ایک عورت کتنوں کو سنوار سکتی ہے

عورتوں کو رغبت دی جارہی ہے کہ تم نیک عمل میں مسابقت کرو تمہارے عملوں کی خدا کی بارگاہ میں بہت قدر ہے ،تمہارے عمل کو ایک دو نہیں ستر صدیقوں کے عمل کے برابر عزت دی جاتی ہے،اس لئے کہ تمہارا نیک عمل تم تک محدود نہیں رہتا تمہاری وجہ سے نہ جانے کتنوں کی عاقبت سنور جاتی ہے،تمہیں باعمل دیکھا جائے گا تو دوسری عورتوں کو خواہش ہوگی وہ عمل کرتی ہے تو ہم کیوں پیچھے رہ جائیں،عورتوں رشک کہہ لو حسد کہہ لو زیادہ ہوتا ہے،برائیوں کو دیکھ کر ادھر لپک جائیں،اور اچھوں کو دیکھ کر اچھی بھی بن جائیں،انہیں بنتے بھی دیر نہیں لگتی بگڑتے بھی دیر نہیں لگتی،اس لئے ایک عورت کا دیندار بن جانے اس کی صحبت میں رہنے والیں بہت ساری عورتوں کے دیندار بننے کا ذریعہ ہے،اس لئے اسکے عمل کو سراہا جاتا ہے،مرد اگر دیکھیں کے عورت ذات ہوکر یہ اتنی نیک اور صالح،یہ تو ہمارے ڈوب مرنے کی بات ہے،وہ صنف نازک ہوکر ہم پر بازی لے جائے یہ تو ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے،نہ جانے فیملی کے کتنے مرد بھی راہ پر آجائیں گے اور دیندار بن جائیں گے،یہ جب تک میکے میں رہے اس کی وجہ سے میکے کی اصلا ح اور شادی کے بعد سسرال پنہچے تو اس کی وجہ سے اسکا شوہر دیندار بنے،شوہر کسی کی مانے نہ مانے اپنی بیوی کی تو ضرور مان لیتا ہے،وہ نکی رہے گی تو اسکی اولاد کو اسکا حصہ ملے گا،سسرال کے دوسرے افراد کو بھی اس سے سبق سیکھنے کو ملے گا اس لئے فرمایا گیا کہ نیک عورت کا عمل ستر صدیقوں کے عمل کا درجہ رکھتا ہے

اس فرمانے رسول کو سن لینے یا جان لینے کے بعد کون عورت ایسی ہو جسکے دل میں دیندار بننے کی تڑپ پیدا نہ ہو؟ان شآء اللہ سب کی یہی خواہش ہو جائے گی کہ میں دیندار بن جاوٗںگی،ہمارے پاس میں عمل کی کمی نہیں ارادہ کی کمی ہے کہ نیکی کے لئے ہمارا پختہ ارادہ بن نہیں پاتا ہے ،جب عمل کا اتنا بڑا ثواب ہے ارادہ ضرور بن جائے گا