محمد بن قاسم کی طرف منسوب 400 کوڑوں والی روایت کی حقیقت

تحرير………⁦✍️⁩ #ابوطلحہ_سندھی

کافی عرصہ سے سوشل میڈیا پر مرزا محمد علی اور اسحاق جھالوی کے کلپس گردش کر رہے ہیں جس میں انہوں نے فاتح سندھ محمد بن قاسم پر الزام لگایا کہ انہوں نے حجاج بن یوسف کے کہنے پر مشھور تابعی بزرگ عطیہ بن سعد عوفی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم نہ کرنے کے سبب چار سو کوڑے مارے اور داڑھی وغیرہ کے بال مونڈ دئے،

اور یہ بات انہوں نے امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تھذیب التھذیب کے حوالے سے بیان کی جو کہ دراصل اسماء الرجال یعنی راویوں کے حالات کے متعلق کتاب ہے۔

اور یہ کلپس راجہ ڈاھر کو ھیرو ماننے والے سندھ کے قوم پرست جو پہلے سے فاتح سندھ محمد بن قاسم کو معاذاللہ ڈاکو اور لٹیرا کہتے اور سمجھتے تھے انکیلئے گویا کہ اندھیرے میں چراغ کی مانند ثابت ہوئے اور انہوں نے ان کو دلیل بناکر فاتح سندھ کی کردار کشی شروع کردی۔

آئیے ھم اس روایت کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ بات ذھن نشین کر لیجئے کہ حدیث کی مانند تاریخ کی کسی بات کو صحیح ثابت کرنے کیلئے سند کا ہونا ضروری ہے بصورت دیگر وہ بات ضعیف اور غیرمقبول سمجھی جاتی ہے اور جب اسکا تعلق کسی پر الزام تراشی سے ہو تو سند کی اھمیت اور ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات سند کے ساتھ بیان کی ہے یا بغير سند کے؟

اصل کتاب کو دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کوئی سند بیان نہیں کی ہے بس یہ کہ کر بات بیان کردی کہ ابن سعد نے کہا! جبکہ حافظ ابن حجر عسقلاني رحمة اللہ عليہ کی تاريخ پيدائش 773 ھجري ۽ تاريخ وفات 852 ھجری ہے درمیان میں صدیوں کا زمانہ ہے

اور جو بات بغیر سند کے بیان کی جائے وہ تمام اصولِ حدیث و تاریخ کے علماء کے نزدیک بالاتفاق غیر مقبول ہے اور ھرگز حجت نہیں بن سکتی۔

اب آئیے یہ معلوم کرتے ہیں يہ ابن سعد کون ہیں جن کے حوالے سے امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات لکھی ہے؟

یہ وہی ابن سعد ہیں جو راویوں کے احوال کے متعلق اسماء الرجال کی مشھور کتاب الطبقات الکبریٰ کے مصنف ہیں اور انہوں نے بھی اس بات کو اپنی کتاب میں سعد بن محمد کے حوالے سے بغیر کسی سند بیان کیا ہے

یہ سعد بن محمد کون ہیں؟؟؟

تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ سعد عطيہ عوفی کے پر پوتے ہیں یعنی عطیہ انکے پر دادا ہیں

اُنکا سلسلۂ نسب اس طرح سے ہے

سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ بن سعد عوفی۔۔

اب پرپوتا اپنے پردادا کا واقعہ بیان کر رہے ہیں تو یقیناً انہوں نے خود یہ واقعہ دیکھا یا پردادا سے سنا نہیں ہوگا بلکہ یہاں پر بھی لازماً ایک یا دو راوی درمیان سے ساقط ہیں

اور اصولِ حدیث و تاریخ کے اصول و قوانین کے مطابق اگر دو راوی ساقط ہوں تو اس روایت کو مُعضل اور اگر ایک راوی ساقط ہو تو اسکو مُنقطع کہتے ہیں

معضل اور منقطع روايت کا کیا حکم ہے؟

تمام ہی فنِ اصولِ حديث وجرح و تعديل کے ماہر علماءِ کرام کے نزدیک بالاتفاق معضل ۽ منقطع روايت ضعيف اور غير مقبول ہے

خود امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے یہ واقعہ اپنی کتاب میں لکھا ہے اپنی مشھور زمانہ کتاب ” نزھۃ النظر فی توضیح نخبة الفکر” میں معضل اور منقطع روایت کو ضعیف اور غیرمقبول روایات میں شمار کیا ہے

اب ان معترضین سے گذارش ہے کہ اگر آپکو امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ پر اتنا اعتماد ہے کہ انکے لکھے ہوئے واقعہ کو ثبوت اور دلیل سجھتے ہیں تو پھر انکے لکھے ہوئے اصولوں کو بھی ماننا پڑیگا

ایسا تو نہ کریں کہ

ميٹھا ميٹھا سارا ھڑپ

اور کڑوا کڑوا تھو تھو

اور انکے لکھے ہوئے اصولوں کے مطابق یہ واقعہ غیر مقبول ہے

ویسے مرزا محمد علی اور اسحاق جھالوی ہر مسئلے میں سند کی بات کرتے ہیں اور سند کے بغیر کسی بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے لیکن یہاں ان دونوں حضرات نے بغیر سند کے اس واقعہ کو نہ صرف مانا بلکہ اسکو بطور دلیل بیان بھی کردیا اور فاتح سندھ کو برا بھلا کہا بھی اور کہلوایا بھی۔

تو یہ انکا دوغلاپن نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟

سندھ کی تاریخ پر مشتمل مشھور تاریخی کتاب “چچ نامہ” المعروف فتح نامہ سندھ کے صفحہ 142 پر ہے کہ محمد بن قاسم جب دیبل پر حملہ کرنے کیلئے صف بندی کر رہے تھے تو انہوں نے “میمنہ” یعنی لشکر کی سیدھی جانب والے حصہ کی ذمہ داری عطیہ بن سعد عوفی کو سونپی۔

اور یہ وہی عطیہ بن سعد عوفی ہے جن کے بارے میں مذکورہ چار سو کوڑوں والا واقعہ بیان کیا جاتا ہے اور یہ محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک بھترین جنگجو کی حیثیت سے سندھ کی تمام فتوحات اور جنگوں میں نہ صرف شریک رہے بلکہ انکے ساتھ شانہ بشانہ لڑے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر محمد بن قاسم نے عطیہ بن سعد عوفی کو چار سو کوڑے مارے ہوتے اور انکی داڑھی اور سر کے بال مونڈے ہوتے تو کیا وہ محمد بن قاسم کی قیادت میں جھاد پر آتے؟؟؟

انکو اپنا قائد تسلیم کرتے؟؟؟

اور محمد بن قاسم انکو جنگ کے دوران اھم ذمہ داری پر تعینات کرتے؟؟؟

چچ نامہ کی یہ بات سات سو کوڑوں والی روایت کو بہت زیادہ مشکوک بنادیتی ہے۔

بحرحال حجاج بن یوسف کے مظالم کا تو انکار نہیں کیاجاسکتا یقیناً وہ ظالم و جابر حکمران تھا لیکن انکے مظالم کا بغیر کسی ثبوت کے فاتح سندھ محمد بن قاسم کو قصور وار نہیں ٹھرایا جاسکتا۔

10/05/2020