أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَـتَّخِذُوۡۤا اِلٰهَيۡنِ اثۡنَيۡنِ‌ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ۚ فَاِيَّاىَ فَارۡهَبُوۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے فرمایا دو کو عبادت کا مستحق نہ بناؤ وہ (اللہ) صرف ایک ہی عبادت کا مستحق ہے، سو مجھ سے ہی ڈرو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے فرمایا دو کو عبادت کا مستحق نہ بناؤ وہ (اللہ) صرف ایک ہی عبادت کا مستحق ہے، سو مجھ سے ہی ڈرو۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے کیا تم اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرو گے ؟۔ (النحل : ٥١، ٥٢ )

الہ کا معنی معبود ہے یا عبادت کا مستحق ؟

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز اس کی مطیع اور فرمانبردار ہے خواہ وہ چیز عالم ارواح سے ہو یا عالم اجسام سے فرشتے ہوں، جنات ہوں، انسان ہوں یا حیوان ہوں سب اختیاری یا اضطراری طور پر اسی کی عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک سے منع فرمایا اور فرمایا سارا جہان اس کی ملک ہے، سب اپنے وجود اور اپنی بقا میں اس کے محتاج ہیں اور وہ ہر چیز سے مستغنی ہے۔

اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے کہ دو اللہ، دو عدد نہ بناؤ الھین کا معنی ہے دو اللہ اور اثنین کا معنی ہے دو عدد، اب سوال یہ ہے کہ الھین کے بعد اثنین کیوں فرمایا ؟ اس کے تین جواب ہیں۔ پہلا جواب یہ ہے کہ اصل عبارت یوں ہے کہ دو چیزوں کو دو الہ نہ بناؤ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جس چیز سے زیادہ متنفر کرنا مقصود ہوتا ہے اس چیز کا ذکر زیادہ الفاظ سے اور تاکید سے کیا جاتا ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ جب فرمایا دو الہ نہ بناؤ، ل تو یہ پتا نہیں چلا کہ مقصود نفس الوہیت کی نفی ہے یا تعدد کی نفی مقصود ہے اور جب فرمایا دو عدد تو واضح وہ گیا کہ اس آیت میں تعدد کی نفی مقصود ہے، اس لیے ہم نے آیات کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ دو کو عبادت کا مستحق نہ بناؤ۔

عام طور پر مترجمین الہ کا معنی معبود کرتے ہیں اور ہم نے اس کا ترجمہ ہر جگہ عبادت کا مستحق کیا ہے، کیونکہ معبود کا معنی ہے جس کی عبادت کی گئی ہو، اور اللہ تعالیٰ کے سوا بیشمار چیزوں کی عبادت کی گئی ہے اور کی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق کوئی نہیں ہے وہ صرف واحد ذات ہے جو عبادت کی مستحق ہے اور لا الہ الا للہ کا یہ معنی نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ یہ معنی واقع کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا بہت چیزوں کی عبادت کی گئی ہے اور کی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں ہے۔

توحید پر دلائل :

خدا کے لیے ضروری ہے کہ وہ واجب اور قدیم ہو، اگر ہم دو خدا فرض کریں تو ضروری ہوگا کہ وہ دونوں واجب اور قدیم ہوں اور دو چیزوں کا ایک دوسرے سے ممیز اور ممتاز ہونا بھی ضروری ہے، پس ان دونوں میں سے ہر ایک دو جزؤں پر مشتمل ہوگا ایک جزوجوب اور قدم ہوگا اور دوسرا جز وجہ امتیاز اور ممیز ہوگا، پس ہر خدا دو جزاؤں سے مرکب ہوتا، اور جو چیز مرکب ہو وہ ممکن اور حادث ہوتی ہے واجب اور قدیم نہیں ہوتی پس اگر آپ دو چیزوں کو خدا فرض کریں گے تو ان میں سے ایک بھی خدا نہیں ہوگا۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر بالفرض دو خد ہوں، اور ان میں سے ایک خدا ایک معین وقت میں کسی خاص جسم کو حرکت دینے کا اردہ کرے اور دوسرا اس معین وقت میں اس خاص جسم کو ساکن کرنے کا ارادہ کرے تو یا تو وہ خاص جسم اس وقت میں متحرک بھی ہوگا اور ساکن بھی ہوگا اور یہ اجتماع ضدین ہے اور محال ہے، یا وہ خاص جسم اس معین وقت میں نہ متحرک ہوگا نہ ساکن یہ اس لیے محال ہے کہ پھر دونوں کا عجز لازم آئے اور دونوں میں سے کوئی بھی خدا نہیں ہوگا، اور اگر وہ خاص جسم اس وقت متحرک ہوا تو جس نے اس کو ساکن رکھنے کا ارادہ کیا تھا وہ خدا نہیں رہا اور اگر وہ اس معین وقت میں ساکن ہوا تو جس نے اس کو متحرک رکھنے کا ارادہ کیا تھا وہ خدا نہیں رہا، پس ثابت ہوا کہ دو خدا نہیں ہوسکتے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ دونوں ہمیشہ اتفاق کرتے ہیں اور کبھی اختلاف نہیں کرتے تو اول تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں اختلاف کرنا ممکن تو ہے ہم اس اختلاف کی صورت میں پھر یہی تقریر کریں گے ثانی یہ کہ جب وہ ہمیشہ اتفاق کرتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ پہلے ایک خدا کسی چیز کا ارادہ کرے اور دوسرا اس سے اتفاق کرے پس پہلا متبوع اور دوسرا اس کا تابع ہوگا اور تابع خدا نہیں ہوسکتا پس لازم آیا کہ آپ جب بھی دو خدا فرض کریں گے تو خدا ایک ہی ہوگا دو خدا نہیں ہوسکتے۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر دو خدا ہوں تو ان میں سے ایک خدا اپنی مخلوق اور اپنے ملک کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر ہوگا یا نہیں، اگر وہ اپنے ملک اور مخلوق کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر نہ ہوا تو یہ اس کا عجز ہوگا اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا، اور اگر وہ اپنے ملک اور اپنی ملک کو دوسرے خدا سے چھپانے پر قادر ہے، تو جس سے چھپانے پر قادر ہے اس کا جہل لازم آئے گا، اور جاہل خدا نہیں ہوسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب بھی دو خدا فرض کیے جائیں گے تو ان میں سے ایک خدا ہوگا دوسرا خدا نہیں ہوگا۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ اگر دو خدا فرض کیے جائیں تو ان میں سے ایک خدا دوسرے خدا کی مخالفت کرنے پر قادر ہوگا یا نہیں، اگر وہ اس کی مخالفت کرنے پر قادر نہیں ہے تو یہ اس کا ضعف ہوگا اور ضعیف خدا نہیں ہوسکتا اور اگر وہ اس کی مخالفت پر قادر ہے تو پہلا اس کی مخالفت کی مدافعت کرسکتا ہے یا نہیں اگر نہیں کرسکتا تو پہلے کا عجز ہے اور عاجز خدا نہیں ہوسکتا اور اگر پہلا دوسرے کی مخالفت کی مدافعت کرسکتا ہے تو پھر یہ دوسرے کا ضعف ہے اور ضعیف خدا نہیں ہوسکتا۔

ان دلائل سے واضح ہوگیا کہ دو چیزیں خدا اور مستحق عبادت نہیں ہوسکتیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ دو چیزوں کو عبادت کا مستحق نہ بناؤ۔

اللہ تعالیٰ نے توحید پر ایک اور آسان اور عام فہم دلیل یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کثرت وحدت کے تابع ہوتی ہے، طالب علموں پر ایک استاذ ہوتا ہے، چند اساتذہ ہوں تو ہیڈ ماسٹر ایک ہوتا ہے، چند سپاہیوں پر ہیڈ کا نسٹیبل ایک ہوتا ہے، چند ہیڈ کا نسٹیبل ہوں تو ان پر سب انسپکٹر ایک ہوتا ہے، پھر چند انسپکٹر ہوں تو ان پر ڈی۔ ایس۔ پی ایک ہوتا ہے، پھر ایس۔ پی ایک ہوتا ہے، چند ڈی۔ آئی۔ جی ہوں تو ان پر انسپکٹر جنرل ایک ہوتا ہے، چند وزیر ہوں تو وزیر اعلی ایک ہوتا ہے اور چند وزیر اعلی ہوں تو وزیر اعظم ایک ہوتا ہے، کسی ملک کے وزیر اعظم دو نہیں ہوتے اور نہ کسی ملک کے صدر دو ہوتے ہیں اگر کسی بھی محکمہ میں اقتدار اعلی دو آدمیوں کے پاس ہو تو اس محکمہ کا نظام فاسد ہوجائے گا تو اگر اس پوری کائنات کا اقتدار اعلی دو خداؤں کے پاس ہوتا تو اس کا نظام بھی فاسد ہوجاتا، اور جب ابتدا آفرینش عالم سے لے کر آج تک اس کائنات کا نظام فاسد نہیں ہوا تو ثابت ہوگیا کہ اس پوری کائنات کا مقتدر اعلی بھی ایک ہے اور وہی ہم سب کی عبادت کا مستحق ہے۔

اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایک آسان دلیل یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پوری کائنات کا نظام ایک نہج واحد اور ایک طرز واحد پر چلا رہا ہے، پھلوں اور پھولوں کے پیدا ہونے کا ایک طریقہ ہے، کھیتوں کے پکنے کا ایک طریقہ ہے، جانوروں کے پیدا ہونے اور ان کے پلنے اور بڑھنے کا ایک طریقہ ہے، انسانوں کے پیدا ہونے اور ان کی نشونما پانے کا طریقہ ایک ہے، بارش ہونے کا دریاؤں اور سمندروں کے اترنے اور چڑھنے کا طریقہ ایک ہے، سورج، چاند، اور ستاروں کے طلوع اور غروب کا طریقہ واحد ہے، غرض ساری کائنات ایک نمط واحد اور نسق واحد پر چل رہی ہے اور اس کا ایک نہج اور ایک طرز سے چلنا زبان حال سے ندا کرتا ہے کہ اس کا ناظم اور خالق بھی واحد ہے، سو ساری کائنات کی اطاعت اور عبادت کا مستحق بھی واحد ہے۔ 

ہم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے :

اس کے بعداللہ تعالیٰ نے فرمایا سو مجھ سے ڈرو، پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر غائب کے صیغوں سے فرمایا تھا اور آیت کے اس حصہ میں اپنا ذکر متکلم کے صیغے سے فرمایا ہے، یہ بھی بلاغت کا اسلوب ہے اس کو التفات کہتے ہیں، اس میں ایک اور نکتہ یہ ہے کہ اس میں حصر ہے، یعنی مخلوق کو چاہیے کہ وہ صرف اللہ سے ڈرے، اور کسی سے نہ ڈرے، اور فضل اور احسان کی طلب میں اللہ کے سوا اور کسی کی طرف رغبت نہ کرے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کی ملکیت ہے کیونکہ جب ثابت ہوگیا کہ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا اور ان کے نظام کو چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے وہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔

پھر فرمایا ولہ الدین واصبا۔ دین کے معنی ہیں اطاعت اور عبادت اور واصبا کا معنی ہے جو چیز دائمی طور پر لازم ہو، قرآن مجید میں ہے ولھم عذاب واصف (الصافات : ٩) اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے، لہذا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا جو بھی چیز ہے اس پر اس کی اطاعت اور عبادت لازم ہے کیونکہ اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں بھی اللہ کی محتاج ہے اور اپنی بقا میں بھی اللہ کی محتاج ہے سو اس پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرے۔

اس کے بعد فرمایا کیا تم اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرو گے ؟ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تم نے جان لیا کہ تمام کائنات کا خالق اور ناظم اللہ ہے اور وہی واحد عبادت اور اطاعت کا مستحق ہے اور جب تم نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز اپنے وجود میں اور اپنی بقا میں اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے تو ان اصولی چیزوں کے جاننے کے بعد کیا انسان کی عقل اس چیز کو جائز قرار دیتی ہے کہ انسان اپنے مقاصد اور مطالب میں اللہ تعالیٰ کے غیر کی طرف رغبت کرے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے ڈر اور خوف سے کوئی کام کرے یا کسی کام سے باز رہے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے شاگردوں، مریدوں اور ماتحت لوگوں سے ڈرتے ہیں، اپنی جھوٹی بڑائی قائم رکھنے کے لیے ہم ان کے سامنے کوئی بےحیائی کا کام نہیں کرتے اور خلوت اور تنہائی میں کرلیتے ہیں، سو ہم مخلوق سے ڈرتے ہیں خالق سے نہیں ڈرتے، اور کبھی افسران بالا کے خوف سے ماتحت عملہ ان کے سامنے غیر قانونی کام نہیں کرا اور جب افسران بالا سامنے نہ ہوں تو پھر ماتحت عملہ غیر قانونی کام کرلیتا ہے، کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ مخلوق کی گرفت فورا ہوجائے گی اور اللہ کی گرفت تو آخرت میں ہوگی نیز مخلوق کی گرفت ظاہر ہے اور خالق کی گرفت غیب ہے، سو ہم اللہ سے نہیں ڈرتے مخلوق سے ڈرتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ہمارا آخرت پر ایمان کمزور ہے۔

حضرت عائشہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا جب سے آپ نے یہ بتایا ہے کہ قبر مردہ کو دباتی ہے میری راتوں کی نیند اڑ گئی ہے، ہم نے بھی یہ حدیث ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قبر کے دبانے کے خوف سے کسی رات ہمیں نیند نہ آئی ہو، وجہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت عائشہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر کی تصدیق تھی ہمیں اس طرح آپ کی خبر کی تصدیق نہیں ہے، حضرت عثمان جب قبر کو دیکھتے تو اس قدر روتے کہ ان کی ڈاڑھی آنسوؤں سے بھیگ جاتی تھی ان سے پوچھا گیا اس کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے اس میں آسانی ہو تو باقی منازل زیادہ آسان ہوں گی اور اگر اس میں مشکل ہو تو باقی منازل زیادہ مشکل ہوں گی، یہ تو ان کا حال ہے جن کو زندگی میں دو مرتبہ جنت کی بشارت دی گئی تھی لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے کلال اور اس کی بےنیازی کے ڈر اور خوف سے روتے تھے، ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں لیکن ہم تو کبھی کسی قبر کے پاس بیٹھ کر خوف خدا سے نہیں روئے۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جتنا قوی ایمان حضرت عثمان کا تھا ہمارا ایمان اتنا قوی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 51