حدیث نمبر237

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر ایک شخص پر گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اسے سلام کیا اس نے کلام سے جواب دیا تو اس کی طرف حضرت عبداﷲ ابن عمر لوٹے اس سے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی پر نماز کی حالت میں سلام کیا جائے تو کلام نہ کرے اپنے ہاتھ سے اشارہ دے ۱؎(مالک)

شرح

۱؎ یہاں اشارے سے سلام کا اشارہ مراد نہیں بلکہ اپنے نماز میں ہونے کا اشارہ مراد ہے یعنی اگر کوئی نمازی کو بے خبری میں سلام کرے تو نمازی بتادے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں جیسے کہ ضرورت کے وقت مرد نمازی تسبیح کہے اور عورت تصفیق ورنہ سلام کا جواب اشارے سے دینا بھی منع ہے لہذا حدیث واضح ہے۔