مؤمنین کا طرز عمل

🌹۞ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(51) وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (52)سورة النور

🌷سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جب مؤمنين کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان کی بات یہی ہوتی ہے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ۔ اور یہ لوگ یہی بامراد ہیں ۔

اور جو بھی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی اور ڈرے اللہ سے اور اس سے تقوی کرے تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہیں

🌱 چند ضروری نکات معروض ہیں ۔

آغاز میں ” إِنَّمَا” کلمہ حصر ہے ۔ محاصرہ کا لفظ تو معروف ہے سو إِنَّمَا سے آغاز کا مقصد ہر ایک کو سمجھ آ گیا کہ اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی طرف جب بھی بلایا جائے تو کوئی بھی حالت و کیفیت ہو ، من پسند ہو یا خلاف طبع ، سمجھ آئے یا نہیں ، دل اور دماغ ساتھ دیں یا نہ دیں، مؤمنين کی بات صرف یہ ہوتی ہے ” ہم نے سن لیا اور یہ نہیں کہ سن کے چپکے و نچلے بیٹھے رہے بلکہ اس پر عمل بھی ہے ۔ “

” كَانَ” فرما کر یہ بتا دیا کہ سننے ماننے کا یہ جذبہ اور زبان سے اس کا اظہار اہل ایمان کا مستقل اور مسلسل معمول ہے ۔

وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کا تاکیدی اسلوب بتا رہا ہے کہ فلاح ان کو ضرور ملے گی ، ایسا کسی طور نہیں ہو سکتا کہ فلاح ان سے دور ہو جائے ۔ فلاح کا مطلب ہے مطلوب کا حاصل کر لینا اور خطرات و نقصانات سے بچے رہنا ۔

اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو غیر مشروط سن مان لینا اتنی بڑی عمدہ خصلت ہے کہ اس کا ثواب ” وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ” بتا دینے کے بعد اگلی آیت نمبر 52

میں پھر اللہ تبارک و تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت کا اور ساتھ اللہ تبارک و تعالی کی خشیت اور تقوی کے خصائل اختیار کرنے کی مزید ترغیب اور اس کا اجر ذکر فرمایا ہے ۔۔

📣 جذبہء اطاعت کی وضاحت کے لیئے فقیر خالد محمود آپ کے سامنے صحابہ کرام کے واقعات عرض کرتا ہے

(1) حضرت جَابِر کا بیان ہے ۔

رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُمُعَة کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ کچھ صحابہ مسجد میں کھڑے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا

🌷 “اجْلِسُوا “

بیٹھ جائیں

عبداللہ ابْن مَسْعُود مسجد کے بیرونی دروازے کے قریب تھے ۔ سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے ۔ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نے دیکھ لیا اور فرمایا ۔

🌷تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ»

آپ آجائیں عبداللہ بن مسعود

📘 أبو داود

(2) ام المؤمنين سیدہ عائشه رضي الله عنها سے روایت ہے کہ نبي صلى الله عليه وسلم جمعه کے دن منبر پر تشریف فرما کر لوگوں سے مخاطب ہوئے

🌷 اجلسوا،

بیٹھ جائیں

عبد الله بن رواحة مسجد نبوی کی طرف گامزن تھے اور اس وقت بني غنم محلہ میں تھے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے

عرض کیا گیا : يا رسول الله!

وہ ابن رواحة بني غنم ہی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔

آپ نے جب حاضرین کو بیٹھ جانے کا کہا تو وہ سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے ہیں ۔

📘المعجم الأوسط از طبراني دلائل النبوة أز الإصبهاني و البيهقي ،

(3) آپ کی زوجہ نے بھی بیان کیا ہے کہ

عبد الله بن رواحة مسجد نبوی کی طرف آ رہے تھے ۔۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی آواز آئی : 🌷“اجلسوا”.

بیٹھ جائیں

مسجد کے باہر وہیں بیٹھ گئے ۔۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

“زادك الله حرصًا على طواعية الله وطواعية رسوله ۔

اللہ اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت کی آپ کی یہ حرص اور زیادہ بڑھائے ۔

📘 الدیلمی

جگہ اور الفاظ کا فرق اشارہ دے رہا ہے کہ دو الگ الگ واقعات ہیں ۔

(4) عبد الله بن عباس رضي الله عنه کا بیان ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ایک صاحب کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کے ہاتھ سے اتار کر دور پھینک دی ۔ اور فرمایا

🌷 يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده،

تم میں سے کوئی آگ کے انگارے کی طرف لپکتا ہے اور اسے ہاتھ میں لے لیتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس صحابی کو کہا گیا ۔ اپنی انگوٹھی اٹھا لیں اور کوئی اور فائدہ ہی حاصل کر لیں تو اس صحابی محترم کا جواب ۔ اللہ اللہ

: لا والله لا آخذه أبدا، وقد طرحه رسول الله صلى الله عليه وسلم) 📘مسلم.

نہیں و اللہ ہرگز کبھی بھی ہاتھ نہیں لگاؤں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے ۔

🌼امام النووي کہتے ہیں کہ : “ اس حدیث میں دلیل موجود ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کے اوامر کی تعمیل اور نواھی سے اجتناب میں مبالغہ کرنا چاہیے ۔ اور بودی تأويلات کا سہارا لے کر رخصتوں کے پیچھے نہیں جانا چاہئیے ”

🤲🏽یا اللہ یا رب العالمین، اپنی رحمت و نعمت کے اس فقیر خالد محمود کو اس کے آباء و اجداد و امھات و بہن بھائیوں و اہل و عیال اور اعزہ و اقارب و احباب کو اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید محبت کا وافر حصہ نصیب فرمائے رکھنا ۔۔

آمین آمین آمین یا رب العالمین