حق اور باطل کی پہلی جنگ

تحریر: محمد حسین
جب سے دنیا قائم ہو ئی ہے تبھی سے حق اور باطل کی جنگ ہو تی رہی ہے اور ہمیشہ سے ہی حق باطل پر غالب رہا ہے باطل اپنے  آپ کو  چاہے جتنا مضبوط کر لے اور اپنے پر کو پھیلا لے مگر حق کے سامنے وہ ہمیشہ سے زیر ہوتا رہا ہے ۔جس طرح رات کی تاریکی کے بعد صبح کی سفیدی نمودار ہوتی رہی ہے اسی طرح ظلم کی تاریکیوں کو کچل کر حقانیت کا پرچم بلند ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔
اگر دیکھا جائے تو حق اور باطل کی جنگ کی ابتداء اسی وقت ہو چکی تھی جس وقت اللہ ر ب ا لعزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا اور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تمام فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم ربی پر عمل کرتے ہوئے سجدے کئے  سوائے  ابلیس کے ،ابلیس اپنے غرور کے سببب ملعون ہوا اور خدا کے حکم سے جنت سے نکال دیا گیا  تو ابلیس نے کہا اب میں تیرے بندوں کو باطل کی طرف لے جائونگا اور ان کو حق کی راہ سے بھٹکا دونگا ۔اللہ نے فرمایا کہ جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرابس نہ چلے گا  تیرا بس تو صرف ان بہکے ہوئے لوگاں پر ہی چلے گا جو تیری پیروی کریںگے تفصیل کے لئے دیکھیں ۔(القرآن سورہ الحجر ۲۸،۴۵)
حق اور باطل کے درمیان دوسری لڑائی حضرت آدم علیہ السلام کے  ان دو بیٹو ں سے شروع ہوئی جن میں ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا قابیل تھا ۔جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسری کی نہیں تو قابیل نے ہابیل سے کہا کہ میں تجھے مار ڈالوںگا تو ہابیل نے جواب دیا کہ اللہ تو متقیوں ہی کی نذر قبول کرتا ہے اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل نہیں کروںگا میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے آخر کار قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا اور وہ ان لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والوں میں ہیں۔(القرآن سورہ المائدہ ۲۷۔۳۰)
حق اور باطل کی تیسری لڑائی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور  نمرود سے ہوئی ۔جب حضرت ابراہیم نے حقانیت کے پیغام کو عام کیا اور باطل کا سر کچلنا چاہا تو اس وقت کا ظالم و جابر حکمراں نمرود نے حضرت ابراہیم کو آگ کے کنوئیں میں ڈال دیا ۔مگر اللہ کے حکم سے آگ کو سرد کر دی گئی اور حضرت ابراہیم   صحیح و  سالم وہا ں سے باہر تشریف لائے ۔بادشاہ وقت نمرود کا خاتمہ ایک مچھر کے ذریعہ ہوا  اور حق کو کامیابی ملی۔
حق اور باطل کی چوتھی لڑائی حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہوئی ۔حضرت موسی علیہ السلام کی ولادت ایک ایسی فضا میں ہوئی جہا ں ہر جانب رعب چھا یا ہو ا تھا ۔فرعون اپنی رعایا پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑتا تھا اور حد یہ ہے کہ وہ انکی اولادوں کو بھی ذبح کر دیا کرتا  تھا اس کے باطل اور ظلم و جبر کا خاتمہ کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو بھیجا  جب فرعون تکبر کی انتہا کو پہو نچنے لگا تواللہ کی مدد کا وقت بھی آگیا چنانچہ محرم کی دس تاریخ کو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور انکے حواریوں کو نجات د ے د ی ،جبکہ فرعون اور اس کے لشکر کو پانی میں غرق کر دیا  (تفصیل کے لئے دیکھیںالقرآن سورہ یونس )اس  طرح سے ایک بڑے ظالم و جابر باد شاہ کا خاتمہ ہوا اور حق کو فتح یابی ملی۔
حق اور باطل کے درمیان پانچویں لڑائی  اس وقت ہوئی کہ جب یمن کا باد شاہ اللہ کے گھر کعبہ مقدسہ کی حرمت کو  پامال اور اسکو نیست و نابود کرنے کے لئے مکہ میں داخل ہوا اور اپنے تمام لشکریو ں کے ساتھ اللہ کے گھر کو توڑنا چاہا تو اللہ تعالی نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ابابیلوں کے لشکر کو بھیجا جس نے اس بادشاہ کے لشکر کو نیست و نابود کر دیا اور باطل کا خاتمہ ہوا حق کی فتح یابی ہوئی۔(تفصیل کے لئے دیکھیں  القرآن سورہ الفیل)
حق اور باطل کے درمیان سب سے اہم اور یادگار جنگ اس وقت ہو ئی کہ جب ہر چہار جانب کفر اور ظلم کی انتہا ہو چکی تھی عورتوں کی کوئی عزت باقی نہ تھی بچیوں کو زندہ درگور کیا جا رہا تھا اور ہر طرف انسان افرا تفری کی شکار میںمبتلا تھا اللہ کے حقانیت اور پیغامات کو لوگ بھلا چکے تھے تو ایسے عالم میں اللہ تعالی نے حق کا بول بالا کرنے کے لئے اپنے پیارے محبوب جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ۴۰ سال تک اپنے اخلاق کا لوہا منوایا لوگ آپ کو  امین اور صادق کہہ کر پکارنے  لگے تو اللہ نے حضور پر اپنا کلام نازل کرنا شروع کیا چنانچہ وہی لوگ حضور کے جانی دشمن بن گئے جو آپ کو امین و صادق کہتے تھے ۔آپ اور آپ کے ماننے والوں پر ظلم و جبر کرنا شروع کر دیا حتی کہ آپ کو جان سے مارنے کا بھی اردہ کر لیا تو اللہ نے  آپ کو ہجرت کا حکم دیا  آپ  ﷺ۵۳ سال کی عمر میں مدینہ تشریف لے گئے ۔مگر کفار اور مشرکین نے آپ کو وہاں پربھی سکون سے نہ رہنے دیا اور مکہ سے ایک بڑی فوج لے کر مدینہ کی طرف روانہ  ہوئے  بدر کے مقام پر جو مدینہ سے ۲۰ میل کی دوری پر ہے دونوں افوج یعنی ایک طرف کفار و مشرکین جن کی تعداد ۱۰۰۰  تھی اور دوسری طرف حضور کے اصحاب جن کی تعداد صرف ۳۱۳ تھی میدان میں آئے یہ یقینا حق اور باطل کی جنگ تھی جس کی مثال کو ئی نہیں لا سکتا  آخر کار اللہ تعالی کی مدد سے ۳۱۳ کی تعداد ۱۰۰۰ فوج پر بھاری پڑی  اور حق کو  ایک تاریخی فتح ہوئی باطل کا منہ کالا ہوا ۔یہ عظیم یادگار جنگ ۱۷ رمضان المبا رک  (۶۲۴)عیسوی ہجرت کے دوسرے سال ہوا ۔اس کے علاوہ اب تک کے بہت سارے واقعات تاریخ میں بھری پڑی ہیں  جن کو اس  مختصر سی جگہ میں قلم بند کرنا مشکل ہے جس میں حق پر رہنے والوں کی جیت ہوئی ہے اور انشاء اللہ ہو تی رہے گی ۔ یاد رکھیں یہ میری ذاتی رائے ہے آپ اس رائے سے اختلاف رکھ سکتے ہیں ۔ا