تنگ نظر ملاؤں کی شناخت کریں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی کافروں کو مسلمان بناتے ہوئے گزر گئی جبکہ ہمارے پاکستان میں چند ایسے لوگ ہیں کہ جنکی تمام تعداد ہمارے مقابلے میں آٹے میں نمک برابر بھی نہیں انکا اولین مشن امت مسلمہ پر شرک کا فتویٰ لگا کر انھیں دائرہ اسلام سے خارج کرنا ھے۔

ان چند فتوے باز ملاؤں کی وجہ سے مکمل دیندار طبقہ بدنام ھے ۔جب بھی انکو کوئی بات انکی خود ساختہ توحید کے خلاف نظر آتی ھے تو مسلمانوں پر مشرک ہونے کا فتوی لگا کر ہمیشہ کیلئے نجس بنا دیتے ہیں۔

مندرجہ ذیل تصاویر جناب صلاح الدین یوسف کی تفسیر کی ہیں کہ جنکو اہل حدیث طبقہ مفسر قرآن، مدبر، مفتی اور ناجانے کن کن القابات سے نوازتے ہیں ۔

جناب اپنی تفسیر میں عبادت کی خود ساختہ تعریف کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ

ہر وہ کام جو کسی مخصوص ہستی کی رضا یا اسکی ناراضی کے خوف سے کیا جائے تو وہ عبادت ہے۔

اب انکی یہ تعریف کتنی جامع مانع ہیں آپ خود ہی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ تعریف کی بعد مزید انھیں اپنی تعریف کی وضاحتیں دینی پڑرہی ہیں۔

موصوف لکھتے ہیں کہ اگر کوئی زندہ انسانوں سے طبعی طمع یا طبعی خوف کی بنا پر کوئی کام کرے تو عبادت نہیں۔

مطلب یہ ہوا کہ انسان ا اپنے والدین اپنے اساتذہ اور دیگر بڑے لوگوں کی خوشی کیلئے اگر کوئی کام کرتا ھے تو وہ اسکی عبادت کررہا ھے کیونکہ انکے لئے جو کام کیا جاتا ھے نا تو اس میں کوئی خوف ہوتا ھے اور نا ہی طمع ۔

تو چونکہ تمام عبادات کا مستحق اللہ ھے اسلئے بندہ مشرک بن گیا اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ۔

اب تھوڑا آگے چلیں تو جناب نے ایسی بات لکھ دی جس کو پڑھ کر موضوف کی علمیت پر رونا آرہا ھے کہ

اگر آپ کسی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں تب بھی آپ اسکی عبادت کررھے ہیں اور اسکی وجہ سے آپ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئی کیونکہ جمیع عبادات اللہ کے ساتھ خاص ہیں۔۔

یہ تھی ان لوگوں کی خودساختہ توحید کہ جسکو بنیاد بنا کر امت مسلمہ کو دائرہ اسلام سے خارج کررھے ہیں۔

کیا اسلام اتنا ہی تنگ نظر ھے کہ کسی کے سامنے فقط آپ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ آپکو مشرک ہونے کا سرٹیفکیٹ تھما دیتا ھے؟

خدارا ایسے تنگ نظر ملاؤں کی خود بھی ہہچان کریں اور دوسروں کو بھی انکے شر سے محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔

احمدرضارضوی