وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(۶۱)

اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو (ف۱۳۱) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۳۲) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۳۳) اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا (ف۱۳۴) اور اس میں تمہیں بسایا (ف۱۳۵) تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بےشک میرارب قریب ہے دعا سننے والا

(ف131)

بھیجا تو حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان سے ۔

(ف132)

اور اس کی وحدانیت مانو ۔

(ف133)

صرف وہی مستحقِ عبادت ہے کیونکہ ۔

(ف134)

تمہارے جد حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس سے پیدا کر کے اور تمہاری نسل کی اصل نُطفوں کے مادوں کو اس سے بنا کر ۔

(ف135)

اور زمین کو تم سے آباد کیا ۔ ضحاک نے ” اِسْتَعْمَرَکُمْ” کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ تمہیں طویل عمریں دیں حتی کہ ان کی عمریں تین سو برس سے لے کر ہزار برس تک ہوئیں ۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ(۶۲)

بولے اے صالح اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے (ف۱۳۶) کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بےشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں

(ف136)

اور ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے سردار بنو گے کیونکہ آپ کمزوروں کی مدد کرتے تھے ، فقیروں پر سخاوت فرماتے تھے جب آپ نے توحید کی دعوت دی اور بُتوں کی برائیاں بیان کیں تو قوم کی امیدیں آپ سے منقطع ہوگئیں اور کہنے لگے ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ- فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ(۶۳)

بولا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگرمیں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۱۳۷) تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں (ف۱۳۸) تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے (ف۱۳۹)

(ف137)

حکمت و نبوّت عطا کی ۔

(ف138)

رسالت کی تبلیغ اور بُت پرستی سے روکنے میں ۔

(ف139)

یعنی مجھے تمہارے خسارے کا تجرِبہ اور زیادہ ہوگا ۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ(۶۴)

اور اے میری قوم یہ اللہ کا ناقہ(اونٹنی) ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا (ف۱۴۰)

(ف140)

قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے معجِزہ طلب کیا تھا ( جس کا بیان سورۂ اعراف میں ہوچکا ہے) آپ نے اللہ تعالٰی سے دعا کی تو پتھر سے بحکمِ الٰہی ناقہ (اونٹنی) پیدا ہوا ۔ یہ ناقہ ان کے لئے آیت و معجِزہ تھا ۔ اس آیت میں اس ناقہ کے متعلق احکام ارشاد فرمائے گئے کہ اسے زمین میں چرنے دو اور کوئی آزار نہ پہنچاؤ ورنہ دنیا ہی میں گرفتارِ عذاب ہو گے اور مہلت نہ پاؤ گے ۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ(۶۵)

تو انہوں نے (ف۱۴۱) اس کی کوچیں کاٹیں(پاؤں کاٹ دئیے) تو صالح نے کہا اپنے گھرو ں میں تین دن اور برت لو(فائدہ اٹھا لو)(ف۱۴۲) یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا (ف۱۴۳)

(ف141)

حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور چہار شنبہ کو ۔

(ف142)

یعنی جمعہ تک جو کچھ دنیا کا عیش کرنا ہے کر لو ، شنبہ کو تم پر عذاب آئے گا ۔ پہلے روز تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز یعنی جمعہ کو سیاہ اور شنبہ کو عذاب نازِل ہوگا ۔

(ف143)

چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِىٕذٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ(۶۶)

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صالح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر (ف۱۴۴) بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بےشک تمہارا رب قوی عزت والا ہے

(ف144)

ان بلاؤں سے ۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۶۷)

اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۱۴۵) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے

(ف145)

یعنی ہولناک آواز نے جس کی ہیبت سے ان کے دل پھٹ گئے اور وہ سب کے سب مر گئے ۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْؕ-اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠(۶۸)

گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے سن لو بےشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر