أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَخَافُوۡنَ رَبَّهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۩۞

ترجمہ:

وہ اپنے اوپر اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ ۞ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اپنے اوپر اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (النحل : ٥٠ )

فرشتوں کا معصوم ہونا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا دابہ اور ملائکہ سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، دابہ زمین پر چلنے والے چوپائے کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک طرف حیوانات کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف فرشتوں کا ذکر کیا ہے اور حیوانات ادنی مخلوق ہیں اور فرشتے اعلی مخلوق ہیں۔ خلاصہ یہ ہے ادنی سے لے کر اعلی تک تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ فرشتے تکبر نہیں کرتے۔

آیت کے اس حصہ سے فرشتوں کی عصمت بیان کرنا مقصود ہے اور یہ آیت اس پر قوی دلیل ہے کہ فرشتے معصوم ہوتے ہیں وہ کوئی گناہ نہیں کرتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ تکبر نہیں کرتے، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق اور صانع کے اطاعت گزار ہیں، اور وہ کسی بات اور کسی کام میں اللہ کی مخالفت نہیں کرتے، اس کی نظیر قرآن کریم میں اور آیات بھی ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا قول نقل فرمایا :

وما نتنزل الا بامر ربک۔ (مریم : ٦٤) اور ہم صرف آپ کے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔

بل عباد مکرمون۔ لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون۔ (الانبیاء : ٢٦، ٢٧) بلکہ سب فرشتے اس کے عزت والے بندے ہیں۔ وہ کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فرشتے وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے وہی کیا ہے جس کا انہیں حکم دیا گیا اور اس میں یہ دلیل ہے کہ وہ تمام گناہوں سے معصوم ہیں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ ان کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر انہوں نے عمل کیا، لیکن اس آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ ان کو جس کام سے منع کیا گیا وہ اس سے باز رہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ممنوعہ کاموں سے باز رہنے کا بھی ان کو حکم دیا گیا تھا۔ لہذا جب یہ فرمایا کہ وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے، تو معلوم ہوگیا کہ وہ ہر حکم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ہر ممنوع کام سے اجتناب بھی کرتے ہیں، نیز جب یہ ثابت ہوگیا کہ فرشتے ہر گناہ سے معصوم ہوتے ہیں تو ثابت ہوگیا کہ ہاروت اور ماروت کا جو قصہ مشہور ہے وہ باطل ہے۔ اس کی پوری تحقیق ہم نے البقرہ : ١٠٢ میں بیان کردی ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے فرشتے تکبر نہیں کرتے اور ابلیس تکبر کرتا تھا قرآن مجید میں ہے :

واذ قلنا للملائکۃ السجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ (البقرہ : ٣٤) اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلسی کے سوا سب نے سجدہ کیا اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔

پس ثابت ہوگیا کہ ابلیس جنات میں سے تھا فرشتوں میں سے نہیں تھا، قرآن مجید میں ہے :

فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ۔ (الکہف : ٥٠) پس ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔

اس مسئلہ کی مکمل تحقیق ہم نے تبیان القرآن ج ١ ص ٣٦٠۔ ٣٥٨ میں کردی ہے اس کی تفصیل کے لیے اس مقام کا مطالعہ فرمائیں یہ آیت سجدہ ہے اور یہ قرآن میں تیسرا سجدہ تلاوت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 50