أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰهِ الۡاَمۡثَالَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو اور بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو اور بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : ٧٤)

اللہ تعالیٰ کے مثال گھڑنے کے محامل :

اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :

١۔ کسی مخلوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو تشبیہ نہ دو کیونکہ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔

٢۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہ بناؤ کیونکہ وہ واحد ہے اور اس کی کوئی مثل نہیں ہے۔

٣۔ بت پرست یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک اس کی عبادت کرے بلکہ ہم ستاروں کی یا ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں، پھر یہ ستارے یا بت اللہ کی عبادت کرتے ہیں جو سب سے بڑا خدا ہے اور ان ستاروں اور ان بتوں کا بھی خدا ہے کیونکہ دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ عام لوگ بادشاہ کے وزراء اور اکابرین سلطنت کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں، اور بادشاہ تک رسائی کی جرات نہیں کرتے اور وزراء اور اکابرین سلطنت بادشاہ کی تعظیم اور اس کی خدمت کرتے ہیں، سو اسی طرح ہم بھی ان بتوں اور ستاروں کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک رسائی اور اس کی عبادت کی جرات نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تم یہ مثالیں نہ گھڑو، بتوں کی عبادت کو ترک کرو اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو بہت جاننے والا اور بہت قدرت والا ہے اور بےحد حکمت والا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اس کے بھی دو محمل ہیںَ :

١۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تمہاری اس بت پرستی اور مثالیں گھڑنے کے نتیجہ میں تم پر کتنا بڑا عذاب نازل ہونے والا ہے اور تم اس عذاب کی کیفیت اور مدت کو نہیں جانتے۔ اگر تم جانتے ہوتے تو اس بت پرستی کو چھوڑ چکے ہوتے۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو بتوں کی عبادت سے منع فرمایا ہے سو تم ان کی عبادت کو ترک کردو اور اپنی اس دلیل کو بھی ترک کردو جس پر اعتماد کر کے تم بتوں کی عبادت کر رہے ہو کہ عام لوگوں کی یہ مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اس لیے وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ فاسد قیاس ہے اور قرآن مجید صریح آیت کے مقابلہ میں اس قیاس کو ترک کرنا واجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 74