أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً رَّجُلَيۡنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوۡلٰٮهُۙ اَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَاۡتِ بِخَيۡرٍ‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوِىۡ هُوَۙ وَمَنۡ يَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ‌ۙ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور اللہ (ایک اور) مثال بیان فرماتا ہے دو مرد ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے مالک پر بار ہے اس کا مالک اسے جہاں بھی بھیجے کوئی خیر کی خبر نہیں لاتا، کیا یہ شخص اس کے برابر ہوجائے گا جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور وہ راہ راست پر ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ (ایک اور) مثال بیان فرماتا ہے دو مرد ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے مالک پر بار ہے اس کا مالک اسے جہاں بھی بھیجے کوئی خیر کی خبر نہیں لاتا، کیا یہ شخص اس کے برابر ہوجائے گا جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور وہ راہ راست پر ہے۔

(النحل : ٧٦)

گونگے عاجز غلام اور نیک آزاد شخص کی مثال کے محامل :

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے کہ یہ بدیہی بات ہے کہ جو شخص گونگا اور عاجز وہ وہ فضل اور شرف میں اس شخص کے مساوی نہیں ہوسکتا جو بولنے والا اور قادر ہو، باوجود اس کے کہ بشریک اور باقی اعضا کی سلامتی میں دونوں مساوی ہوں تو جب گونگا اور عاجز، بولنے والے اور قادر برابر نہیں ہوسکتا تو زیادہ لائق ہے کہ بےجان اور ساکت پتھر اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہوسکتے پھر تمہارا ان بتوں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا کس طرح عقل کے نزدیک صحیح ہے۔

یہ مثال جو دی گئی ہے اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

١۔ العوفی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی ہے، جو شخص گونگا اور عاجز ہے وہ کافر اور بت پرست ہے کیونکہ وہ حق کے ساتھ کلام نہیں کرتا اور کوئی نیک کام نہیں کرتا جس میں خیر اور برکت ہو اور جو شخص ناطق اور قادر ہے وہ مومن ہے کیونکہ وہ کلمہ حق بولتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے اور راہ راست پر ہے۔ 

٢۔ ابراہیم بن یعلی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان اور ان کے غلام کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان کا غلام کافر تھا اور اسلام کو ناپسند کرتا تھا اور حضرت عچمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے منع کرتا تھا کیونکہ وہ کلمہ حق نہیں کہتا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو گونگا قرار دیا ہے اور حضرت عثمان نیکی کا حکم دیتے تھے اور راست پر تھے۔

٣۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال اپنی اور بتوں کی دی ہے، بت گونگے تھے اور عاجز تھے کیونکہ وہ بول نہیں سکتے تھے، نہ کوئی کام کرسکتے تھے اور وہ بت اپنی پرستش کرنے والوں پر بوجھ تھے کیونکہ بت اپنے عبادت گزاروں کو کچھ نہیں دے سکتے تھے بلکہ بتوں کی عبادت کرنے والے بتوں پر خرچ کرتے تھے، اور بتوں سے جس مہم میں بھی مدد طلب کی جاتی وہ اس میں اپنے عباد گزاروں کو کوئی خیر نہیں پہنچا سکتے تھے اور جو نیکی کا حکم دینے والا ہے اور راہ راست دکھانے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ مجاہد، قتادہ، ابن السائب اور مقاتل کا قول ہے۔

٤۔ عطا نے یہ کہا ہے کہ اس مثال میں گونگے اور عاجز سے مراد ابی بن خلف ہے، اور جو نیکی کا حکم دیتا ہے اس سے مراد حضرت حمزہ، حضرت عثمان بن عفان، اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ہیں۔ ( زاد المسیر ج ٤ ص ٤٧٣، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام رازی نے کہا اس آیت سے مقصود ہر وہ غلام ہے جو ان صفات مذمومہ کے ساتھ موصوف ہو اور ہر وہ آزاد شخص جو ان صفات محمودہ کے ساتھ موصوف ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 76