أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَـنٰتِ سُبۡحٰنَهٗ‌ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور وہ (فرشتوں کو) اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے اور اپنے لیے وہ جس کو وہ پسند کرتے ہیں (یعنی بیٹے) ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ (فرشتوں کو) اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے اور اپنے لیے وہ جس کو وہ پسند کرتے ہیں (یعنی بیٹے) ۔ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم زدہ رہتا ہے۔ او وہ اس بشارت کو برا سمجھنے کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا رہتا ہے (وہ سوچجتا ہے) کہ ذلت کے ساتھ اس کو رکھ لے یا اس کو (زندہ) زمین میں دبا دے، سنو وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ (النحل : ٥٩۔ ٥٧ )

بیٹیوں کو عار سمجھنے کی مذمت :

مشرکین کی فاسد باتوں میں سے ایک بات یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے جیسا کہ اس آیت میں بھی ہے :

وجعلوا الملائکۃ الذین ھم عبادت الرحمن اناثا، اشھدوا خلقھم ستکتب شھادتھم ویسئلون۔ (الزخرف : ١٩) اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں بیٹیاں قرار دیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے، عنقریب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے سوال کیا جائے گا۔

ہوسکتا ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اس وجہ سے بیٹیاں کہتے ہوں کہ فرشتے آنکھوں سے پوشیدہ رہتے ہیں، جس طرح عورتیں مردوں سے پوشیدہ رہتی ہیں اور اس بنا پر انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا، یہ ان کی انہائی جہالت اور گمراہی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان کی پرورش کی تدبیر اور انتظام کیا، ان پر انواع و اقسام کے انعام کیے، ان نعمتوں کے عطا کرنے کی وجہ سے وہ اس کا مستحق تھا کہ اس کی حمد کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے اس کے بجائے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب کیا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے کوئی بیٹا ہو یا کوئی بیٹی ہو، پھر کتنا ظلم ہے کہ وہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے تھے اور اللہ کے لیے انہوں نے بیٹیاں پسند کیں، اللہ تعالیٰ کا اشاد ہے :

ام لہ البنات ولکم البنون۔ (الطور : ٣٩) کیا اس کی بیٹیاں ہیں اور تمہارے بیٹے۔

اس کے بعد فرمایا : اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم زدہ رہتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ غم سے اس کا چہرہ متغیر ہوجاتا ہے، اور جس شخص کو کسی مکروہ اور ناپسندیدہ چیز کی خبر ملے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے اور غم و غصہ سے اس کا چہرہ سیاہی مائل ہوجاتا ہے اور اس کے برعکس جب انسان کو کوئی خوشخبری ملے تو اس کا سینہ فراخ ہوجاتا ہے اور خوشی سے اس کا چہرہ کھل جاتا ہے اور چمکنے لگتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ اس بشارت کو برا سمجھنے کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا رہتا ہے (وہ سوچتا ہے) کہ ذلت کے ساتھ اس کو رکھ لے یا اس کو (زندہ) زمین میں دبا دے، سنو ! وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ (النحل : ٥٨، ٥٩ )

مفسرین نے کہا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی شخص کی بیوی کی زچگی کا زمانہ قریب آتا تو جب تک بچہ نہ ہوجاتا وہ اپنی قوم سے چھپا رہتا، پھر اگر اسے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹا ہوا ہے تو وہ خوش ہوجاتا اور اس کا چہرہ دمکنے لگتا، اور جب اس کو پتا چلتا کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو وہ کئی دنوں تک لوگوں کے سامنے نہ آتا، اور اس پر غور کرتا رہتا کہ وہ اس معاملہ میں کیا کرے، آیا وہ ذلت برداشت کرکے اس بیٹی کی پرورش کرے یا عار سے بچنے کے لیے اس بیٹی کو زندہ درگور کردے۔

حضرت عمر بن الخطاب سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا :

واذا الموء دۃ سئلت۔ (التکویر : ٨) اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔

حضرت عمر نے کہا قیس بن عاصم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں آٹھ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا تھا، آپ نے فرمایا ہر بیٹی کی طرف سے ایک غلام آزاد کرو، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس تو اونٹ ہیں، آپ نے فرمایا ہر بیٹی کی طرف سے ایک اونٹ نحر (ذبح) کرو۔ (المعجم الکبیر ج ١٨، ص ٣٣٧، رقم الحدیث : ٨٦٣، مسند البزار رقم الحدیث : ٢٢٨٠، السنن الکبری للبیہقی ج ٨، ص ١٦، کنز العمال رقم الحدیث : ٤٦٩٠، حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ امام بزار کی سند صحیح ہے، سوا حسین بن مہدی کے اور وہ بھی ثقہ ہے، مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٣٤)

روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یار سول اللہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے میں نے اسلام کی مٹھاس نہیں محسوس کی، زمانہ جاہلیت میں میری ایک بیٹی تھی میں نے اپنی بیوی سے کہا اس کو بناؤ سنگھار کر کے مزین کرو، پھر میں اس کو بہت دور دراز وادی میں لے گیا جہاں ایک گہرا کنواں تھا، میں نے اس کو اس کنویں میں ڈال دیا، اس بیٹی نے کہا اے ابا جان ! آپ نے مجھے قتل کر ڈالا، مجھے اس کی جب بھی یہ بات یاد آتی ہے مجھے کسی چیز سے راحت نہیں ملتی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں جو گناہ ہوئے تھے، ان کو اسلام نے منہدم کردیا اور جو گناہ اسلام میں ہوں گے ان کو استغفار منہدم کردے گا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٢٥، ٢٢٦، روح المعانی، جز ١٤، ص ٢٥٠ )

امام رازی نے لکھا ہے کہ جو لوگ بیٹیوں کو قتل کرتے تھے ان کفار کا طریقہ کار مختلف تھا، ان میں سے بعض گڑھا کھود کر بیٹی کو اس میں ڈال کر گڑھا مٹی سے بند کردیتے حتی کہ وہ مرجاتی، اور بعض اس کو پہاڑ کی چوٹی سے پھینک دیتے تھے، بعض اس کو غرق کردیتے تھے اور بعض اس کو ذبح کردیتے تھے، ان کا یہ اقدام بعض اوقات غیرت اور حمیت کی بنا پر ہوتا تھا اور بعض اوقات فقرو فاقہ کے خوف کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سنو ! وہ کیسا برا فیصلہ کرتے تھے، کیونکہ وہ بیٹیوں کو باعث عار سمجھنے کی وجہ سے حد سے بڑھ گئے تھے، وہ بیٹی کی پیدائش کی خبر سنتے تو رنج و غم سے ان کا چہرہ سیاہ پڑجاتا، بیٹیوں سے نفرت کی وجہ سے وہ اپنی بیوی کے ہاں پیدائش کے موقع پر لوگوں سے چھپتے پڑھتے تھے، اولاد سے انسان کو فطرتا محبت ہوتی ہے لیکن جب ان کو خبر ملتی کہ ان کے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو وہ اس کو قتل کرنے کی تدبیریں کرتے تھے۔

بیٹیوں کی پرورش کی فضیلت کے متعلق احادیث :

نبیط بن شریح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اللہ عزوجل اس کے ہاں فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ آکر کہتے ہیں : اے گھر والو السلام علیکم ! اور اس بیٹی کا اپنے پروں سے احاطہ کرلیتے ہیں، اور اس کے سر پر اپنے ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کمزور لڑکی کمزور عورت سے پیدا ہوئی ہے جو اس کی کفالت کرے گا اس کی قیامت تک مدد کی جائے گی۔ نبی ط کا بیٹا اس روایت میں منفرد ہے۔ (المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٧٠)

حضرت عائشہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ، بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس نے مجھ سے سوال کیا، میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کوئی چیز نہ تھی، میں نے وہ کھجور اس کو دے دی، اس عورت نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور ان ٹکڑوں کو اپنی بیٹیوں میں تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا، پھر وہ اور اس کی دو نوں بیٹیاں چلی گئیں، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے یہ واقعہ آپ کو سنایا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ان بیٹیوں میں سے کسی کی پرورش کرنے میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کی اچھی طرح پرورش کی وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب ہوجائیں گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٩٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٩، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١١١٥)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھائے ہوئے آئی، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ان میں سے ہر بیٹٰ کو ایک کھجور دی، اور ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف اٹھائی، اس کی بیٹی نے اس سے وہ کھجور مانگی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور آدھی آدھی دونوں بیٹیوں کو دے دی، مجھے اس پر تعجب ہوا پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا کہ کس طرح اس عورت نے اپنی بیٹیوں کو اپنے حصہ کی بھی کھجور کھلا دی۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لیے جنت کو اجب کردیا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٣٠)

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے دو لڑکیوں کی پرورش کی حتی کہ وہ دونوں بالغ ہوگئیں، آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر فرمایا قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٣١)

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، ان کو کھلائے اور پلائے اور ان کو اپنی کمائی سے کپڑے پہنائے تو وہ لڑخیاں اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گی۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ١٧٥٣٨، الادب المفرد رقم الحدیث : ٧٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٩، مسند احمد ابو یعلی، رقم الحدیث : ١٧٦٤ )

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کی ایک بیٹی ہو وہ اس کو ادب سکھائے ور اچھا ادب سکھائے، اور اس کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو نعمتیں دی ہیں ان نعمتوں میں سے اس کو بھی دے تو اس کی وہ بیٹی دوزخ کی آگ سے ستر اور حجاب ہوجائے گی۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٥ ص ٥٧، طبع قدیم، حلیۃ الاولیاء رقم الحدیث : ٦٣٤٨، طبع جدید، تنزیہہ الشریعہ رقم الحدیث : ٢٠١٧، کنز العمال رقم الحدیث : ٤٥٣٩١)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص ان بیٹیوں کی پرورش میں مبتلا ہوا اس کا مطلب ہے بیٹی کی پرورش بلا اور مصیبت ہے، یہ اس وقت درست ہوگا جب کوئی شخص بیٹیوں کی پرورش کراہت کے ساتھ کرے تب ہی ان کی پرورش اس کے لیے بل اور مصیبت ہوگی، کیونکہ جو محبت سے ان کی پرورش کرے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اس کے لیے ان کی پرورش نعمت ہوگی نہ کہ بلا، اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عام طور پر بیٹیوں کو بلا اور مصیبت سمجھا جاتا ہے اس وجہ سے آپ نے فرمایا جو شخص ان کی پرورش میں مبتلا ہوا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 57