سیدہ رقیہ 🥀

سرکار مدینہﷺکی چار شہزادیاں تھیں:

1: سیدہ زینب رضی اللہ عنھا

2: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنھا

3: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنھا

4: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا

رمضان شریف کے یہ ایام سیدہ رقیہ کے مرض و وصال کے ہیں ۔

جس وقت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فتح بدر کی خوش خبری لے کر مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تھے اس وقت لوگ آپ رضی اللہ عنھا کی تدفین میں مشغول تھے —

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنھا کا نام پاک منقوط ہے ، اور جُمَّل میں اس کے 315 عدد ہیں ؛ اسی نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے تین سو پندرہ حروف پر مشتمل نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے ، جس میں ادبی اعتبار سے یہ انفرادیت ہے:

¹ ہر لفظ منقوط استعمال کیا ہے ، کوئی بھی غیر منقوط نہیں!

² سیدہ پاک رضی اللہ عنھا رسول اللہﷺکی دوسری شہزادی ہیں ، اس نسبت سے ہر جملے کے آخر میں ایسا لفظ استعمال کیا ہے جو تثنیہ ( یعنی دو ) پر دلالت کرے ۔

مثلاً: مشرقین : دو مشرق ، عینین: دوآنکھیں ، قوسین: دو ابرو ، شفتین: دو ہونٹ وغیرہ

³ تین سوتیرہ اصحاب بدر کی تعداد ، اور بہن بھائیوں میں سیدہ رقیہ کا دوسرا نمبر ؛ اس اعتبار سے بھی 315 عدد نکلتے ہیں ، یہ نسبت بھی میرے پیش نظر رہی ہے ؛ اللہ کریم میرا یہ نذرانہ قبول فرمائے ! 🌸 بہ حضور سیدہ رقیہ ! 🌸

تُو شہزادی کونَین رقیہ ، تو وسیلۂ دارَین رقیہ ، تیرا رب ، ربِ مشرقین رقیہ ، تیرے اَب سیدِثَقَلین رقیہ ، تیرے زوج جنابِ ذُوالنورین رقیہ ، حضرتِ عبداللہ ترے نورِ عینین رقیہ ، تجھ پر فدا حسنینِ کریمین رقیہ ، لختِ جگرِخدیجہ! کون تیرے جیسا نجیب الطرفین رقیہ ، تیری تقدیس مثلِ حرمین رقیہ ، تیرے شرف تک کبھی نہ پہنچ سکیں قُطبَین رقیہ ، بس! میری آنکھوں میں کاجل تیری خاکِ نعلین رقیہ ، جُھکے رہیں تیری چوکھٹ پر ہمیشہ قوسین رقیہ ، کھلیں تری مدحت میں شَفَتَین رقیہ !!

✍لقمان شاہد