بدری صحابہ کی عظمت کو سلام

🖊محمد اشفاق مدنی

صحابہ کرام نے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر پہلے وطن چهوڑا ، گهر بار ، خاندان اور تجارت کی قربانی دی اسی طرح مسلسل قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا

بالآخر 12 رمضان 2هجری کی وه گهڑی آئی کہ مدینہ طیبہ جو اب ان کو جان سے عزیز تها اس کو بهی چهوڑنے کا وقت آیا اور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جان نچهاور کرنے کے ارادے سے یہ عظیم ہستیاں مدینہ طیبہ سے 80 میل دور بدر نامی گاوں کی جانب چل پڑیں گنتی میں 313 تهے 60مهاجر اور 253 انصار

جذبہ دیدنی تها حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کم سن تهے واپسی کا کہا گیا تو رو پڑے ان کا رونا دیکھ کر سرور دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ساتھ آنے کی اجازت دے دی

یہ لوگ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے وه سب کچه چهوڑ چکے تهے جن سے فطرتاً محبت ہوتی ہے

اب اپنی سب سے محبوب چیز یعنی اپنی جان قربان کرنے کے لیے خوشی خوشی سرکار دو عالم علیہ السلام کے پیچهے پیچهے میدان بدر کی جانب بڑھ رہے تهے

وفا کی بلندیوں کا اندازه حضرت سعد بن عباده رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کے سردار کی اس بات سے لگا سکتے ہیں

عرض کرتےہیں “یا رسول اللہ صلی علیک وسلم آپ ہمیں سمندر مین بهی کود جانے کا حکم دیں تو ہم تعمیلِ حکم سے نہ گهبرائیں گے “

آج اِن سرفروشان عشق و محبت کی یاد مجهے رلا رہی ہے نَم آنکهوں اور شرمنده قلب و نظر کے ساتھ میں ان کے لیے الفاظ لکھ رہا ہوں

یقینا میرے پاس نا علم و ادب ہے اور نا ہی خوبصورت الفاظ کا وه خزانہ جو ان ہستیوں کے لیے تحریر میں لا سکوں

میری گونگی تحریر میرے اندر کے شریر نفس کو شرمنده کر رہی ہے عشق کے خالی دعووں نے مجهے پشیمان کر کے رکھ دیا ہے

16 رمضان المبارک قافلہ جیسے بدر کے مقام پر پہنچا کنواں پر قبضہ کیا گیا اور قربان جاوں ان سچے عاشوں پر

جو راحتِ قلب مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مکمل سامان تهے سب سے پہلے انهوں نے ایک” عریش”(چهپر )بنایا کہ هماری جانوں کے مالک یہاں تشریف فرما هو کر همارے لیے اللہ سے خیر و برکت کی دعا مانگے

واه واه اے حقیقی عاشقانِ رسول

تمهاری قسمت پر لاکھوں سلام

رات اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم بارگاه رب العزت میں عبارت و ریاضت کرتے گزاری

صبح سب مجاهدین اسلام کو جگایا گیا

صف آرائی کا سلسلہ ہوا

اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم

اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں” یااللہ جو تو نے مجھ سے وعده کیا هے پورا فرما آج اگر یہ مٹهی بهر مسلمان شهید ہو گئے تو تمام روے زمین پر قیامت تک تیری عبادت کرنے والا کوئی نا رہے گا”

(بخاری و مسلم )

سرور دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے ہی نامور کفار کے مرنے کی جگہ کی نشاندہی فرما دی اور اپنے مخلص عاشقوں کو فتح کی نوید سنا دی

17 رمضان المبارک 2 هجری عرب کی چلملاتی دهوپ سینکڑوں کا لشکر سامان جنگ سے لیس اعلی عربی النسل گھوڑوں پر سوار غذاوں سے لطف اندوز ہو کر میدان میں اترا دوسری جانب 313 کا لشکر چند ایک تلواریں چند نیزے ہاتهوں میں سجائے میدان مین آئے

مگر ان کے پاس محبت کی وه دولت تهی جس سے کفار محروم تهے جذبہ سے سرشار تهے اللہ پر بهروسہ لیے طاغوتی قوت سے ٹکرا گے تاریخ کی کتابیں بهری پڑی ہیں

پهر کیا ہوا سب جانتے هیں

چند ایک نے عشق و محبت و توکل کی بدولت پوری دنیا کے باطل نظام کو تہس نہس کر دیا

دشمنِ انسانیت کو سرنگوں کر دیا

آج ان نفوس قدسیہ کو یاد کر کے اپنی بے فائده زندگی پر افسوس ہو رہا هے

میں ہوں کیا اور کر کیا رہا ہوں ؟؟؟؟؟

کاش صد کروڑ کاش میری گونگی تحریر ان عظیم الشان سرفروشان عشق و محبت کی بارگاه میں قبول هو جاے !

مکہ مکرمہ کی سرزمین پر لکھی گئی عاجزانہ تحریر