو لوگ کفر اور گمراہی کو اختیار کرلیں اور ان کے اس اختیار کی وجہ سے اللہ ان کو کافر اور گمراہ بنا دے تو پھر اللہ کے دائمی عذاب سے ان کو کوئی چھڑا نہیں سکتا، واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ جبرا کسی کو مومن اور ہدایت یافتہ بناتا ہے اور نہ ہی جبرا کسی کو کافر اور گمراہ بناتا ہے جو ایمان کو اختیار کرتا ہے اس کو مومن بنا دیتا ہے اور جو کفر کو اختیار کرتا ہے اس کو کافر بنا دیتا ہے۔

اس آیت میں آپ کو تسلی دینے کا پہلو یہ ہے کہ آپ کا منصب اللہ کا پیغام پہنچانا اور دین اسلام کی تبلیغ کرنا ہے، سو آپ نے اللہ کے پیغام کو احسن اور کامل طریقہ سے پہنچا دیا، اب اگر آپ کی پیہم تبلیغ کے باوجود یہ ایمان نہیں لائے تو آپ غم نہ کریں کیونکہ ان کے دل میں ایمان کو پیدا کردینا اور کفر کو ایمان سے اور گمراہی کو ہدایت سے بدل دینا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ یہ آپ کی قدرت اور اختیار میں ہے یہ صرف اللہ عزوجل کا کام ہے اور اس کو ازل میں علما تھا کہ یہ ایمان کو اختیار نہیں کریں گے اور کفر پر اصرار کریں گے سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کفر اور گمراہی کو مقدر کردیا اور اللہ کے لکھے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 37