ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیات کی چند درخشندہ جھلکیاں

تحریر: فیض النبی مصباحی
نام
آپ کا نام عائشہ اور خطاب ام المومنین ہے۔
   *القابات*: 
صدیقہ، طیبہ، طاہرہ، حبیبۃ الرسول اور حمیرا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق کے ساتھ یا عائشُ کے نام سے بھی پکارا ہے۔
   *کنیت*:
آپ کی کنیت ام عبداللہ ہے ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے از راہ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین تو اپنی سابقہ اولادوں کے ناموں پر اپنی اپنی کنیتں رکھ لی ہیں لیکن میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر۔
   *نسب*:    
آپ کا نسب والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمییم سے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کے کنانیہ سے ملتا ہے۔
   والد کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نسب آٹھویں پشت مرہ بن کعب پر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نسب سے ملتا اور والدہ کی طرف سے گیارہویں پست مالک بن کنانہ پر نسب رسول سے ملتا ہے۔
   *ولادت*: 
ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی تار یخ پیدائش 9/ سال قبل ہجرت ماہ شوال/ مطابق ماہ جولائی614 عیسوی مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
   *شادی مبارک*:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نکاح ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف 51/ سال کی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر شریف باختلاف روایت 6/ سال تھی نکاح کے تین سال بعد  آپ کی رخصتی ہوئی۔
   *بچپن*:
آپ کھیلوں کو بہت پسند فرماتی تھیں خصوصا گوڑیاں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا 
آپ خود فرماتی ہیں کہ: میں عہدے رسالت میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔ 
   سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نکاح سے تھوڑی دیر قبل تک آپ جھولا جھول رہی تھیں اور جھولا جھولنے میں اکثرآپ کی سانس پھول جایا کرتی۔  
   *عبادت الٰہی*:
 آپ عبادت الٰہی میں بہت آگے تھیں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر نماز تہجد ادا فرماتیں، عبادات ومعاملات، ذکر و اذکار و تسبیحات معمول حیات تھی اور حضور کی رحلت کے بعد بھی اس کی آپ پابند رہیں اکثر روزے رکھتی، ہر سال حج کرتی اور ماہ رمضان میں پوری پوری رات عبادت میں گزار دیتیں.
   آپ فرض روزوں کے علاوہ بکثرت نفلی روزے بھی رکھتی تھیں۔
   *علمی مرتبہ*: 
علمی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہ صرف تمام عورتوں اور امھات المومنین پر بلکہ چند صحابہ کو چھوڑ کر اکثر پر فوقیت حاصل تھی۔
   حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: ,, ہم اصحاب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کوئی ایسی مشکل بات کبھی پیش نہیں آئی کہ جس کو ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا ہو اور ان کے پاس سے معلومات ہم کو نہ ملی ہو،،
     *ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ اللہ تعالیٰ عنہا فقیہ امت کے لقب سے مشہور تھیں آپ کی فقاہت اجل صحابہ میں مسلم تھی*۔
  *چند فضائل ومناقب*
آپ پیدائشی مسلمان ہیں ، جملہ ازواج مطہرات سے کم سن اور کنواری ہیں ، جب منافقوں نے الزام عائد کیا تو خود اللہ تعالی نے آپ کی براءت  فرمائی ، وقت وصال حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سر اقدس آپ کے سینہ مبارک پر تھا ، آپ کا حجرۂ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا روضہ اقدس بنا ، آپ نے سب سے زیادہ درس قرآن دیا ، آپ نے خواتین کی سب سے زیادہ اصلاح کی ،  آپ نے سب سے زیادہ احکام شرعیہ بیان فرمائی ، آپ نے سب سے زیادہ فتویٰ دیا ، اور آپ ہی کی بدولت سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل ہوئی۔
   آپ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47/ سال بقید حیات رہیں جب آپ کی عمرشریف تقریباً 67 سال تھی تب ماہ رمضان میں علیل ہوتی ہیں ، چند روز تک علیل رہیں کوئی حال پوچھتا تو فرماتیں *اچھی ہوں*۔ 
*خوف خدا*
   جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگیں کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ، کاش میں ایک درخت ہوتی کہ اللہ کی پاکی میں رطب اللسان  رہتی اور پوری طرح سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتی ،کاش میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی ،کاش اللہ تعالیٰ مجھے پیدا نہ فرماتا ،کاش میں زمین کی بوٹیوں میں سے کوئی بوٹی ہوتی اور قابل ذکر شئی نہ ہوتی۔
*وفات*: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے منگل 17/ رمضان المبارک58/ ہجری  مطابق13/ جولائی 678 عیسوی کی شب کو اس دار فانی سے رحلت فرما کر مالک حقیقی سے جا ملیں۔
   *آپ کی وفات کی خبر سن کر اہل مدینہ غم سے نڈھال ہو گئے  آپ کے جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا*۔
  آپ کی مدت حیات شمسی سال کے اعتبار سے64 سال اور قمری سال کے اعتبار66 سال 11 ماہ تھی۔
   آپ کی نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی آپ کی تجہیز و تکفین شب میں عمل میں آئی۔ 
   عبید بن عمیر تابعی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے والد سے پوچھا: لوگوں نے ام المومنین کا کیا کیا غم کیا؟ فرمانے لگے کہ آپ کی وفات پر ہر وہ شخص غمگین تھا جس جس کی آپ ماں تھیں