رمضان رحمتوں کا خزینہ

ازقلم: محمد شفیع اللہ
صوم کا لغوی معنی روکنے اور ٹھہرنے کے ہیں ۔ شرعی اصطلاح  میں انسان کا طلوع فجر سے لیکر غروب شمس تک اپنے آپ کو کھانے پینے اور عمل زوجیت سے روکے رہنے کا نام صوم ہے اسی وجہ سے روزے کی اہمیت وفضیلت برکت بہت زیادہ ہے اور یہ بڑے اور اہم فرائض میں سے ایک ہے. اسی وجہ سے  رمضان کے مہینے میں اسکا اہتمام بڑے ہی دلجوئی ودلچسپی سے کیا جاتا ہے ۔ویسے بھی رمضان کا مہینہ بہت ہی مبارک مہینہ ہے، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس مہینہ کا بیحد شدت سے انتظار کیا کرتے تھے اور اگر ماہ مبارک آ جاتا تو آ پ اللہ تعالی کی عبادت اور زیادہ اہتمام سے کیا کرتے تھے.
روزہ سن دو ہجری میں فرض ہوا تحویل قبلہ کے واقعہ سے کم وبیش دس پندرہ روز بعد ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہےشهر رمضان الذى أ نزل فيه القرآن هدى اللناس وبينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهرفليصمه” (سورةالبقره:١٨٥)  آ گے اللہ تعالی کا ارشاد ہے “يايها اللذين آ منوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون” (اے ایمان والوں ! تمہارے اوپر روزے فرض کیے گئے ہیں جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پر ہزگار بن جاؤ )اس آ یت میں بھی روزہ کے فرضیت کا اعلان کیا گیا  ہے لیکن اس آ یت کا اسلوب ہی کچھ اور ہے ۔اس میں ایمان والوں کو براہ راست خطاب کیا گیا ہے اور مومنوں کو تسلی دی گئی ہے  یأيها الذين أ منوا (اے ایمان والو!)  یہاں پر يا أيها الناس نہیں کہا گیا بلکہ کہا گیا کہ اے وہ لوگوں جو اللہ اور اسکے رسول کے حکموں کو ماننے کا اقرار کر چکے ہو اللہ براہ راست ایمان والوں سے مخاطب ہے۔تورات میں اللہ نے بنی اسرائیل کو صرف ایک مرتبہ براہ راست خطاب کیا اس پر وہ لوگ اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ وہ کہا کرتے تھے نحن ابنؤالله وأحباؤه(الماءده:١٨)ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے چنے ہوئے بندے ہیں ۔وہ ایک مرتبہ کے خطاب پر وہم برتری کے شکار ہو گئے جبکہ اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو قرآن پاک میں(٨٨)  مرتبہ براہ راست خطاب کیا ہےپھر مومنوں کو اپنے طرف متوجہ کرکے ارشاد فرمایا كتب عليكم الصيام یعنی تم پر روزہ فرض کئے گئے ہیں لیکن کیوں فرض کئے گئے ہیں کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی ہم لوگوں کو ایک مہینہ کھانے پینے سے روک رہا ہے اور بھوکا پیاسا رہنے کا حکم دے رہا ہے۔ کہیں ہمارا خدا ہم سے ناراض تو نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ سزا دے رہے ہیں تو اللہ نے اس وہم کو  اذالہ کرنے کے لئے فرمایا (جیسا کہ یہ روزہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے) یعنی یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے جو تم پر ایک بوجھ کی شکل میں ڈال دیا گیا ہو اور نہ ہی یہ کوئی سزا ہے اور نہ ہی تم پر کوئی پابندی مسلط کی جارہی ہے بلکہ یہ ایک عبادت کا  تسلسل ہے جو تم سے پہلے بھی تمام امتوں میں جاری تھا ۔تم سے پہلی تمام کی تمام قوموں میں بھی روزہ پایا جاتا تھا چاہے وہ کسی بھی مذہب کسی بھی عقیدے کا معتقد ہو۔اگرچہ انکا روزہ رکھنے کا طریقہ اور مقصد الگ الگ تھا یا مختلف تھا ۔اور اسلام سے با لکل جداگانہ تھا، جیسے کہ خود مسیحی اور یہودی قوموں کے اندر روزوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ وہ یا تو کسی بلا کو دفع کرنے کے لئے رکھے جاتے تھے یا کسی فوری اور مخصوص روحانی کیفیت کے حاصل کرنے کے لیے ۔ یہود کے ماموس اعظم جیوش انساۂکلو پیڈیا میں ہے کہ قدیم زمانہ میں روزہ یا تو بطور علامت ماتم رکھا جا تا تھا یا جب کوئی خطرہ پیش ہوتا تھا  یا جب سالک اپنے قول الہام کی استعداد پیدا کرنا چاہتا تھا۔تب اسکا اہتمام کیا جاتا تھا
(تفسیر ماجدی)
بہر حال پھر امت محمدی پر اسکی فرضیت کا درجہ دیکر مسلمانوں پر اسکو فرض کردیا گیا اور اسکی مقبولیت اہمیت و برکات وحسنات سے متعارف کرایا، اور پچھلے قوموں کے تمام افکار خیالات وعقائد ومقاصد کو  اللہ تعالی نے باطل قرار دیا اور روزہ کا مقصد بتایا کہ لعلكم تتقون تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ متقی بن جاؤ ۔لیکن تقوی کسے کہتے ہیں،عربی لغت میں تقوی اس کیفیت کا نام ہے کہ انسان کسی خار دار جنگل میں سے گزرتے ہوئے جس طرح جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹوں سے بچنے کی کوشش کر تا ہے اور اپنے کپڑے کو سمیٹنے کی کوشش کر تا ہے کہ خدا نہ خواستہ کیسی کانٹے میں نہ الجھ جائے بالکل اسی طرح دنیا میں میں زندگی بسر کرتے ہوئے انسان سے یہی طرز عمل مقصود ہے کہ انسان دنیا کی تمام برائیو، گناہوں ریاکاری و بدکاری اور شرک و بدعت اور بد کرداری و بد عملی اور چھوٹ وچوغلخوری اور بد نیتی سے بچتے ہوے زندگی گزارے۔”ہر اس شئ سے بچنا جو روح کی پرواز و ترقی میں حائل ہوتی ہو اور ہر اس شئ سے جو روح کے جوہر لطیف کے حق میں زہر کا اثر رکھتی ہو”(خطاب ذوالفقار ) اللہ تعالی نے یہ مہینہ مسلمانوں کی بیداری کے لئے بنایا کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ میرا یہ بندہ دنیا کے کام میں جب مشغول ہوگا تو مجھے بھول جائے گا اور ہماری عبادت کی طرف پوری توجہ کے ساتھ نہیں لگے  گا تو اللہ نے اپنے بندوں کو ایک سنہرا موقع عطا فرمایا اور کہا کہ ہم تمہیں ہر سال ایک مہینہ دیتے ہیں تاکہ تم اس مہینہ کے اندر پوری توجہ کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کی طرف متوجہ ہو جائو اور تمہارے دلوں کے اندر جو غفلت اور سستی آ گئی ہے اور دلوں کے اندر جو زنگ لگ گیا ہے اسکو دور کر سکواور اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکو ۔اور اس مہینہ کے اندر مسلمانوں کے اجر کو دوگنا کر دیا جاتا ہے تاکہ میرا بندہ زیادہ سے زیادہ اجر کا مستحق بن سکے ۔حدیث قدسی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آ دم کا ہر عمل دوگنا ہوتا ہے نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس روزہ کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ(روزہ میرے لیئے ہے اور میں ہی اسکا بدلا دوگنا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے) ایک جگہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة(روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے )نماز اور روزہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے ایجابی و سلبی، مثبت و منفی دو پہلو ہیں نماز کی حیثیت فاعلی ہے یعنی دربار خدابندی میں حاضری دو اپنی روح جزئ کا براہ راست تعلق روح کلی سے پیدا کرو ، اور روزہ کی حیثیت انفعالی ہے ، یعنی ان چیزوں سے بچوں جو اس راہ میں حائل ہوتی ہو جو روح کی سرعت پرواز میں نا قابلِ شکست دراڑیں پیدا کرتی ہوں،نماز بمنزل دوا ہے اور روزہ بمنزل پرہیز ہے دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر ظاہر ہے ۔(تفسیر ماجدی)حدیث پاک میں آ یا ہیکہ جبرئیل  عليه السلام نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بدعا کی جس پر آ پ نے آ مین بھی کہا ، بعد من أدرك رمضان فلم يغفر له (رواه الحاكم) (برباد ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس نے اپنی مغفرت نہیں کروائی)، پہلی بات تو یہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کبھی بد عا نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام کرتے ہیں اس لئیے کے اللہ تعالی  کا ارشاد ہے،لايعصون الله ما أمر هم ويفعلون ما يومرون (التحريم: ٦ )  اللہ جو انہیں حکم دیتا ہے اس کی نا فرمانی نہیں کرتے اور وہ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے)اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم خدابندی تھا اور منشائے خدابندی تھی کہ جاؤ بد دعا کرو ،اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آ مین کہنا نہایت بڑی بات ہے  ۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم  نے فرمایاجب رمضان کا مہینہ آ تا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے  (متفق عليه)
 رمضان المبارک میں دعا کا خوب اہتمام کریں دعا عین عبادت ہے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” الدعاء هو العباده “(الترمزى) نيز آپ نے فرمایا کہ” من لم يسأل الله يغضب عليه” ( جو بندہ اللہ سے نہیں مانگتا ہے اللہ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں)قرآن پاک کی تلاوت کا بھی خوب اہتمام کریں کیونکہ قرآن مجید کو رمضان پاک سے گہرا تعلق ہے اور اس ماہ مبارک سے خاص مناسبت ہے اسلیئے کے رمضان ہی کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا ارشاد خدابندی ہے (شهر رمضان الذى أ نزل فيه القرآن )قرآن كريم كے دوسری آ یت میں آ یا ہیکہ ہم نے قرآن مجید شب قدر میں نازل فرمایا اور یہاں رمضان شریف میں نازل کرنا فرمایا ہے سو وہ شب قدر رمضان کی تھی اس لیئے دونوں مضمون موافق ہو گئے اور اگر یہ وسوسہ ہو کہ قرآن مجید تو کئی سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو پھر رمضان میں یا شب قدر میں نازل فرمانے کا کیا معنی؟ اسکا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آ سمان دنیا پر دفعتا رمضان کی شب قدر میں نازل ہو چوکا تھا پھر آسمان دنیا سے دنیا میں بتدریج کئی سال میں نازل ہوا(بیان القران)اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کا ذکر بھی کر تے رہیں اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اور ذکر اللہ سے دلوں کو منور کرتے رہے رمضان المبارک میں زکوۃکے علاوہ نفلی صدقات بہی زیادہ سے زیادہ دینے کی کوشش کریں ۔لہذا ہم لوگ بھی رمضان المبارک میں صدقات کا  اہتمام کریں۔صدقات وخیرات کرتے وقت ریا کاری سے بچنے کی کوشش کریں ۔  مسند احمد کی ایک حدیث ہے کہ  شداد بن اوس رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جس نے دکھلانے کے لیئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا جس نے دکھلانے کے لیئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا جس نے دکھلانے کے لیئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا ۔  ١٢٦/٤