أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّسۡمَعُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے ضرور نشانی ہے جو (غور سے) سنتے ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے ضرور نشانی ہے جو (غور سے) سنتے ہیں۔ (النحل : ٦٥ )

اللہ تعالیٰ کی الوہیت، توحید اور مردوں کو زندہ کرنے پر دلیل :

اس قرآن کا اہم مقصود توحید، رسالت، مبدء اور معاد کو ثابت کرنا ہے، پھر تہذیب اخلاق، تدبیر منزل اور سیاست مدنیہ کو بیان کرنا ہے، اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا رد فرمایا تھا اب اس کے بعد پھر اہم مقصود کا ذکر فرمایا اور وہ الوہیت اور توحید ہے، کیونکہ آسمان سے پانی برسان اور زمین سے فصل اگانا، یہ کس کا کارنامہ ہے، حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور فرعون اور نمرود کو خدا کہا گیا لیکن ان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی بارش ہوتی تھی اور زمین سبزہ اگاتی تھی، بےجان مورتیوں اور دیوتاؤں کا بھی یہ کارنامہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ بت تو خود بےجان ہیں وہ بارش اور فصل اگانے میں موثر نہیں ہوسکتے اور دیوی دیوتا بھی حادث اور فانی ہیں ان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی بارش ہوتی تھی اور فصلیں اگتی تھیں، اس لیے ان میں سے کوئی بھی بارش نازل کرنے اور زمینی پیداوار کا خالق نہیں ہے اور نہ ہی متعدد چیزیں اس کی خالق ہوسکتی ہیں ورنہ ان میں یہ نظم اور تسلسل نہ ہوتا، اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی اور ہستی نے یہ دعوی کیا ہے کہ آسمان سے بارش نازل کرنے اور زمین سے غلہ پیدا کرنے کا وہ خالق ہے، صرف اللہ تعالیٰ نے ہی یہ دعوی کیا ہے کہ وہ بارش نازل فرماتا ہے اور وہ زمین سے فصل اگاتا ہے تو پھر ہم کیوں نہ اس کی الوہیت اور توحید کی تصدیق کریں اور کیوں نہ اس پر ایمان لائیں۔

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس میں قیامت اور حشر پر دلیل ہے کہ جب وہ مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے تو وہ مردہ انسان کو کیوں نہیں زندہ کرسکتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 65