رمضان المبارک کی خصوصیات اور اہم عبادات

تحریر: ظفر احمد خان
 ماہ رمضان المبارک ایک مقدس اور بابرکت مہینہ ہے،  اسے بہت سارے امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہیں، اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں”، رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے، ذیل میں اس ماہ کی کچھ انفرادی خصوصیات اور اہم عبادات کو ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
     روزہ :رمضان المبارک کی خاص عبادت روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے :گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا، اس رکن کے بغیر دین کی عمارت نا مکمل ہی رہے گی، اگرچہ توحید و رسالت کے اقرار کے بعد انسان اسلام میں داخل ہو کر مسلمان کہلانے کا حقدارہو جاتا ہے مگراس کا دین اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ باقی ارکان پر بھی عمل پیرا ہو، اسلام کے مذکورہ ارکان میں سے کسی ايك رکن کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے اسے ترک کرنے والا کافر ہوجائے گاالبتہ سستی اور کاہلی سے چھوڑنے والا سخت کبیرہ گناہ کا مرتکب اور فاسق ہو گا۔
نزول قرآن مجید: ماہ رمضان المبارک میں ہی اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان کے لئے اسلام کے پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا،رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہی اللہ تعالی نے قرآن کریم کا نزول فرمایا جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے، “ماه رمضان وه مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے، اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں”، (البقرہ:185)، رمضان اور قرآن کو آپس میں بہت مناسبت حاصل ہے، یہ دونوں روز قیامت بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کی شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے پینے اور خواہش پوری کرنے سے باز رکھا۔ قرآن پاک کہے گا کہ میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے باز رکھا تو آپ میری اس کے لیے شفاعت قبول فرمالیجئے چنانچہ دونوں بندے کی شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘(مسند احمد)۔
نیکیوں کی قیمت میں اضافہ : رمضان المبارک نیکیوں کی قیمت میں اضافہ اور بلندی درجات کا مہینہ ہے، اس مہینے میں اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اور نفل کا ثواب فرض کے برابر او رایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ملتا ہے۔
 ایک سال کے گناہوں کی بخشش : اس ماہ مقدس میں سال بھرکے گناہوں کی بخشش کا وعدہ ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے، “پانچوں نمازیں ، ہر جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیانی مدت کے گناہوں معاف کردئے جاتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے” ۔(مسلم
گناہوں کو مٹانے ذریعہ : روزہ گناہوں کو مٹانے کا ذریعہ ہے، “حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا فتنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کسی کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ انسان کے لیے اس کے بال بچے، اس کا مال اور اس کے پڑوسی فتنہ (آزمائش و امتحان) ہیں، جس کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے”۔(بخاری
 روزہ ڈھال ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “روزہ ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت والا برتاوَ۔ اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اس کے ساتھ گالی گلوچ کرے تو بس وہ اتنا کہے کہ: میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں‘‘۔  (بخاری)، ڈھال ہر بدعملی سے ، ہر نافرمانی سے ، ہر گناہ سے اورہر عذاب سے ، یہ ڈھال ، انسان کی حفاظت ہے ، اس کی پناہ میں آیا ہوا انسان ، سیرت وکردار کی روشن مثال ہوتا ہے اورنیکی کے حصار میں رہتا ہے۔
روزے کا بے حساب اجر: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے نقل کیا کہ اللہ تبارکوتعالی فرماتا ہے : “ہرعمل کا کفارہ ہے اور روزہ میرے لئے ہے میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور یقینا روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ ہے”۔ مطلب یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے نزدیک اس بو کی اہمیت مراد ہے یعنی اجروثواب کے لحاظ سے ، اس حدیث‌ میں اہم بات یہ ہے کہ اس میں روزہ دار کے منہ کی بو کو مشک سے بھی بہتر بتایا گیا ہے، اب قابل غوربات یہ ہے کہ اس میں‌ روزہ دار کے منہ کی بو کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے ، وہ کیوں ؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ محققین کے مطابق اس بو کی تعریف اس لئے کی گئی ہے تاکہ لوگ روزہ دار کے ساتھ بات چیت کرنے میں ناگواری محسوس نہ کریں ، معلوم ہوا کہ ہمیں روزہ دار کے منہ کی اس بو کو عیب نہیں سمجھنا چاہئے اوراسے ناگوارسمجھتے ہوئے روزہ داروں سے کٹ کرتنہائی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔
فرشتوں کی دعا: روزے دار کے لئے فرشتے افطار کے وقت تک دعا کرتے ہیں فرشتے اللہ کی معصوم مخلوق ہیں  اللہ کے احکام کی کبھی نافرمانی نہیں کرتے ہمیشہ اللہ کی اطاعت میں لگے رہتے ہیں ان کی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہےروزے داروں کے حق میں ایسی نورانی مخلوق کا دعا کرنا امت محمدیہ کے مرتبے کی بلندی کو ثابت کرتا ہے تو وہیں روزے کی اہمیت و عظمت کو بھی واضح کرتا ہے۔
رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہے،یعنی اگر روزے وغیرہ میں کچھ تکلیف ہو تو اسے بہت شوق سے برداشت کرنا چاہیے، غصہ اور ہنگامہ آرائی سے اجتناب کرنا چاہیے ، جھگڑے اور گالی گلوچ نہیں کرنا چاہتے جیساکہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے، غرض ہر حال میں صبر ہی کرنا چاہیے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے “صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے” (الزمر:10)، یعنی ایمان وتقویٰ کی راہ میں مشکلات بھی ناگزیر اور شہوات ولذات نفس کی قربانی بھی لابدی ہے، جس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔ اس لئے صابرین کی فضیلت بھی بیان کر دی گئی ہے، کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یعنی ان کا اجر غیر متناہی ہوگا۔ کیوں کہ جس چیز کا حساب ممکن ہو، اس کی تو ایک حد ہوتی ہے اور جس کی کوئی حد اور انتہا نہ ہو، وہ وہی ہوتی ہے جس کو شمار کرنا ممکن نہ ہو۔ صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اس لئے کہ جزع فزع اور بے صبری سے نازل شدہ مصیبت ٹل نہیں جاتی، جس خیر اور فائدے سے محرومی ہوگئی ہے، وہ حاصل نہیں ہو جاتا اور جو ناگوار صورت حال پیش آچکی ہوتی ہے، اس کا اندفاع ممکن نہیں۔ جب یہ بات ہے تو انسان صبر کرکے وہ اجر عظیم کیوں نہ حاصل کرے جو صابرین کے لئے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔
سرکش جن و شیاطین کی قید: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے”، (ابن ماجہ)، یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ جاتی ہے، اور وہ اس میں تلاوت قرآن، ذکر و عبادت اور توبہ و استغفار کا خصوصی اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
لیلة القدر: رمضان المبارک میں ایک ایسی رات آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، حدیث میں آیا ہے، حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جو ماہ تم پر آیا ہے‘ اس میں ایک ایسی رات ہے‘ جو ہزار ماہ سے افضل ہے‘ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا‘ گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتا محروم ہو۔ (ابن ماجہ
جہنم سے آزادی : افطار کے وقت اللہ تعالیٰ بندوں کو آزاد کرتا ہے، اس وجہ سے بطور خاص افطار کے وقت روزے کی قبولیت، گناہوں کی مغفرت، بلندی درجات ، جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کی دعا کرنی چاہیے، “لله عند کل فطرعتقاء” (احمد)، یعنی اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے،اور ایک روایت اس طرح ہے : إنَّ للَّهِ عندَ كلِّ فِطرٍ عتقاءَ وذلِك في كلِّ ليلةٍ (ابن ماجه)، یعنی اللہ تعالی ہرافطار کے وقت (روزہ داروں کوجہنم سے ) آزادی دیتاہے، یہ آزادی ہررات ملتی ہے۔
قبولیت دعا: اس با بر کت مہینے کی ایک اہم خصوصیت افطار کے وقت دعا کی قبولیت ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی، عادل حکمران، روزہ دار افطاری کے وقت، اور اللہ تعالی مظلوم کی دعا  کو بادلوں سے  بھی  بلند  فرماتا ہے، اس کے سامنے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور اللہ تعالی فرماتا ہے: “مجھے میری عزت کی قسم!  میں تمہاری ضرور مدد کرونگا چاہے کچھ دیر کے بعد”(ترمذی
 آخری عشرے کی خاص عبادت : اس مہینے کے آخری عشرے میں ایک اور مخصوص عبادت امت مسلمہ کو عطا کی گئی ہے جو سنّت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اصطلاح میں اسے اعتکاف کہتے ہیں، احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے، چنانچہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا :  ’’وہ (یعنی معتکف) گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنیوالے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔‘‘(ابن ماجه). ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اور حدیث مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔‘‘(طبرانی،بیہقی)،  حضرت علی بن حسین اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔‘‘(بیہقی شعب الایمان
            اب اتنی اہم خصوصیات فضائل وبرکات اور عظمتوں پر مشتمل ماہ مقدس کو لایعنی امور میں مشغولیت، لہو ولعب اور غفلت میں نہ گزار کر اس کے ایک ایک لمحے اور قیمتی اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے مندرجہ ذیل اعمال کی انجام دہی کے ذریعے اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور استفادہ کی کوشش کرنا چاہیے  اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین
 روزہ: اس ماہ مقدس کی خاص اور اہم عبادت روزہ ہے، اس کی بہت فضیلت اور بڑا اجر ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”ہر عمل آدمی کا دونا ہوتا ہے۔ اس طرح کہ ایک نیکی دس تک ہو جاتی ہے یہاں تک کہ سات سو تک بڑھتی ہے اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ مگر روزہ سو وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دیتا ہوں اس لیے کہ بندہ میرا اپنی خواہشیں اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے اور روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، دوسری خوشی ملاقات پروردگار کے وقت، اور  روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو بوئے مشک سے زیادہ پسند ہے۔(مسلم)،دوسری حدیث میں ہے، حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جس نے حالت ایمان میں اور احتساب کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔(بخاری). اس لئے روزے میں کھانے پینے سے رک جانے کے ساتھ ساتھ حرام امور جھوٹ غیبت اور چغلی بہتان وغیرہ سے رک جانا بھی ضروری ہے تاکہ رمضان اور غیر رمضان کے اوقات میں واضح فرق ہو بصورت دیگر کہیں ایسا نہ ہو کہ روزہ رکھنے کی صورت میں ہمیں صرف بھوک پیاس کے سوا کچھ نصیب نہ ہو۔
 قیام رمضان: رمضان میں قیام کرنا غیررمضان میں قیام کرنے سے افضل ہے اور اس کا ثواب روزے کے مثل ہے، اگر ایمان واحتساب کے ساتھ کیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :  جو رمضان میں ایمان اور اجر کی امید کے ساتھ قیام کرتا ہے اس کے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ۔(مسلم)، اور اللہ تعالی کا فرمان ہے، رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے، (سلام سے مراد یہاں اعراض اور ترک بحث و مجادلہ ہے۔ یعنی اہل ایمان، اہل جہالت و اہل سفاہت سے الجھتے نہیں ہیں بلکہ ایسے موقعوں پر اعراض و گریز کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور بے فائدہ بحث نہیں کرتے)، اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں.(الفرقان:63)، حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں رمضان المبارک کے مہینے میں حضرات صحابہ و تابعین بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے اور وہ سو سو آیتیں پڑھا کرتے تھے اورامیر المومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شدت قیام یعنی طول قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے۔ (سنن بیہقی
صدقہ و زکوۃ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ جواد (سخی) تھے اور رمضان میں (دوسرے اوقات کے مقابلہ میں جب) جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے، غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے۔(بخاری)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بہترین سخی تھے، آپ کی جودوسخاوت کی تشبیہ بارش لانے والی ہواؤں سے دی گئی جوبہت ہی مناسب ہے، باران رحمت سے زمین سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے، آپ کی جودوسخاوت سے بنی نوع انسان کی اجڑی ہوئی دنیا آباد ہو گئی۔ ہر طرف ہدایات کے دریا بہنے لگے۔خداشناسی اور اخلاق فاضلہ کے سمندرموجیں مارنے لگے، آپ کی سخاوت کی اتباع کرتے ہوئے ہمیں بھی سخی،جواد و وسیع القلب ہونا چاہئیے، خصوصاً رمضان شریف کا مہینہ جودوسخاوت ہی کا مہینہ ہے کہ اس میں ایک نیکی کاثواب کتنے ہی درجات حاصل کرلیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ مبارک میں خصوصیت کے ساتھ اپنی ظاہری وباطنی سخاوتوں کے دریا بہا دیتے تھے۔
کھانا کھلانا: اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری. (الانسان:8، 9)، طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر) اسی طرح غلام اور نوکر چاکر بھی اسی ذیل میں آتے ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی آخری وصیت یہی تھی کہ ”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا“۔ (ابن ماجہ)، ایک روایت میں ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔(بخاری
غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا اسلام میں ایک مہتم بالشان نیکی قرار دیا گیا ہے، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام کا منشا یہ ہے کہ بنی نوع انسان میں بھوک و تنگ دستی کا اتنا مقابلہ کیا جائے کہ کوئی بھی انسان بھوک کا شکار نہ ہو سکے اور سلامتی وامن کو اتنا وسیع کیا جائے کہ بدامنی کا ایک معمولی سا خدشہ بھی باقی نہ رہ جائے۔ اسلام کا یہ مشن خلفائے راشدین کے زمانہ خیرمیں پورا ہوا اور اب بھی جب اللہ کو منظور ہو گا یہ مشن پورا ہو گا۔ تاہم جزوی طور پر ہر مسلمان کے مذہبی فرائض میں سے ہے کہ بھوکوں کی خبر لے اور بدامنی کے خلاف ہر وقت جہاد کرتا رہے۔ یہی اسلام کی حقیقی غرض و غایت ہے، موجودہ لاک ڈاؤن کی صورت میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے لہذا اپنی وسعت اور معلومات کے مطابق ہر بھوکے کو کھانا کھلانے کی فکر کرنی چاہیے اس کے لئے امیر اور غریب کی شرط کا التزام نہیں کرنا چاہیے، البتہ غریبوں مسکینوں محتاجوں اور پڑوسیوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔
قرآن کریم اور رمضان المبارک: قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری مناسبت ہے، مثلاً رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا معمول دوسرے ایام کی بہ نسبت زیادہ رکھتے تھے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا دور کراتے تھے ، اسی طرح تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔
           یقیناً قرآن مجید کی تلاوت اللہ تعالیٰ کوبے حد محبوب ہے، اور اس پڑھنا اور سننا دونوں کارِثواب ہے، اس کے ایک ایک حرف پر اجروثواب کا وعدہ ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا سمجھنا، اس میں تدبر و تفکر کرنا اوراس پر عمل پیراہونا نہایت ضروری ہے، اور در اصل یہی نزول قرآن کا منشا ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو(اے نبی)ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غورکریں اورعقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں،‘‘(صٓ29)، لہٰذا اس رمضان المبارک میں ہم سب یہ عہد کریں کہ کئی مرتبہ ختم قرآن کر نے کے بجائے قرآن کریم کو ٹھہرٹھہر کر سمجھ کر پڑھنے کا اہتمام کریں گے اور کئی مرتبہ ناظرہ ختم کرنے سے ایک مرتبہ قرآن کو اس کے ترجمے اور مفہوم کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں گے، ان شاء اللہ یہ ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا، قرآن کریم کو اس طرح پڑھنے کی فکر کریں گے جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہے، جہاں نیکیوں اور اچھائیوں کا ذکر ہوگا وہاں یہ خواہش کریں گے کہ ہم ان نیکیوں اور اچھائیوں کو اختیار کریں، اور اللہ سے دعا کریں گےکہ و ہ ہمیں اس کی توفیق دے، اور جہاں برائیوں اور گناہوں کا ذکر ہوگا وہاں ہماری یہ خواہش ہوگی کہ ہم ان برائیوں اور گناہوں سے بچ جائیں اور اللہ ان برائیوں اور گناہوں سے بچنے کی دعا کا اہتمام کریں گے، نیک لوگوں اور صالحین کا ذکر آئےگا تو ان میں شامل ہونے کی خواہش کریں گے، برے لوگوں کا ذکر ہوگا  تو ان کے انجام عبرت حاصل کرنے کے علاوہ ان سے دور رہنے کی دعا کریں گے۔
نماز فجر کے بعد طلوع شمس تک بیٹھنا: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے جب تک کہ آفتاب اچھی طرح نہ نکل آتا۔(مسلم)، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص با جماعت فجر کی نماز ادا کرے اور پھر بیٹھ کر اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، پھر دو رکعت نماز ادا کرے تو  اس کیلیے مکمل مکمل ، مکمل حج و عمرہ کرنے کا ثواب ہو گا۔ (ترمذی)، جب یہ عام دنوں کی بات ہے تو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں ان نیکیوں کے کیا ہی کہنے، لہذا ہمیں بھی قیام اللیل سلف صالحین کی اقتدا و اتباع اور اعمال میں مجاہدے کے ذریعے ان اجر ثواب کے حصول کی کوشش کرنا چاہیے۔
 اعتکاف: اللہ کی عبادت کے لیے مقررہ اوقات میں مسجد میں ٹھہرنے اور  اپنے اوپر مسجد کو لازم کرنے کو اعتکاف کہتے ہیں، یہ فضیلت کے کاموں اور بڑی عبادات میں سے ایک عبادت ہے، اعتکاف ہر وقت سنت ہے اور سب سے بہتر رمضان کا آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف کیا کرتے تھے۔(زاد المعاد)، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس فانی دنیا سے پردہ فرمانے تک رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں” (بخاری)، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔(بخاری)، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔(بخاری
          اعتکاف کی حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے آدمی دنیا سے کٹ جاتا ہے، دنیا اور اھل دنیا کے ساتھ مشغولیت سے بچ جاتا ہے اور اللہ کی عبادت کے لیے فارغ ہو جاتا ہے، رب کو راضی کرنے والے اعمال میں مشغول ہو کر نافرمانی اور اللہ کو ناراض کر دینے والے افعال و أعمال سے بچ جاتا ہے،لہذا ہمیں بھی اعتکاف کے لئے وقت نکال کر اپنے دل کو اللہ کی عبادت کے لیے فارغ کر دے۔
 عمرہ کی ادائیگی : اللہ کے مقدس گھر کی زیارت کی تمنا کسے نہیں ہوگی لہذا اگر اللہ نے وسعت اور گنجائش بھی ہے تو اس مہینے میں عمرے کی ادائیگی کا اہتمام فرمائے اور اس کے لیے پہلے سے تیاری کریں اس کی بڑی فضیلت اور بڑا اجر و ثواب ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ (صاحب استطاعت) پر حج اور عمرہ واجب ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کتاب اللہ میں عمرہ حج کے ساتھ آیا ہے ”اور پورا کرو حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے”(بخاری)، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔(بخاری) ،یہ تو عام دنوں کی بات ہے، رمضان المبارک میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے کی ماہ مقدس میں عمرے کی ادائیگی کس قدر اجر و ثواب کا ھحامل ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون (ام سنان رضی اللہ عنہا) سے (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کا نام بتایا تھا لیکن مجھے یاد نہ رہا) پوچھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، جس پر ابوفلاں (یعنی اس کا خاوند) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر حج کے لیے چل دیئے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے، جس سے پانی لایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے یا اسی جیسی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔(بخاری)