أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ بَعَثۡنَا فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ‌ ؕ فَسِيۡرُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِ فَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے اجتناب کرو پس ان میں سے بعض وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوگئی، سو تم زمین میں سفر کرو پھر دیکھو کہ (رسولوں کی) تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے اجتناب کرو پس ان میں سے بعض وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوگئی، سو تم زمین میں سفر کرو پھر دیکھو کہ (رسولوں کی) تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا۔ (النحل : ٣٦)

طاغوت کا معنی :

علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے ہر سرکش کو اور ہر اس چیز کو جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے اس کو طاغوت کہتے ہیں۔ ساحر، کاہن، سرکش جن اور نیکی کے ساتے سے بھٹکانے والے کو بھی طاغوت کہتے ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٣٩٧)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ طاغوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا طاغوت شیطان ہے۔ مجاہد، شعبی، ضحاک، قتادہ وغیرہم سے بھی اسی طرح منقول ہے، ابو العالیہ نے کہا طاغوت ساحر ہے، سعید بن جبیر نے کہا طاغوت کاہن ہے، امام ابن جریر نے فرمایا میرے نزدیک صحیح ی ہے ہ کہ ہر وہ شخص جو اللہ کے سامنے سرکشی کرے اور جس کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کی جائے وہ طاغوت ہے، خواہ اس کی جبرا عبادت کی جائے یا خوشی سے عبادت کی جائے، خواہ وہ معبود انسان ہو یا بت ہو یا شیطان ہو یا کوئی چیز بھی ہو۔ (جامع البیان جز ٣ ص ٢٧، ٢٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابن جریر نے طاغوت کی تعریف میں جو عموم بیان کیا ہے اس عموم سے عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیزر کا استثنا کرنا ضروری ہے، کیونکہ عیسائی اور یہودی حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کی عبادت کرتے تھے لیکن ان پر طاغوت کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے کہ طاغوت میں پانچ قول ہیں :

(١) حضرت عمر، مجاہد اور قتادہ نے کہا کہ طاغوت شیطان ہے،

(٢) سعید بن جبیر نے کہا طاغوت کاہن ہے۔

(٣) ابو العالمیہ نے کہا طاغوت ساحر ہے۔

(٤) طاغوت اصنام ہیں۔

(٥) سرکش جن اور شیطان ہیں اور ہر وہ جو سرکشی کرے

اور تحقیق یہ ہے کہ جب ان چیزوں کے اتصال سے سرکشی ہوتی ہے تو ان چیزوں کو طاغوت کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں سرکشی کا سبب ہیں۔ (تفسیر کبیر، ج ٣ ص ١٦، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس اعتراض کا جواب کہ جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کو گمراہ کردیا تو ان کا گمراہی میں کیا قصور ہے :

امام رازی فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوگئی، یہ آیت ہمارے مذہب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان پر گمراہی ثابت ہوگئی تو اب یہ محال ہے کہ ان سے گمراہی صادر نہ ہو ورنہ اللہ تعالیٰ کی خبر صداق، کاذب ہوجائے گی اور یہ محال ہے اور جو چیز محال کو مستلزم ہو وہ بھی محال ہوتی ہے اس لیے ان کا گمراہ نہ ہونا بھی محال ہے اور ان کا گمراہ ہونا عقلا واجب ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٠٥، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس آیت کی امام رازی نے جو تقریر کی ہے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کو گمراہ کردیا اور اب ان کا ہدایت کو قبول کرنا محال ہے اور ان کا گمراہ ہونا واجب ہے تو پھر اس گمراہی میں ان کا کیا قصور ہے ؟ اور دنیا میں ان کی مزمت اور آخرت میں ان کو دائمی عذاب دینے کی کیا توجیہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان کافروں کو اختیار دیا جائے گا پھر یہ اپنے اختیار سے ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اور نیک اعمال کے مقابلہ میں بد اعمالیوں کو اختیار کریں گے اور بندہ اپنے لیے جس چیز کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہی چیز پیدا کردیتا ہے، سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اختیار کے مطابق ان میں گمراہی کو پیدا کردیا اور اپنے علم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے دی کہ ان پر گمراہی ثابت ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے اس کا واقع ہونا ضروری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم جہل سے اور اس کا صدق کذب سے منقلب ہوجائے گا اور یہ دونوں چیزیں محال ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 36