أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ۙ لَا يَبۡعَثُ اللّٰهُ مَنۡ يَّمُوۡتُ‌ؕ بَلٰى وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اپنی پکی پکی قسموں میں سے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ مرنے والوں کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا کیوں نہیں ! یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے اپنی پکی پکی قسموں میں سے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ مرنے والوں کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں ! یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ وہ ان پر اس حقیقت کو کھول دے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے اور اس لیے کہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور ہم جس چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے متعلق ہمیں صرف یہ کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتی ہے۔ (النحل : ٤٠۔ ٣٨)

کفار کا حشر و نشر کو محال کہنا :

ان آیتوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کفار مکہ کا چوتھا شبہ پیش کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے، وہ کہتے تھے کہ مر کر دوبارہ زندہ ہونا اور حشر نشر باطل ہے اور چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے تھے کہ مرنے کے بعد سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، تو وہ اس پر بنا پر آپ کی رسالت کو باطل قرار دیتے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ مرنے کے بعد یہ جسم ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے، اسی طرح دوسرے اجسام بھی مٹی ہو کر مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں، پھر یہ ذرا ایک دوسرے میں خلط ملط ہوجاتے ہیں اور زمانے کے تغیرات اور حوادث سے اور آندھیوں اور طوفانوں سے یہ ذرات کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں، پھر ان مختلف اور مختلط ذرات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، پھر ہر جسم کے زرات کو اس جسم میں جمع کرنا اور جوڑنا اور پھر اس کو مکمل جسم بنا کر زندہ کرنا ان کے نزدیک نہ صرف بےحد مشکل تھا بلکہ محال تھا، وہ س پر کوئی دلیل پیش نہیں کرتے تھے بلکہ بداہت کا دعوی کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت غضب کی موجب تھی کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے بعد پھر زندہ کرے گا اور کفار پختہ قسمیں کھا کر اس بات کی تکذیب کریں اور کہیں کہ لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ نہیں کیا جاسکتا، حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم نے میری تکذیب کی اور اس کو یہ سزاوار نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی اور اس کو یہ لائق نہ تھا، اس نے میری جو تکذیب کی ہے وہ یہ ہے کہ میں لوگوں کو پہلی شکل و صورت میں زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں، اور اس نے مجھے جو گالی دی ہے وہ یہ ہے کہ میرا بیٹا ہے اور میں اس سے پاک ہوں کہ میری کوئی بیوی ہو یا بیٹا ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٤٤٨٢، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٢٢٧، طبع جدید دار الفکر)

حشر و نشر کے امکان اور وقوع پر دلائل :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیوں نہیں ! یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، اور جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے اس کا ہونا ضروری ہے اور رہا کفار کا یہ شبہ کہ یہ مختلف اور مختلط ذرات کیسے باہم الگ الگ اور ممتاز ہوں گے تو یہ اس کے لیے مشکل ہے جس کا علم کامل اور محیط نہ ہو، اللہ تعالیٰ کا علم ذرہ ذرہ کو محیط ہے، سمندر کی تہہ میں، پہاڑ کے کسی غار میں، کسی بھی جگہ کوئی چیز ہو وہ اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا کہ ان تمام ذرات کو مختلف جگہوں سے نکال کر ایک جگہ جمع کرنا، پھر ان سب کو جوڑ کر ویسا ہی جسم بنانا پھر اس کو زندہ کرنا محال ہے تو یہ س کے لیے محال ہے، جس کی قدرت کامل نہ ہو، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جب وہ پہلے کسی نمونہ اور مثال کے بغیر ایک شخص کو پیدا کرچکا ہے تو دوبارہ اس کو پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہوگا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس گورکھ دھندے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ان مختلف اور مختلط ذرات کو پہلے تلاش کرے پھر ان کو اکٹھا کرے پھر ان کو ویسا ہی جسم بنائے پھر اس کو زندہ کرے، اسے کسی بھی چیز کو بنانے کے لیے کسی قسم کے مادہ، مثال، مدت اور آلہ کی ضرورت نہیں ہے وہ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ صرف یہ فرماتا ہے کہ فلاں چیز وہ جاسو وہ جاتی ہے، اس نے پہلے بھی اس تمام کائنات کو لفظ کن سے بنایا تھا دوبارہ بھی اس کائنات کو اس لفظ کن سے پیدا کردے گا۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت گزاروں کو ثواب دینا ہے اور کافروں اور سرکشوں کو عذاب دینا ہے، ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا دینی ہے اور مظلوموں کو ان کے ظلم سہنے کی جزا دینی ہے اگر اس جہان کے بعد کوئی دوسرا جہان نہ ہو تو عبادت گزار بغیر ثواب کے اور کافر بغیر عذاب کے اور ظالم بغیر سزا کے اور مظلوم بغیر جزا کے رہ جائیں گے اور یہ اس احکم لحاکمین کی حکمت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو بیک وقت زندہ کرنا یا پیدا کرنا، کسی ایک انسان کو زندہ یا پیدا کرنے کی طرح ہے وہ چاہے تو ایک آن میں سب کو ہلاک کردے اور وہ چاہے تو ایک آن میں سب کو زندہ کردے، قرآن عظیم میں ہے :

ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ۔ (لقمان : ٢٨) تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا اللہ کے نزدیک ایسا ہے جیسے کسی ایک شخص کو پیدا کرنا اور اس کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا۔ 

وما امرنا الا واحدۃ کلمح بالبصر۔ (القمر : ٥٠) ہمارا کام تو ایک لمحہ کی بات ہے جیسے پلک جھپکنا۔

کن فیکون پر ایک اعتراض کا جواب :۔

اس آیت میں فرمایا ہے اور ہم جس چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے متعلق ہمیں یہ کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا سو وہ جاتی ہے، ایک اور جگہ بھی اس طرح ارشاد ہے :

انما امرہ اذا اراد شیا ان یقول لہ کن فیکون۔ (یسین : ٨٢) سا کا کام یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس چیز سے فرماتا ہے ہوجا سو وہ جاتی ہے۔ 

اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ جب وہ چیز موجود نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا ہوجا تو یہ معدوم کو خطاب ہے اور معدوم سے خطاب کرنا عبث ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہے اور اگر وہ چیز موجود تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا ہوجا تو یہ تحصیل حاصل ہے اور یہ بھی عبث ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز اللہ تعالیٰ کے علم اجمالی میں موجود تھی اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ میں اس سے متوجہ ہو کر فرمایا : ہوجا، سو یہ معدوم سے خطاب نہیں ہے اور وہ پہلے معلوم اور موجود ذہنی کے درجہ میں تھی اللہ تعالیٰ کے کن فرمانے سے وہ خارج میں موجود ہوگئی، لہذا یہ تحصیل حاصل بھی نہیں ہے۔

امام رازی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو سمجھانے کے لیے بطور مثال یہ فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ فرمائے وہ اسی وقت فورا ہوجاتی ہے، اگر اللہ تعالیٰ تمام دنیا اور آخرت کو چشم زدن میں پیدا فرمانا چاہے تو وہ پلک جھپکنے سے پہلے تمام دنیا اور آخرت کو پیدا فرما دے گا، لیکن اس نے بندوں سے ان کی عقلوں کے مطابق خطاب فرمایا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٠٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وزیر آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے لاکر رکھ دیا اور آصف بن برخیا کو یہ قدرت اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کون اندازہ کرسکتا ہے، وہ چاہے تو پلک جھپکنے سے پہلے اس جہان جیسے کروڑوں عالم پیدا کردے، اس کی قدرت کا کون تصور کرسکتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 38