حدیث نمبر 242

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بحینہ سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ظہر پڑھائی تو پہلی دو رکعتوں میں بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۲؎ حتی کہ جب نماز پوری کی اور لوگوں نے سلام کا انتظار کیا تو آپ نے بیٹھے ہوئے تکبیر کہی سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ مشہو ر یہ ہے کہ بحینہ آپ کی والدہ کا نام ہے اور آپ کے والد کا نام مالک ہے،آپ والدہ کی طرف سے عبدالمطلب میں حضور علیہ السلام سے مل جاتے ہیں کیونکہ بحینہ بنت حارث ابن عبدالمطلب ابن عبدالمناف ہیں،آپ بڑے متقی،صائم الدھر صحابی ہیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔

۲؎ معلوم ہوا کہ اگر ا مام پہلی التحیات بھول کر تیسری رکعت میں پورا کھڑا ہوجائے تو مقتدی لقمہ دے کر اسے واپس نہ کریں بلکہ خود بھی کھڑے ہوجائیں کیونکہ وہ بیٹھنا واجب ہے اور یہ قیام فرض،واجب کے لیے فرض نہیں چھوڑا جاسکتا۔

۳؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں سجدۂ سہو کے لیئے سلام نہ پھیرے مگر دوسری قوی روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لیے سلام پھیرا ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عمر فاروق اعظم ہمیشہ سجدۂ سہو کے لیے سلام پھیرا کرتے تھے،فاروق اعظم کا یہ عمل اس حدیث کو تقویت دیتا ہے لہذا حق یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ مسلم،بخاری کی وہ روایت ہے جو فصل اول میں گزر گئی اور ہوسکتا ہے کہ یہاں سلام سے مراد نماز کے وہ دو سلام ہوں جن سے نماز ختم کی جاتی ہے اور مطلب یہ ہو کہ لوگوں نے سلام نماز کا انتظار کیا حضور علیہ السلام نے وہ سلام نہ پھیرا بلکہ سہو کا ایک سلام پھیر کر تکبیر کہہ دی تب اسے منسوخ ماننے کی ضرورت نہیں۔