أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بِالۡبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ‌ؕ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

(ان رسولوں کو) واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ بھیجا تھا، اور ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن عظیم) سا لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ ان کی طرف کیا نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غورو فکر کریں۔

تفسیر:

(تفسیر سابقہ آیت ٤٣ )

ایک مقلد کے لیے متعدد ائمہ کی تقلید کا عدم جواز اور تقلید شخصی کا وجوب :

ائمہ اربعہ میں سے ہر امام کے اکثر اصول اجتہاد الگ الگ اور باہم متضاد ہیں، انہوں نے نیک نیتی، اخلاص اور اپنے علم کے تقاضے سے کسی چیز کا صحیح حکم معلوم کرنے کے لیے وہ اصول وضع کیے، مثلا جب مطلق اور مقید میں تعارض ہو تو امام شافعی مطلق کو مقید پر محمول کردیتے ہیں، امام ابوحنیفہ اس صورت میں ہر ایک کو اپنے محل پر رکھتے ہیں، امام شافعی قرآن کے عموم اور اطلاق کی خبر واحد سے تخصیص جائز قرار دیتے ہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ ناجائز ہے۔ امام شافعی کے نزدیک قران فی الذکر، قران فی الحکم کو مستلزم ہوتا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک قران فی الذکر، قران فی الحکم کو مستلزم نہیں ہوتا۔ امام شافعی کے نزدیک قرآن مجید، حدیث کا اور حدیث متواتر قرآن مجید کے لیے ناسخ نہیں ہے جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن مجید حدیث کے لیے اور حدیث متواتر قرآن مجید کے حکم کے لیے ناسخ ہوسکتی ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک حدیث مرسل مطلقا مقبول ہوتی ہے جبکہ امام شافعی اور دوسرے ائمہ کے نزدیک حدیث مرسل مقبول نہیں ہے، جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول اور فعل میں تعارض ہو تو امام ابوحنیفہ آپ کے قول کو مقدم کرتے ہیں اور امام شافعی آپ کے فعل کو مقدم کرتے ہیں۔ علی ھذا القیاس۔ اس لیے جو شخص مختلف ائمہ کی تقلید کرے گا وہ اپنے دینی اعمال میں تضاد کا شکار ہوگا، مثلا کسی مسئلہ میں مطلق کو مقید پر محمول کرے گا اور کسی مسئلہ میں نہیں کرے گا، بلکہ ایک ہی مسئلہ میں کبھی مطلق کو مقید پر محمول کرے گا اور کبھی نہیں کرے گا، کبھی آثار صحابہ کو احادیث پر مقدم کرے گا اور کبھی نہیں کرے گا، کبھی کہیے گا کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ گیا ہے اور کبھی کہے گا کہ نہیں ٹوٹا۔ اور بعض لوگ اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنے کے لیے اقوال مجتہدین میں سہارا تلاش کریں گے مثلا عورت کو ہاتھ لگانے سے امام شافعی کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اور خون نکلنے سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک وضو ٹوٹ جاتا ہے اور امام شافعی کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اب فرض کیجیے ایک شخص نے اپنی بیوی کے ہاتھ کو چھوا بھی ہے اور اس کا خون بھی نکل آیا ہے تو دونوں اماموں کے نزدیک اس کا وضو ٹوٹ گیا لیکن وہ شخص وضو کی زحمت سے بچنے کے لیے کہتا ہے کہ کیونکہ احناف کے نزدیک عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے بیوی کو ہاتھ لگانے سے حنفی مزہب کے مطابق میرا وضو نہیں ٹوٹا، اور چونکہ کون نکلنے سے شوافع کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹرا اس لیے خون نکلنے سے شافعی مذہب کے مطابق میرا وضو نہیں ٹوٹا۔ درحقیقت یہ شخص امام ابوحنیفہ کا مقلد ہے نہ امام شافعی کا بلکہ یہ اپنی ہوائے نفس کا مقلد ہے، اور قانونی امور میں اور زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ ایک حنفی شخص کوئی جرم کرنے کے بعد فقہ شافعی کے قانون سے اپنے آپ کو آزاد کرالے گا اور سزا سے بچ جائے گا اور شافعی شخص جرم کر کے فقہ حنفی کے قانون سے اپنے آپ کو بچا لے۔ مثلا ائمہ ثلاثہ کے نزدیک یتیم کے مال پر زکوۃ ہے اور احناف کے نزدیک نہیں ہے اب کسی شافعی شخص نے یتیم کے مال کی زکوۃ ادا نہیں کی تو وہ حنفی فقہ سے اپنے آپ کو بچا لے گا۔ اسی طرح چوری کے نصاب میں ائمہ کا اختلاف ہے اور ایک مسلک کا مقلد چوری کر کے دوسرے مسلک کی فقہ سے اپنے آپ کو بچا لے گا۔ اس طرح شریعت اور قانون انسانی خواہشات کے تابع ہوجائیں گے بلکہ کوئی شخص کسی حکم کا مکلف نہیں رہے گا کیونہک جب اس پر کوئی چیز واجب ہوگی تو وہ دوسری فقہ سے اس وجوب کو ساقط کردے گا اور جب اس پر کوئی چیز حرام ہوگی تو وہ دوسرے مجتہد کے قول سے اس کو حلال کرلے گا اور انسان شریعت اور قانون دونوں سے آزاد ہوجائے گا اس لیے ضروری ہے کہ انسان ایک امام کی تقلید کرتے اور ایک شخص کے لیے متعدد ائمہ کی تقلید ناجائز اور تقلید شخصی واجب ہے۔

تقلید پر امام غزالی کے دلائل :

امام غزالی شافعی متوفی ٥٠٥ ھ نے عام آدمی کی تقلید پر دو دلیلیں قائم کی ہیں، ایک یہ ہے کہ صحابہ کرام کا اس پر اجماع تھا کہ وہ عام آدمی کو مسائل بتلاتے تھے اور اس کو یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ درجہ اجتہاد کا علم حاصل کرے اور دوسری دلیل یہ قائم کی ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ عام آدمی احکام شرعیہ کا مکلف ہے اور اگر ہر آدمی درجہ اجتہاد کا علم حاصل کرنے کا مکلف ہو تو زراعت، صنعت و حرفت اور تجارت بلکہ دنیا کے تمام کاروبار معطل ہوجائیں گے کیونکہ ہر شخص مجتہد بننے کے لیے دن رات علم کے حصول میں لگا رہے گا۔ اور نہ کسی کے لیے کچھ کھانے کو ہوگا اور نہ پہننے کو اور دنیا کا نظام برباد ہوجائے گا اور حرج عظیم واقع ہوگا اور یہ بداہتا باطل ہے، اور یہ بطلان اس بات کے ماننے سے لازم آیا ہے کہ عام آدمی درجہ اجتہاد کا مکلف ہے لہذا ثابت ہوا کہ عام آدمی درجہ اجتہاد کا مکلف نہیں ہے اور عام آدمی پر مجتہدین کی تقلید لازم ہے۔ (المستصفی ج ٢ ص ٣٨٩، مطبوعہ بولاق، مصر ١٣٢٤ ھ)

تقلید پر امام رازی کے دلائل :

امام فخر الدین رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : عام آدمی کے لیے احکام شرعیہ فرعیہ میں مجتہد کی تقلید کرنا جائز ہے، اور اس پر ہماری دو دلیلیں ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ تقلید کی مخالفت پیدا ہونے سے پہلے اس پر امت کا اجماع تھا۔ کیونکہ ہر زمانہ میں علما عوام کو محض ان کے اقوال پر اقتصار کرنے سے منع نہیں کرتے تھے اور ان پر یہ لازم نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کے اقوال کے دلائل کا بھی علم حاصل کریں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ جب عام آدمی کو کوئی فرعی مسئلہ پیش آئے پس یا تو وہ اس میں کسی حکم کا مکلف نہیں ہوگا اور یہ بالاجماع باطل ہے، کیونکہ ہم اس پر لازم کرتے ہیں کہ وہ علماء کے قول پر عمل کرے، اور تقلید کے مخالفین اس پر یہ لازم کرتے ہیں کہ وہ کتاب و سنت سے استدلال کرے اور اگر وہ کسی حکم پر عمل کرنے کا مکلف ہے اتو وہ یا تو استدلال سے عمل کا مکلف ہوگا یا تقلید سے اور استدلال سے اس کا مکلف ہونا باطل ہے کیونکہ اگر وہ استدلال سے عمل کرنے کا مکلف ہے تو یا تو وہ عقل کامل ہوتے ہی استدلال کا مکلف ہوگا اور یہ اس لیے باطل ہے کہ صحابہ کرام کسی شخص کے بالغ ہوتے ہی اس پر یہ لازم نہیں کرتے تھے کہ وہ مجتہد کا رتبہ حاصل کرے، اور یا وہ اس وقت حکم کا مکلف ہوگا جب اس کو وہ مسئلہ پیش آئے گا اور یہ اس لیے باطل ہے کہ اس کا وجوب اس کو دنیاوی امور میں مشغول ہونے سے مانع ہوگا، پس متعین ہوگیا کہ جب اسے کوئی مسئلہ پیش آئے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ علماء سے سوال کرے اور ان کے اقوال کی تقلید کرے۔ (المحصول ج ٤ ص ١٤٠٣، ١٤٠٤، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

تقلید پر امام آمدی کے دلائل :

امام علی بن محمد آمدی مالکی متوفی ٦٣١ ھ لکھتے ہیں : عام آدمی جس میں اجتہاد کی صلاحیت نہ ہو اس پر مجتہدین کے اقوال کی اتباع کرنا لازم ہے خواہ اس کو بعض وہ علوم حاصل ہوں جو اجتہاد میں معتبر ہیں، اس پر قرآن مجید کی نص صریح، اجماع اور عقلی دلائل ہیں، نص صریح ی ہے ہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) یہ آیت تمام مخاطبین کو عام ہے اور واجب ہے کہ یہ ہر اس سوال کو عام ہو جس کا مخاطب کو علم نہیں ہے اور اس پر اجماع ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ سے لے کر تقلید مجتہدین کے ظہور سے پہلے تھی عام آدمی مجتہدین سے فتوی طلب کرتے تھے اور احکام شرعیہ میں ان کی اتباع کرتے تھے اور علماء ان کے سوال کا جواب دیتے تھے اور اپنے قول کی دلیل کی طرف اشارہ نہیں کرتے تھے اور ان کو سوال کرنے سے منع نہیں کرتے تھے پس آدمی کے لیے مجتہد کے قول کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔ اور عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر ہر آدمی پر یہ لازم کیا جائے کہ جب اسے کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ کتاب اور سنت سے اس کا حل تلاش کرے تو لازم آئے گا کہ وہ معاش کے ذرائع میں مشغول نہ ہو اور اس سے صنعت اور حرفت معطل ہوجائے گی، اور کھیتی باڑی ختم ہوجائے گی اور اس سے حرج عظیم لازم آئے گا اور اللہ نے فرمایا ہے :

وما جعل علیکم فی الدین من حرج۔ (الحج : ٧٨) اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہیں رکھی۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسلام میں ضرر اور ضرار نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٣٤١) یعنی اسلام کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس سے کسی کو نقصان پہنچے اور اگر آدمی کو اس کا مکلف کیا جائے کہ وہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل خود کتاب و سنت سے حاصل کرے تو لوگوں پر حرج اور ضرر لازم آئے گا۔ پس ضروری ہوا کہ عام آدمی اپنے مسائل کے حل کے لیے علماء کی طرف رجوع کرے اور ان کے اقوال کی تقلید کرے۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ج ٤ ص ٢٣٤، ٢٣٥)

تقلید پر شیخ ابن تیمیہ کے دلائل :

شیخ تقی الدین احمد بن تیمیہ متوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں :

اجتہادی مسائل میں جو شخص بعض علماء کے قول پر عمل کرے اس پر انکار نہیں کیا جائے گا اور جو شخص دو قولوں میں سے کسی ایک قول پر عمل کرے اس پر بھی انکار نہیں کیا جائے گا، اور جب کسی مسئلہ میں دو قول ہوں اور انسان پر ان میں سے کسی ایک قول کی ترجیح ظاہر ہوجائے تو اس پر عمل کرے ورنہ ان بعض علماء کی تقلید کرے جن پر بیان ترجیح میں اعتماد کیا جاتا ہے۔ (مجموع الفتاوی ج ٢٠، ص ١١٥، مطبوعہ دار الجلیل، ریاض، ١٤١٨ ھ)

نیز شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : جب انسان احکام شرعیہ کی معرفت سے عاجز ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی ایک معین شخص کے معین مذہب کی اتباع کرے، کیونکہ ہر شخص پر احکام شرعیہ کی معرفت واجب نہیں ہے۔ (مجموعہ الفتاوی ج ٢٠، ص ١١٦، مطبوعہ دار الجلیل ریاض ١٤١٨ ھ)

شیخ ابن تیمیہ اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ کسی مذہب کا مقلد بغیر دلیل یا بغیر عذر کے اپنے مذہب کی مخالفت کرسکتا ہے ؟ وہ لکھتے ہیں : جس شخص نے کسی معین مذہب کا التزام کیا پھر کسی دوسرے عالم کی تقلید کے بغیر اس کی مخالفت کی، اور نہ کسی دلیل کے تقاضے کی وجہ سے اور نہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے تو وہ شخص محض اپنی خواہش کا متبع ہے، وہ کسی کے اجتہاد پر عمل کر رہا ہے اور نہ کسی کی تقلید کر رہا ہے وہ بغیر عذر شرعی کے حرام کا ارتکاب کر رہا ہے وار اس پر انکار کی اجائے گا۔ (مجموعہ الفتاوی ج ٢٠، ص ١٢٣، مطبوعہ دار الجلیل ریاض ١٤١٨ ھ)

اسی بحث میں آگے چل کر لکھتے ہیں : اس مسئلہ میں اسل یہ ہے کہ آیا عام آدمی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی مذہب معین کا التزام کرے اور اس کی عزیمتوں اور رخصتوں پر عمل کرے، امام احمد کے اصحاب کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں۔ اسی طرح امام شافعی کے اصحاب کے بھی دو قول ہیں اور جمہور میں سے بعض اس پر معین مذہب کی تقلید کو واجب کرتے ہیں اور بعض واجب نہیں کرتے اور جو اس معین مذہب کی تقلید کو واجب کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب اس نے کسی معین مذہب کا التزام کرلیا تو اب اس کے لیے اس مذہب سے نکلنا جائز نہیں ہے جب تک وہ اس مذہب کا مقلد ہے اور جب تک اس پر واضح نہ ہوجائے کہ دوسرے امام کا قول دلائل کے اعتبار سے راجح ہے۔ (مجموعہ الفتاوی ج ٢٠، ص ١٢٤، مطبوعہ دار الجلیل، ریاض، ١٤١٨ ھ)

مسئلہ تقلید میں حرف آخر :

میں نے شرح صحیح مسلم ج ٣ ص ٣٤٥۔ ٣١٨ تک اجتہاد اور تقلید پر بحث کی ہے، ہمارے علماء عام طور پر فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النحل : ٤٣) سے تقلید پر استدلال کرتے ہیں جب سورة النحل کی تفسیر میں یہ آیت آئی تو میں نے چاہا کہ میں مسئلہ تقلید کو زیادہ تفصیل اور زیادہ دلائل کے ساتھ لکھوں، ہمارے علماء نے یہ تو لکھا ہے کہ تابعین اور تبع تابعین صحابہ اور تابعین کے اقوال پر کتاب و سنت سے دلائل کے بغیر عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے اس کی مثالیں نہیں دیں، حالانکہ کتب احادیث میں اس کی سینکڑوں مثالیں ہیں۔ لہذا میں نے تتبع کر کے صحابہ اور تابعین کے ایک سو اقوال پیش کیے جن پر سوال کرنے والوں نے بغیر دلائل کے عمل کیا، پھر میں نے اتمام حجت کے لیے غیر مقلدین علما کے فتاوی سے بھی ایسے اقوال پیش کیے جن میں انہوں نے دلائل کا ذکر نہیں کیا اور چونکہ غیر مقلدین شیخ ابن تیمیہ کو بہت اہمیت دیتے ہیں اس لیے آخر میں ان کی عبارات بھی پیش کیں جن عبارات میں انہوں نے تقلید شخصی کے جواز کی تصڑیح کی ہے، تقلید کا معنی ہے عالم اور مفتی کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ عالم اور مفتی کتاب اور سنت کے مقابلہ میں اپنا قول پیش کرتا ہے، جیسا کہ غیر مقلدین یہ تاثر دیتے ہیں بلکہ سوال کرنے والے اسی شخص سے سوال کرتے ہیں جس کے متعلق انہیں یہ اعتماد ہوتا ہے کہ وہ کتاب اور سنت کا ماہر ہے اور وہ اس مسئلہ کا جو جواب دے گا وہ کتاب اور سنت کے مخالف نہیں ہوگا جس طرح تابعین اور تبع تابعین اسی اعتماد کے ساتھ صحابہ اور تابعین سے سوال کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن عظیم) سا لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ ان کی طرف کیا نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غورو فکر کریں۔ (النحل : ٤٤ )

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی ضرورت اور حکمت :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی حکمت اور ضرورت بیان فرمائی ہے، یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ صرف کتاب نازل فرما دیتا، لیکن اس سے اللہ تعالیٰ کی حجت بندوں پر پوری نہ ہوتی، کوئی انسان یہ کہہ سکتا تھا کہ اس کتاب کے مضامین ہمارے لیے ناقابل فہم ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث فرمایا کہ وہ اس کتاب کے مضامین کی تعلیم دے اور اس کو سمجھائے، جس جگہ ان کو شک ہو وہ ان کے شک کو دور کرے اور جس آیت پر کوئی اعتراض ہو وہ ان کے اعتراض کا جواب دے، اگر وہ یہ سمجھیں کہ کوئی حکم ناقابل عمل ہے تو وہ اس پر عمل کر کے دکھائے، جو چیزیں قرآن مجید میں اجمالی طور پر ذکر کی گئی ہیں ان کی تفصیل بیان کرے، قرآن مجید میں بعض ایسے احکام ہیں جن پر حکومت اور اقتدار کے بغیر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ مثلا چوری پر ہاتھ کاٹنا، زانی پر کوڑے لگانا یا اس کو رجم کرنا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانے والے کو اسی کو ڑنے مارنا، دو گواہوں کے ثبوت یا مدعی علیہ کی قسم پر مقدمہ کا فیصلہ کرنا، جہاد کے لیے لشکر روانہ کرنا، ایسے اور بہت احکام ہیں جن پر اقتدار اور حکومت کے بغیر عمل نہیں ہوسکتا اس لیے ضروری تھا کہ نبی کو بھیجا جائے اور وہ ایک اسلامی ریاست قائم کرے اور ایسے تمام احکام پر عمل کر کے دکھائے وہ ایک جامع زندگی گزارے اس کی زندگی میں ایک فرماں روا کا بھی نمونہ ہے، ایک تاجر کا بھی نمونہ ہو ایک مزدور کا بھی نمونہ ہو بلکہ انسانی حیات کے ہر شعبہ کے لیے اس کی زندگی میں نمونہ ہو تاکہ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والا یہ نہ کہہ سکے کہ اس دین میں ہمارے لیے کوئی نمونہ نہیں ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا ہے :

اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول۔ (النساء : ٥٩) اللہ کی اطاعت کر اور رسول کی اطاعت کرو۔

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ (النساء : ٨٠) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کرلی۔

وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا۔ (الحشر : ٧) اور رسول تم کو جو حکم دیں اس کو قبول کرو اور جس کام سے تم کو روکیں اس سے رک جاؤ۔

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلم ذنوبکم۔ (آل عمران : ١١٩) آپ کہیے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ (الاحزاب : ٢١) بیشک تمہارے لیے رسول اللہ میں اچھا نمونہ ہے۔

ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع قیامت تک مسلمانوں پر واجب ہے۔

حجیت حدیث :

منکرین حدیث کہتے ہیں کہ جس طرح قرآن مجید کا ایک قطعی الثبوت اور منضبط متن ہے اگر احادیث کا بھی اسی طرح قطعی الثبوت اور منضبط متن ہے پھر تو احادیث حجت ہیں ورنہ نہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ قرآن عظیم کی متعدد آیات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع واجب ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں صحابہ کرام آپ کے احکام سن کر آپ کی اطاعت کرتے تھے اور آپ کو دیکھ کر آپ کی اتباع کرتے تھے، اب سوال یہ ہے کہ بعد کے لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر آپ کے افعال کا کس ذریعہ سے علم ہوگا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کو ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے، پس جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہمارے سمانے نہ ہو، ہم اپنی زندگی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ اور نمونہ میں کیسے ڈھال سکیں گے اور جب تک مروجہ احادیث ہمارے سامنے اور ہمارے علم میں نہ ہوں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام، آپ کے افعال اور آپ کے اسوہ پر مطلع نہیں ہوسکتے، اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صحابہ کرام کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ مجسم ہدایت تھی اسی طرح بعد کے لوگوں کے لیے مروجہ کتب احادیث مجسم ہدایت ہیں اور اگر ان کتب حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام، افعال اور آپ کے اسوہ کے لیے معتبر ماخذ نہ مانا جائے تو اللہ تعالیٰ کی حجت بندوں پر ناتمام رہے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن عظیم کو کافی نہیں قرار دیا بلکہ قرآن مجید کے احکام کے ساتھ ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن عظیم کو کافی نہیں قرار دیا بلکہ قرآن مجید کے احکام کے ساتھ ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع کو بھی ضروری قرار دیا ہے، اور بعد کے مسلمانوں کے لیے آپ کے احکام، افعال اور آپ کے اسوہ کو جاننے کے لیے مروجہ احادیث کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

مروجہ احدیث کو اگر معتبر ماخذ نہ مانا جائے اور ان کو دین میں حجت تسلیم نہ کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی ہدایت سے محروم ہوں گے بلکہ ہم قرآن کریم کی دی ہوئی ہدایات سے بھی مکمل طور پر مستفید نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن مجید کے الفاظ نازل فرمائے لیکن ان الفاظ کے معانی بیان کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم۔ (النحل : ٤٤) ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن عظیم) اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ ان کی طرف کیا نازل کیا گیا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ واخرین منھم لما یلحقوا بھ ، ؤم وھو العزیز الحکیم : (الجمعہ : ٢، ٣) وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا، جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور ان کا باطن صاف کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور بیشک وہ لوگ ایمان لانے سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے اور ان میں سے دوسروں کو بھی (کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں) جو ابھی ان (پہلے لوگوں) سے اصل نہیں ہوئے اور وہی غالب بڑی حکمت والا ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے تھے اور آپ کے بعد کے لوگوں کو بھی کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں جو ابھی لاحق نہیں ہوئے، صحابہ کرام کو تو آپ نے بہ نفس نفیس کتاب اور حکمت کی تعلیم دے دی، لیکن بعد کے لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دینے کی کیا صورت ہوگی اگر ان مروجہ احادیث کو کتاب و حکمت کی تعلیم کے لیے معتبر ذرئعہ نہ مانا جائے تو قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ صادق نہیں رہے گی۔

ہم نے یہ کہا تھا کہ قرآن مجید میں الفاظ ہیں اور ان کے معانی مروجہ احادیث میں ہیں، دیکھیے قرآن مجید میں ہے اقیموا الصلوۃ اور صلوۃ کے جو معنی مراد ہیں وہ کسی لغت سے معلوم نہیں ہوتے لغت میں صلوۃ کا معنی ہے دعا کرنا، یا ٹیڑھی لکڑی کو آگ کی حرارت پہنچا کر سیدھا کرنا اور صلوۃ کا معنی برکت بھی ہے، لیکن صلوۃ کا معنی جو مقصود ہے وہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے معلوم ہوا، اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ بلند کر کے ہاتھ باندھنے سے لے کر سلام پھیرنے تک جن ارکان، آداب اور ہیئت مخصوصہ پر صلوۃ مشتمل ہے ان کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، اذان کے کلمات اور اذان دینے کے طریقہ کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، اقامت کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے اور نہ ان اوقات کی تعیین اور حد بندی کا ذکر ہے، وضو کے فرائض کا قرآن عظیم میں ذکر ہے، لیکن وضو کن کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے اس کی تفصیل کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، ان تمام چیزوں کا ذکر مروجہ احادیث میں ہے اگر ان مروجہ احادیث کو نہ مانا جائے تو انسان نہ وضو کرسکتا ہے، نہ اذان دے سکتا ہے نہ نماز پڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں زکوۃ ادا کرنے کا حکم ہے، لیکن کتنے مال پر کتنے عرصہ کے بعد کتنی زکوۃ دی جائے اس کا قرآن مجید میں ذکر نہیں ہے، اونٹ، گائے، بکری، زرعی پیداوار، سونے چاندی اور مال تجارت میں ادائیگی زکوۃ کا کیا نصاب ہے، اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، اور ان تمام چیزوں کی تفصیل کو جاننے کے لیے مروجہ احادیث کے سوا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

قرآن مجید میں صرف روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے، روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا، اسی طرح روزہ کی باقی تفصیلات قرآن عظیم میں مذکور نہیں ہیں، ان کا علم صرف مروجہ احادیث سے حاصل ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں حج اور عمرہ کا ذکر ہے، لیکن حض اور عمرہ کے احکام، ان کی شرائط ان کے موانع اور مفسدات کیا ہیں ان کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے، حتی کہ قرآن مجید میں تو یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ حج کس دن ادا کیا جائے گا اور آیا حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے یا ہر سال فرض ہے۔

قرآن مجید میں حکم دیا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو ، لیکن کتنی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور ہاتھ کس جگہ سے کاٹا جائے گا اور ہاتھ کاٹنے کی کیا شرائط ہیں اور کیا موانع ہیں ان کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے۔

قصاص اور دیت کا قرآن مجید میں ذکر ہے، لیکن اعضاء کی دیت کی تفصیل قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے۔

نکاح اور طلاق کا قرآن مجید میں ذکر ہے لیکن شوہر اور زوجہ کے حقوق اور فرائض کی تفصیل اور دیگر عائلی احکام قرآن مجید میں مذکور نہیں ہیں۔

وارثت کا بھی قرآن مجید میں ذکر ہے لیکن عصبات اور ذوی الارحام کے فرق اور ان میں ترتیب اور احق بالوراثت کا بیان نہیں ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے صڑف کتاب نازل کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ کتاب کے ساتھ اس کی تعلیم، تشریح اور تفصیل کے لیے نبی کو بھی مبعوث فرمای اور کتاب میں مذکور تمام احکام کی عملی تصویر اور نمونہ کے لیے آپ کو بھیجا صحابہ کرام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست یہ تعلیم حاصل کی اور ہمارے لیے اس تعلیم کے حصول کا ذریعہ صرف مروجہ کتب احادیث ہیں اور اگر کتب احادیث کو معتبر ماخذ اور حجت نہ مانا جائے تو دین نامکمل اور ناقابل عمل رہے گا اور بندوں پر اللہ کی حجت قائم نہیں ہوگی، اور قرآن مجید کی اکثر و بیشتر آیتوں کے معانی معلوم نہیں ہوسکیں گے، اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اپنی حجت تمام کرنی تھی اس لیے ذرائع اور وسائل پید اکیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث محفوظ اور مدون ہوگئیں۔ اس بحث کی زیادہ تٖفصیل کے لیے آل عمران : ١٣٢ کا بھی مطالعہ فرمائیں :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 44