أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ ثُمَّ يَتَوَفّٰٮكُمۡ‌ۙ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَىۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَيۡـئًا‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تم کو وفات دے گا، اور تم میں سے بعض کو ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ انجام کار وہ حصول علم کے بعد کچھ بھی نہ جان سکے، بیشک اللہ نہایت علم والا بےحد قدرت والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تم کو وفات دے گا، اور تم میں سے بعض کو ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ انجام کار وہ حصول علم کے بعد کچھ بھی نہ جان سکے، بیشک اللہ نہایت علم والا بےحد قدرت والا ہے۔ (النحل : ٧٠)

انسان کی عمر کے تغیرات سے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے پر استدلال :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حیوانات کے عجیب و غریب افعال ذکر کر کے ان سے اپنے خالق ہونے اور قادر ہونے پر استدلال فرمایا تھا، اور اس آیت میں انسان کی عمر کے مختلف مدارج اور مختلف احوال سے اپنی ذات پر استدلال فرمایا ہے۔

حکماء نے انسان کی عمر کے چار مراتب ذکر کیے ہیں، پہلا مرتبہ اس کی عمر کا وہ زمانہ ہے جب اس کے بچپن اور نوجوانی کا زمانہ ہوتا ہے اور اس کی نشونما ہوتی ہے اور یہ ولادت سے لیکر بیس سال کی عمر ہے، دوسرا مرتبہ وہ ہے جب اس کی عمر اپنے شباب کو پہنچ جاتی ہے اور یہ بیس سال سے چالیس سال کی عمر ہے، اور تیسرا مرتبہ دور انحطاط ہے جب اس کی عمر ڈھل جاتی ہے اور وہ ادھیڑ عمر کو پہنچ جاتا ہے یہ چالیس سال سے ساٹھ سال تک کی عمر کا زمانہ ہوتا ہے اس کو کہولت کہتے ہیں، اور چوتھا مرتبہ انحطاط کبیر کا ہے، یہ بڑھ اپنے کا زمانہ ہے یہ ساٹھ سے ستر اسی سال کی عمر کا زمانہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کی عمر کے ان تغیرات کا خالق کون ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ ان تغیرات کا خالق ہے اور لوگوں نے اللہ کے سوا جن چیزوں کو خالق مانا ان میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی تب بھی انسان کی عمر میں یہ تغیرات ہورہے تھے تو ہم کیوں نہ مانیں کہ انسان کی عمر کے ان تغیرات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے، سو وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کی غفلت کی نیند سے جگایا اور ان کو اپنے علم کے شمول اور قدرت کے عموم پر متنبہ کیا اور جبکہ اس کا علم ور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے تو وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرورزندہ کرے گا اور وہ جس چیز کو چاہے گا اس کو وجوب میں لے آئے گا اور اس نے اس کائنات میں ان پر دلائل قائم کیے ہیں پہلے اللہ تعالیٰ نے جمادات سے استدلال فرمایا پھر حیوانات سے پھر ان دلائل کو شہد کی مکھی پر ختم کیا جس سے حاصل ہونے والا شہد تمام انسانوں کے لیے شفا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان سے استدلال کیا اور فرمایا کہ انسان کی عمر کے چار مراتب ہیں پہلا مرتبہ طفولیت اور نشونما کا ہے اور دوسرا مرتبہ شباب کا ہے جس مرتبہ پر پہنچ کر انسان کی نشو نما رک جاتی ہے اور تیسرا مرتبہ کہولت کا ہے اس مرتبہ میں اگرچہ قوت باقی رہتی ہے لیکن انسان کا انحطاط شروع ہوجاتا ہے اور چوتھا مرتبہ سن انحطاط کا ہے اس مرتبہ میں انسان کا ضعف شروع ہوجاتا ہے اور وہ بتدریج بڑھاپے کی طرف بڑھتا ہے حتی کہ وہ اس منزل پر پہنچ جاتا ہے جب کوئی دوا اس کی جوانی کی قوت اور شباب کو واپس نہیں لاسکتی، اس آیت میں انسان کو اس پر برانگیختہ کیا ہے کہ وہ عمر کے اس دور کے شروع ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر کرے اور بصیرت سے کام لے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے غور و فکر کرنے کی صلاحیت بھی جاتی رہے، اس لیے فرمایا کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا یعنی عدم سے وجود میں لایا، پھر وہ مختلف عمروں میں تمہاری روحیں قبض کرے گا، بچہ اس پر قادر نہیں ہوگا کہ وہ اپنی عمر کو بڑھا لے ور جوانی تک پہنچ جائے اور بوڑھا اس پر قادر نہیں ہوگا کہ وہ لوٹ کر جوانی تک پہنچ جائے، پھر تم میں سے بعض لوگوں کو ان ہی عمروں میں موت آجائے گی، بعض اپنی قوت اور اپنی طاقت کے زمانہ میں مرجائیں گے اور بعض ارذل عمر کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے جس طرح طفولیت میں وہ کمزور اور بےعلم تھے، اسی طرح بڑھاپے میں وہ کمزور اور بےعلم ہوں گے ان کی یادداشت جاتی رہے گی اور ان کی ذکاوت کا شعلہ بجھ جائے گا، پھر وہ موت سے متصل ہوجائے گا اسے کوئی دوا نفع نہیں دے گی، اس لیے اس حالت کو پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر کرو۔

ارذل عمر کا معنی اور مصداق :

ابن قتیبہ نے کہا : ارزل عمر کا معنی یہ ہے کہ جن چیزوں کا اسے پہلے علم تھا بڑھاپے کی شدت کی وجہ سے اس کا وہ علم زائل ہوجائے گا۔ زجاج نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ تم میں سے بعض لوگ اس قدر بوڑھے ہوجائیں گے کہ ان کی عقل فاسد اور خراب ہوجائے گی، اور وہ عالم ہونے کے بعد جاہل ہوجائیں گے تاکہ اللہ تم کو اپنی قدرت دکھائے کہ جس طرح وہ مارنے اور زندہ کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ عالم بنانے کے بعد جاہل بنانے پر قادر ہے۔

عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے متعلق نہیں ہے مسلمان کی عمر جس قدر زیادہ ہوتی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے نزدیک اس کی عزت اور کرامت بڑھتی جاتی ہے اور اس کی عقل اور معرفت بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے اور عکرمہ نے کہا جو شخص قرآن عظیم پڑھتا رہتا ہے اور وہ ارذل عمر کی طرف نہیں لوٹایا جاتا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٤٦٧، ٤٦٨، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ١٤١٢ ھ)

امام ابو جع فرمحمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ ارذل عمر کا مصداق پچھتر سال کی عمر ہے۔ (جامع البیان جز ١٤، ص ١٨٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو المظفر منصور بن سمعانی الشافعی المتوفی ٤٨٩ ھ لکھتے ہیں :

حضرت علی سے منقول ہے کہ ارذل عمر پچھتر سال کی عمر ہے، قطرب نے کہا کہ یہ اسی سال کی عمر ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ نوے سال کی عمر ہے، عکرمہ نے کہا جو شخص زیادہ قرآن پڑھتا ہے وہ ارذل عمر کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی عقل زائل ہوگی نہ فاسد ہوگی، ایک قول یہ ہے کہ ارذل عمر کی طرف لوٹایا جانا کفار کے لیے ہے۔ (تفسیر القرآن للسمعانی ج ٣ ص ١٨٧، مطبوعہ دار الوطن، الریاض ١٤١٨ ھ)

ارذل عمر سے پناہ طلب کرنا :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکثرت دعاؤں میں ارذل عمر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی ہے :

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے تھے اور فرماتے تھے : اے اللہ ! میں سستی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور میں ارذل عمر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٧١)

مصعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ان کلمات سے پناہ طلب کرو جن کلمات سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ طلب کرتے تھے، اے اللہ ! میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں اس سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں ارذل عمر کی طرف لوٹا دیا جاؤں اور میں دنیا کے فتنہ اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٧٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 70