الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر234

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تشریف لائے جب تکبیر کہی ۱؎ تو واپس ہوئے اور لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ تم ایسے ہی رہو ۲؎ پھر تشریف لے گئے تو غسل کر لیا پھرتشریف لائے حالانکہ سر شریف سے قطرے ٹپک رہے تھے۳؎ پھر انہیں نماز پڑھائی جب نماز پڑھ لی تو فرمایا ہم جنبی تھے غسل کرنا بھول گئے ۴؎(احمد)اور مالک نے عطا ابن یسار سے ارسالًا روایت کیا۔

شرح

۱؎ یعنی صرف حضور علیہ السلام نے تکبیرتحریمہ کہی تھی صحابہ نہ کہہ پائے تھے کیونکہ یہاں صحابہ کی تکبیر کا ذکر نہیں۔یا ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تکبیر نہ کہی تھی بلکہ تکبیر کا ارادہ ہی کیا تھا ارادہ تکبیر کو تکبیر کہہ دیا گیا جیسے”اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ”۔چنانچہ مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہوئے تھے تکبیر سے پہلے ہی واپس ہوگئے لہذا یہ حدیث نہ حنفیوں کے خلاف ہے نہ شافعی حضرات کی مؤید جیسا کہ ہم ابھی عرض کریں گے۔

۲؎ یعنی صف بستہ کھڑے رہو نہ مسجد سے جاؤ نہ صفیں توڑو میں ابھی آتا ہوں۔

۳؎ لباس شریف پر۔اس سے معلوم ہوا کہ ماء مستعمل نہیں ہوتا لہذا یہ حدیث صاحبین کی دلیل ہے۔

۴؎ خیال رہے کہ امام شافعی کے نزدیک امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوتی،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے صحابہ کو تکبیر لوٹانے کا حکم نہ دیا لیکن ہم ابھی عرض کرچکے کہ صحابہ نے تکبیر تحریمہ کہی ہی نہ تھی بلکہ خود سرکار نے بھی تکبیر کا ارادہ ہی کیا تھا جیسا کہ مسلم میں ہے لہذا ان کا یہ استدلال صحیح نہیں۔ہم اس کی بحث”باب الامامۃ”میں”اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ”کی شرح میں کرچکے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہاں بھول جانا اور جنابت یاد نہ رہنا رب کی طرف سے تھا تاکہ امت کو اس کے مسائل معلوم ہوجائیں حضور علیہ السلام کی بے خبری کی وجہ سے نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے غلام اولیاءاﷲ دوسروں کی جنابت و طہارت کو جانتے ہیں۔اس جگہ مرقاۃ نے ایک عجیب قصہ بیان کیا کہ امام جُوَینِی نے ایک دن درس میں کہا صوفی لوگ قوالیوںمیں کھانے اور ناچنے جاتے ہیں،ایک بزرگ وہاں سے گزرے تو بولے اے امام جوینی اس پر تمہارا کیا فتویٰ ہے جو جنابت میں فجر پڑھائے اور مسجد میں درس کی حالت میں لوگوں کی غیبت کرے، تب امام جوینی کو یاد آیا کہ میں جنبی تھا اور ایسے ہی نماز پڑھا دی آپ نے توبہ کی اور صوفیاء کے معتقد ہوگئے لہذا یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی نفی نہیں کرتی بے علمی اور ہے اور بھول جانا کچھ اور ہماری بھول چوک نفسانی شیطانی ہوتی ہے،انبیاء کی بھول ایمانی و رحمانی،سارے انسانی عالم کا ظہور آدم علیہ السلام کی ایک بھول کا صدقہ ہے۔