حدیث نمبر236

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ میں تجھ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا میں تجھ پر اﷲ کی لعنت کرتا ہوں تین بار اور اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کچھ پکڑ رہے ہیں ۱؎ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا یارسول اﷲ ہم نے آپ کو نماز میں یہ کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ کو کہتے نہ سنا تھا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے دیکھا ۲؎ فرمایا کہ اﷲ کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لایا تھا تاکہ اسے میرے منہ میں کرے ۳؎ میں نے تین بار کہا کہ میں تجھ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں پھر میں نے کہا میں تجھ پر اﷲ کی پوری لعنت کرتا ہوں وہ تین بار میں نہ ہٹا۴؎ پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا خدا کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ بندھا ہوا سویرا کرتا جس سے مدینہ والوں کے بچے کھیلتے ۵؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ سارا واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز میں کلام جائز تھا ورنہ اب اگر نمازی کسی کو خطاب کرکے دعا یا بددعا دے تو نماز جاتی رہے گی اور اگر کلام کی حرمت کے بعد کاہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے،لہذا یہ حدیث گذشتہ حدیث کی خلاف نہیں کہ نماز میں لوگوں سے کلام جائز نہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بحالت نماز بجائے سجدہ گاہ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تھے جیسے حاجی حرم کی نماز میں کعبے کو دیکھتے ہوئے ورنہ سجدہ گاہ کو دیکھتے ہوئے امام کی حرکت کا پتہ نہیں لگ سکتا۔

۳؎ یہ واقعہ گزشتہ واقعہ کے علاوہ ہے وہاں ایک خبیث جن کھل کر آگیا تھا یہاں خود ابلیس آگیا تھا۔خیال رہے کہ ابلیس کا انبیا ئے کرام کی بارگاہ میں اس طرح پہنچ جانا ایسا ہی ہے جیسے بادشاہ کے جسم پر مکھی،مچھر کا بیٹھ جانا اس سے نہ تو یہ لازم آتا ہے کہ ابلیس کی طاقت حضور علیہ السلام سے زیادہ ہے اور نہ یہ کہ حضور علیہ السلام معصوم نہ ہوں۔

۴؎ اپنی بے حیائی اور ضد سے نہ کہ طاقت اور قوت سے جیسے بعض دفعہ مکھیاں اڑانے سے نہیں اڑتی۔

۵؎ اس کی شرح و فوائد بھی کچھ پہلے بیان ہوچکے۔یہاں معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کو رب نے طاقت دی ہے جب چاہیں شیطان کو پکڑ کا باندھ دیں لہذا گزشتہ حدیث میں جو تھا اَمْکَنَنِیَ اﷲُ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ ہم پہلے بے قابو تھے اب قابو دیا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دائمی قابو و اختیار دیا گیاہے۔