أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡكًا لَّا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّمَنۡ رَّزَقۡنٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنۡفِقُ مِنۡهُ سِرًّا وَّجَهۡرًا‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوٗنَ‌ؕ اَ لۡحَمۡدُ لِلّٰهِ‌ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اللہ ایک ایسے غلام کی مثال بیان فرماتا ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے اور کسی چیز پر قادر نہیں ہے اور (دوسرا) ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے عمدہ رزق عطا فرمایا ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ طور سے اور ظاہرا خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں تمام تعریفوں کا مستحق اللہ ہے، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ایک ایسے غلام کی مثال بیان فرماتا ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے اور کسی چیز پر قادر نہیں ہے اور (دوسرا) ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے عمدہ رزق عطا فرمایا ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ طور سے اور ظاہرا خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں تمام تعریفوں کا مستحق اللہ ہے، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (النحل : ٧٥)

عاجز غلام اور آزاد فیاض کی مثال کی وضاحت :

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ہے۔ ایک شخص کسی کا غلام ہے جو اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا اور دوسرا شخص آزاد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے اور وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر طور پر خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں ؟ ظاہر ہے یہ دونوں شخص برابر نہیں ہیں، اس مثال کے حسب ذیل محامل ہیں۔

١۔ جب ایک غلام جو مجبور ہو وہ آزاد دولت مند اور فیاض شخص کے برابر نہیں ہے، تو بت اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ بتوں کا حال ایک مجبور غلام سے بھی ابتر اور بدتر ہے، پھر مشرکین کی کیسی اوندھی عقل ہے کہ وہ ان بتوں کو اللہ کی عبادت میں اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں۔

٢۔ اس آیت میں جس (بندہ) غلام کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد کافر ہے، کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت سے محروم ہے تو وہ حقیر، فقیر اور عاجز غلام کی مانند ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جس دوسرے شخص کا ذکر فرمایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عمدہ رزق عطا فرمایا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں مشغول رہتا ہے اور مخلوق پر شفقت کرتا ہے اور ضرورت مندوں کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال و دولت سے فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔ سو یہ دونوں شخص یعنی کافر اور مومن شرف اور مرتبہ اور اخروی اجر وثواب میں برابر نہیں ہیں۔

٣۔ اس آیت میں مذکور دونوں شخصوں سے مراد عام ہے جو شخص بھی ان صفات کے ساتھ متصف ہوں وہ اس آیت کے مصداق ہیں یعنی ایک مجبور غلام اور ایک آزاد فیاض شخص برابر نہیں ہیں۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا الحمدللہ تمام کمالات اللہ کے لیے ہیں۔ یعنی بتوں کا کوئی کمال نہیں ہے اور وہ کسی تعریف کے مستحق نہیں ہیں، کیونکہ بتوں نے کسی پر کوئی انعام نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ کسی تعریف کے مستحق ہوں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ تمام تعریفوں کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے اور بت کسی تعریف کے مستحق نہیں ہیں اور اس آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں اس شخص سے خطاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عمدہ رزق عطا فرمایا ہے اس کو چاہیے کہ وہ یہ کہے الحمدللہ (تمام تعریفوں کا مستحق اللہ ہے) یعنی اللہ کے لیے حمد ہے جس نے اس کو ایک عاجز اور حقیر غلام سے ممتاز کیا، اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر حمد فرمائی کہ اس نے ایسی مثال بیان فرمائی جو مقصود کی اچھی وضاحت کردیت ہے یعنی ایسی واضح اور قوی حجت کے پیش فرمانے پر اللہ ہی کے لیے حمد ہے پھر فرمایا اور اکثر لوگ نہیں جانتے یعنی باوجود اس کے کہ یہ مثال بہت واضح ہے پھر بھی اکثر لوگ اس مثال کو نہیں سمجھتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 75