حدیث نمبر235

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھتا تھا تو کنکریوں کی ایک مٹھی لے لیتا تھا ۱؎ تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوجائیں انہیں اپنی پیشانی کی جگہ رکھ لیتا تاکہ ان پر سجدہ کروں سخت گرمی کی وجہ سے ۲؎(ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل۔

شرح

۱؎ نماز سے پہلے کچھ بجری ٹھنڈی کرکے سجدہ گاہ میں رکھ لیتا تھا نہ کہ نماز کے اندر،لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے۔

۲؎ یعنی فرش سخت گرم ہوتا تھا جس پر سجدہ کرنا مشکل ہوتا اس لیے یہ عمل کرتا لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گرمیوں میں ظہر دوپہری میں پڑھتے تھے اور نہ یہ حدیث اس کے خلاف ہے کہ ظہر ٹھنڈی کرو،فرش بہت دیر تک گرم رہتا ہے لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔