محبت کا نرالہ انداز

تحریر: محمد ظفر نوری ازہری
آج ١۷ رمضان المبارک ۲ ھجری ہے۔ جمعۃ المباک کا دن ہے۔ بلکہ یوم فرقان ہے۔ بدر کا ریتیلہ میدان ہے۔ چاروں طرف پہاڑیاں ہیں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہیں۔ چلچلاتی دھوپ اور گرم گرم ہوائیں ہیں۔ چشم فلک بھی حیران ہے۔ ایک طرف سنکڑوں ننگی تلواریں ۲۰۰ گھوڑے ۷۰۰ اونٹ اور ہزار سے زیادہ لوگ جو پوری جنگی تیاری سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے شمع اسلام کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ تو وہیں دوسری طرف ہمارے اقا صلی اللہ علیہ وسلم، اور اپ کے ساتھ ٣١٣ جانباز ساتھی ہیں۔ جنکے پاس ۸ تلواریں ٦ زرہیں اور صرف دو گھوڑے ہیں۔ آلات حرب وضرب بھی نہیں ہیں۔ تعداد بھی کم ہے۔ اس کے باوجود دشمن کے سامنے سینہ تان کھڑے ہیں۔ اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرنے کے لئیے بے تاب و بے قرار ہیں۔ ان کی ہمت و بہادری کو سلام ان کے جوش اور جزبے کو سلام  حضور صلی اللہ علیہ وسلم مورچہ بندی اور صف بندی فرمارہے ہیں۔
    ایک صحابی جن کا نام حضرت سواد رضی اللہ عنہ ہے۔ صف سے تھوڑا سا اگے تھے۔ حضور کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی چھڑی ہلکے سے ان کے پیٹ پر ماری دی اور فرمایا کہ سیدھے کھڑے رہو حضرت سواد نے کہا یارسول اللہ! اپ نے مجھے چھڑی کیوں ماری؟ مجھے تو آپ سے قصاص (بدلہ)چاہیئے۔ آپ نے مارا ہے تو میں بھی ماروں گا۔ اپنے آقا و مولی سے بدلے کی بات کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے ایسا کہا تو ہر طرف سنناٹا چھا گیا۔ سارے صحابہ سکتے میں اگئے کہ یہ کیا کہہ رہے ہو سواد! ذار وقت کی کی نزاکت کو دیکھو حالات کو سمجھو دشمن سرپے کھڑا ہے اور تم حضور سے ایک چھڑی کا بدلہ لوگے؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کیا تمہیں نہیں معلوم یہ وہ بارگاہ ہے جہاں آواز بھی اونچی کرنا منع ہے یہ اللہ کے محبوب ہیں وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ ہمارے تمہارے اور ساری کائنات کے اقا و مالک ہیں۔
    لیکن قربان جائیے بڑی بات تو یہ تھی کہ حضور نے ان کی بات کاذرابھی برا نہیں مانا اور ناہی ناراض ہوئے۔ بلکہ مسکرا کر اپنا کرتا شریف ہٹا دیا اور فرمایا سواد میں نے آپ کو چھڑی ماری یہ لو چھڑی میرا بدن حاضر ہے۔ لےلو بدلہ، اللہ اکبر!! بتاؤ ایسا اخلاق جس کا ہوگا کیوں نہیں اس پر قربان ہونے کو دل چاہے گا۔ پھر کیا تھا، حضرت سواد نے وہ چھڑی اٹھائی اور حضور کی طرف بڑھے سارے صحابہ کبھی  حضور کے چاندنی جیسے بدن کو دیکھ رہے تھے۔ اور کبھی حضرت سواد کے ہاتھوں میں اس چھڑی کو دیکھ رہے تھے۔  اور سوچ رہے تھے کہ سواد کو کیا ہو گیا ہے۔ یہ کیا کر رہے ہیں، مگر سواد چھڑی لیکر اگے بڑھ تے رہے جیسے ہی حضور کے قریب ائے تو چھڑی پھنک کر حضور کے بدن سے لپٹ گئے اور ہوسکتاہے آنسؤں کو صاف کرتےہوئے کہہ رہے ہوں سرکار میری غلطی کو معاف فرمادیں سرکار میری خطاء کو بخش دیں میں نے ایسا اس لئیے کیا کیونکہ جنگ کا نقارہ بج نے والا ہے۔ اور پتا نہیں اب یہاں سے میں جاؤں گا یا میرا جنازہ جائے گا میں نے سوچا اگر اپ کے بدن سے چمٹ جاؤں گا تو قیامت تک میرا جسم اور میری قبر دونوں مہک تے رہیں گے۔ سرکار میں اپنی جان سے بھی زیادہ اپ سے محبت کرتا ہوں۔ سارے صحابہ کو سواد کے اس انداز پر بڑا رشک ایا  پھر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئیے دعاء فرمائی۔
(سیرت ابن ہشام ج۲)
   جب اس طرح کی حضور سے محبت و الفت کی داستانیں پڑھتے ہیں۔ تو ایسا لگتا ہے ہماری محبت کھوکلی ہے۔ ہمارا ایمان کمزور ہے۔ ہم بس نام کے مسلمان ہیں۔  اس دل میں بس دنیا اور اس کی محبت رچی بسی ہے  مولی ہمیں عشق رسول میں دھڑکنے والا دل عطاء فرما دے۔ جس سے ہماری دھڑکنیں بھی نبی نبی بولیں  اور سانسیں بھی نبی نبی بولیں اور ہم سچے عاشق رسول بن جائیں۔    آمین