🔥 دنیا میں اپنی مرضی الاپنے والوں کی آخری چیخیں ۔

🌀 سورة الأنبياء میں تاریخی شہادت ۔

🌹وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ (11)

فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ (12) لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ (13) قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ(14) فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ (15)وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (16 )

✏فقیر چند الفاظ کے معانی پہلے عرض کرنا چاہتا ہے ۔۔

(1) كَمْ کثرت عدد کی خبر دیتا ہے یعنی اگرچہ اس آیت میں اصل مقصود ایک بستی کا بیان ہے لیکن یہ صرف اسی بستی کے ساتھ ہی مخصوص و مقید نہیں بلکہ کثیر بستیوں اور قوموں کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے ۔

مِن قَرْيَةٍ میں ” قَرْيَةٍ” نکرہ ہے اور

” مِن ” کے بعد تو یہ عموم در عموم بھی اسی کثرت کو مزید بڑھا رہا ہے ۔

حضرت سیدنا ابن عباس سے نقل ہے کہ یمن کا شہر ( حَضوراء ) یہاں مراد ہے ۔

اپنے نبی شُعيب بن ذي مهدم کو شہید کر دیا ۔ یہ شعیب مدین والے نہیں ۔

حضرت أرمياء اس وقت بني إسرائيل کے نبی تھے ۔

الله تبارک و تعالی کی وحی آنے پر آپ نے بخت نصر کو ان پر چڑھائی کرنے کی رائے دی ۔ جس نے ان کا نام و نشان مٹا دیا ۔

(2) اللہ تبارک و تعالی نے اس قوم کی ہلاکت و تباہی کو بتانے کے لیئے

(الف ) قَصَمْنَا فرمایا ۔ ہلاکت یا اس سے ملتے جلتے الفاظ میں کیفیت اور شدت کا وہ واضح بیان نہ ہوتا جو ” قَصَمْنَا ” میں ہے ۔ قَصَمْ کا معنی ہے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نیست و نابود کرنا ۔ کسی کی ریڑھ کی ہڈی کو مہرہ مہرہ توڑنا ۔

قَصَمْ ایسا توڑنا جو ٹوٹ کر جڑ نہ سکے ۔۔

(ب) پھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے نیست و نابود کرنے کے اپنے فعل کو براہ راست اس قوم کے بجائے ” قَرْيَةٍ” پر واقع کیا ۔ یعنی ایسا نہیں کہ وہ تو نیست و نابود ہوئے اور ان کے گھر بار اور بستیاں بچ گئیں بلکہ حفاظت و بچاؤ ، سہولت و عافیت کے لیئے بسائی گئی بستی اور گھر پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور اسی میں ان کے کچومر نکل گئے ۔ (ج) تباہی میں بستی کا ذکر فرمایا لیکن نئی آبادیوں کی نشأة کے لیئے اقوام و افراد کا ذکر کیا ۔ یعنی نو پیدا شدہ لوگ ان کی طرح نہیں تھے اور انہوں نے اس برباد بستی کو نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا بلکہ تازہ بستیاں آباد کیں

(3) ظَالِمَةً فرما کر کفر و شرک کے علاوہ ان کی دیگر عادات بد کو بھی وجوہ عذاب ہونے میں شامل کر دیا ۔ عذاب صرف کفر و شرک سے ہی نہیں آتا بلکہ دیگر حدود شکنیوں اور حق تلفیوں سے بھی آتا ہے ۔ اور یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ ظالم جن جگہوں پر موجود ہو کر ظلم کرتے ہیں وہ جگہیں بھی ظلم کی نحوست والی ہو جاتی ہیں ۔ سو اپنے مکانات اور مقامات کو ہر طرح کے ظلم سے پاک و صاف رکھنا ان کی برکت و آبادی ہے۔

(4) اللہ تبارک و تعالی کے عذاب کو آتا محسوس کرکے بستی چھوڑ کر فرار کو ” يَرْكُضُونَ ” سے تعبیر کیا ۔

رکض کا معنی ہے پاؤں کی ٹھوکر ہے ۔ گھوڑے کو مزید تیز دوڑنے کی غرض سے ایڑیاں مارنا ۔ گھوڑے کا سرپٹ دوڑنا۔ یعنی اس قوم نے بھاگنے کی تیزی میں کوئی کسر کمی نہ رہنے دی ۔

(5) مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ کو عام ذکر کر کے سرکشی اور إترنے میں مبتلاء کرنے والی ہر شی ، ہر نعمت اور پورے ماحول کو بیان کر دیا ۔ْ

(6) مَسَاكِنِكُمْ ۔ سارے تعیشات کے ذکر میں ان کے مساکن اگرچہ داخل تھے لیکن الگ سے مستقل اور خصوصی ذکر اس لیئے کیا کہ ہر عہد کے لوگوں کی طرح انہیں ان پر خاص مان تھا ، یہ زعم تھا کہ ان کے گھر ان کی پناہ گاہیں ہیں ۔

(7) عذاب اترنے کے بعد ان کی حالت کو دو مختلف کیفیتوں حَصِيدًا خَامِدِينَ سے تعبیر فرمایا ۔ ٹکڑے ٹکڑے یوں ہوئے کہ “حَصِيدًا” بھوسہ بن گئے اور نیست و نابود یوں کہ “خَامِدِينَ” بھجے ہوئے کوئلے لگتے تھے ۔

آیات کا اردو مفہوم

🌷بہت ساری بستیاں جو ظلموں کی آماجگاہ تھیں ان کو ہم نے تہس نہس کر دیا ۔ اس کے بعد ہم دوسری قوم وجود میں لائے ۔

( ان ظالم بستیوں میں رہنے والے ظالموں کو ) جب ہماری پکڑ کا احساس ہوا تو وہ ان میں سے نکل کر بگٹٹ بھاگنے لگے ۔ (ان کو آواز دی گئی ) اب مت دوڑیں لگاؤ . اور واپس پلٹو اپنے تعیشات اور رہائش گاہوں کی طرف ، تاکہ تم سے کچھ پوچھا جائے ۔

( کون ان کو آواز لگائے گا ، کون پوچھے گا ، کیا اور کیوں پوچھے گا اور اس عذاب کے دوران یہ کیا بے عزتی ہو رہی ہے ۔ فقیر آج کل کے کے اختصار پسند مزاج کی وجہ سے نہیں لکھ رہا تاہم اٹھائے گئے نکات بہت کچھ بتا بھی رہے ہیں ) ۔

نیز یہ عبرت بھی تو ہے کہ انہوں نے خوب خرمستیاں کیں ۔اب تک اپنی مرضی بہت چلائی ۔ نبی کو بھی شہید کر لیا لیکن اب ، اب نہ اپنی مرضی سے نکل کر بھاگے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے ہلاکت گاہوں کو واپس لوٹنا اور سوالات کے جوابات دینا پڑ رہے ہیں ۔ )

اب تو کہنا یہ ہےکہ ہائے ہمارا ستیاناس ، ہماری بربادیاں ۔ ( اپنی مرضیاں کر کر کے ) ہم تو اپنے آپ پر مسلسل ظلم کرتے رہے ہیں ۔ (فرمان الہی ہے کہ ) یہی دہائیاں مسلسل رہیں گی یہاں تک کہ ہم انہیں بھوسہ اور بجھے ہوئے کوئلوں ( جیسا ) بنا دیں گے ۔

🌹آیت نمبر 16 میں جو وارننگ دی جارہی ہے وہ سب کی مرضیوں کا قلع قمع کر دیتی ہے ۔

” اور آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس ( سب کو ) ہم نے کھیل تماشا تو پیدا نہیں فرمایا” ۔

💎صاف صاف فرما دیا کہ ان سب کی تخلیق میں ہمارا مقصد اپنا ہے ۔ اگر اس مقصد کے مطابق رہے تو ان کا اپنا بھلا اور فائدہ ۔ اور اگر اپنے مقصد کو مدنظر رکھا تو وہ عذاب لازم جو مالک کی مرضی کے سامنے اپنی مرضیاں اور من مانیاں کرنے والوں کو ملنا قرین انصاف ہے ۔

🤲🏽اے میرے کریم رب، اپنی رحمت و نعمت کے اس فقیر خالد محمود اور اس کے اپنوں کو اپنی رضاء سے مالا مال فرمائے رکھنا ۔ آمین آمین آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین