أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَاللّٰهِ لَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اللہ کی قسم ! ہم نے آپ سے پہلے (بھی) کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پس شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کردیا سو آج وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کی قسم ! ہم نے آپ سے پہلے (بھی) کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پس شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کردیا سو آج وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (النحل : ٦٣ )

یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے قائم مقام ہے، کیونکہ کفار مکہ کے شرک اور کفر اور ان کی جاہلانہ باتوں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غم ہوتا تھا، اس آیت میں فرمایا ہے سو آج وہی ان کا دوست ہے، اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ ہے یعنی کفار مکہ کو جو شیطان گمراہ کر رہا ہے اور ان کو آپ سے دور کررہا ہے، جیسا کہ آپ سے پہلے پچھلی امتوں کے زمانہ میں شیطان ان امنتوں کو گمراہ کرتا تھا اور ان امتوں کو ان کے رسولوں سے دور کرتا تھا، اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ یوم سے مراد یوم قیامت ہے یعنی قیامت کے دن شیطان کافروں کا دوست ہوگا، اور قیامت کے دن پر الیوم کا اطلاق اس لیے کیا ہے کہ اس پر یوم کا اطلاق بہت مشہور ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا، کیونکہ جب کفار قیامت کے دن عذاب کو دیکھیں گے پھر شیطان کو بھی اسی عذاب میں مبتلا دیکھیں گے اور اس وقت ان کو یقین ہوجائے گا کہ ان کے لیے عذاب سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے جس طرح شیطان کے لیے بھی عذاب سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے اس وقت بطور زجر و توبیخ اور بطور طنز اور استہزا ان سے کہا جائے گا آج کے دن تمہارا یہی دوست اور کارساز ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 63