أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلۡمِهِمۡ مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰـكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌‌ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ لوگوں کے ظلم کی بنا پر ان ان کی گرفت فرماتا تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو معین مدت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا معین وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک لمحہ پیچھے ہوسکیں گے نہ ایک لمحہ آگے بڑھ سکیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ لوگوں کے ظلم کی بنا پر ان ان کی گرفت فرماتا تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو معین مدت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا معین وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک لمحہ پیچھے ہوسکیں گے نہ ایک لمحہ آگے بڑھ سکیں گے۔ (النحل : ٦١ )

اس سوال کا جواب کہ سب لوگ ظلم کرتے ہیں :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کا نہایت قبیح کفر بیان فرمایا تھا کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، اب یہاں یہ سوال ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فوری عذاب کیوں نہیں دیا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر فوری عذاب نازل نہیں فرماتا اور ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کا اظہار ہو اور اگر وہ لوگوں کے ظلم کی بنا پر ان کی فورا گرفت تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔

اس آیت میں ظلم سے مراد اللہ کی نافرمانی اور گناہ ہے، اور بظاہر اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ سب لوگ اللہ کی نافرمانی اور گناہ کرتے ہیں حالانکہ سب لوگوں میں تو انبیاء (علیہم السلام) اور رسل کرام بھی ہیں اس وہم کا ازالہ یہ ہے کہ خود قرآن عظیم سے ثابت ہے کہ تمام لوگ نافرمان اور گنہگار نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛

ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا، فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات باذن اللہ ذلک ھو الفضل الکبیر۔ (فاطر : ٣٢) پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا تھا، ان میں سے بعض اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض معتدل ہیں اور ان میں سے بعض نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے ہیں اللہ کے اذن سے یہی بہت بڑا فضل ہے۔

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندے ظالم اور گنہگار نہیں ہیں، بعض معتدل ہیں یعنی وہ نیکی کرنے والے ہیں اور کبھی بشری کمزور سی کوئی گناہ ہوجائے تو اس پر فورا توبہ کرلیتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو بڑھ چڑھ کر نیکی کرنے والے ہیں۔

اس سوال کا جواب کہ غیر ظالموں کو ہلاک کرنا عدل کے خلاف ہے :

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت کا ظاہر معنی یہ ہے کہ لوگوں کا ظلم اس بات کو واجب کرتا ہے کہ روئے زمین کے تمام جانداروں کو ہلاک کردیا جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کیونکہ جانداروں میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا، اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

١۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر اور معصیت کی وجہ سے ان پر گرفت فرماتا تو ان کو فورا ہلاک کردیتا اور پھر ان کی نسل وجود میں نہ آتی اور یہ بات بدیہی ہے کہ ہر شخص کے آباو اجداد میں ایسے لوگ ضرور گزرے ہیں جو عذاب کے مستحق تھے اور جب وہ لوگ ہلاک کردیے جاتے تو ان کی نسل آگے نہ چلتی اور اس سے لازم یہ آتا کہ دنیا میں کوئی آدمی بھی نہ ہوتا اور جب دنیا میں انسان نہ ہوتے تو پھر جانور بھی نہ ہوتے، کیونکہ جانوروں کو انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

٢۔ جب لوگ کفر اور معصیت کرتے تو اللہ تعالیٰ سب انسانوں اور جانوروں کو ہلاک کردیتا اور ظالموں کے حق میں یہ ہلاکت عذاب ہوتی اور غیر ظالموں کے حق میں یہ ہلاکت امتحان ہوتی اور ان کو اس پر آخرت میں اجر ملتا۔

٣۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ لوگوں کو بالعموم ہلاک کردے گا ان میں صالحین بھی ہوں گے اور فاسقین بھی، وہ احادیث حسب ذیل ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دیتا ہے تو جو لوگ بھی اس قوم میں ہوں ان سب کو عذاب پہنچتا ہے، پھر ان سب کا ان سب کے اعمال کے حساب سے حشر کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٠٨، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨٧٩)

حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اس قوم کے ہر فرد کو اس کے عمل کے اعتبار سے اٹھایا جائے گا اگر اس کے اعمال نیک ہوں تو اس کی عاقبت اچھی ہوگی اور اگر اس کے اعمال برے ہوں تو اس کی عاقبت خراب ہوگی، اور نیک لوگوں کے لیے یہ عذاب طہارت کا باعث ہوگا اور فاسقوں کے لیے عذاب بطور سزا ہوگا، اور صحیح ابن حبان میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب ظالموں کی وجہ سے اللہ اپنا عذاب نازل فرماتا ہے اور اس قوم میں نیک لوگ بھی ہوتے ہیں تو ان کی روحیں بھی قبض کرلی جاتی ہیں پھر ان کو ان کی نیات اور اعمال کے اعتبار سے اٹھایا جاتا ہے، اور امام بیہقی نے شعیب الایمان میں حضرت علی سے مرفوعا روایت کیا ہے جب کسی علاقہ میں برائی کا غلبہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس علاقہ کے لوگوں پر اپنا عذاب نازل فرماتا ہے، آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ ان میں تو اللہ کے اطاعت گزار بندے بھی وہتے ہیں گے آپ نے فرمایا ہاں پھر ان کو (قیامت کے دن) اللہ کی رحمت کی طرف اٹھایا جائے گا۔ علامہ ابن بطال نے کہا یہ حدیث حضرت زینب بنت جحش کی حدیث کی وضاحت کردیتی ہے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک کردیئے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں جب گناہوں کی کثرت ہوجائے گی، پس جب برائیوں کا ظہور ہوگا اور سرعام گناہ ہونے لگیں گے تو تمام لوگوں کو ہلاک کردیا جائے گا، میں کہتا ہوں کہ اس کے مناسب یہ حدیاث ہے کہ حضرت ابوبکر نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ کسی برائی کو دیکھیں اور اس کو مٹانے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب اللہ ان سب پر عذاب لے آئے گا۔ یہ حدیث سنن ابو داؤد، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں ہے اور ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث اور حضرت زینب بنت جحش کی حدیث ایک دوسرے کے مناسب ہیں اور ان کا معنی یہ ہے کہ نیکو کاروں اور گنہگار دونوں ہلاک کیے جائیں گے، اور حضرت ابن عمر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ نیکو کار جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اس کو اس کے نیک اعمال کی جزا ملے گی، اور اس کی مثل حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ (پر حملہ) کا قصد کریں گے، حتی کہ جب وہ مقام بیددا پر پہنچیں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ہم نے کہا یا رسول اللہ ! اس راستہ میں سب لوگ جمع ہوں گے، آپ نے فرمایا ہاں ان میں قصدا جانے والے بھی ہوں گے، اور جبرا جانے والے بھی ہوں گے، اور مسافر بھی ہوں گے، ان سب کو یکبارگی ہلاک کردیا جائے گا اور قیامت کے دن وہ مختلف جگہوں سے اٹھائے جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیات کے اعتبار سے اٹھائے گا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨٨٤)

نیز امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حارچ بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام المومنین ام سلمہ کے پاس گے اور یہ زمانہ وہ تھا جب حضرت عبداللہ بن الزبیر سے یزید کی جنگ ہورہی تھی، حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک شخص بیت اللہ کی پناہ میں ہوگا اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، پس جب وہ مقام بیدار پر ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، حضرت ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ جس شخص کو وہاں جبرا بھیجا جائے گا اس کو کیوں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا اس کو بھی زمین میں دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے اعتبار سے اٹھایا جائے گا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨٨٢) اور حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بندہ کو اس نیت پر اٹھایا جائے گا جس نیت پر وہ مرا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٧٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٣٠) اور الداؤدی نے کہا ہے کہ حضرت ابن عمر کی حدیث کا معنی یہ ہے کہ جن امتوں کو ان کے کفر پر عذاب دیا جائے گا، وہ عذاب ان پر ان کے بازار والوں پر اور جو ان میں سے نہیں تھے ان سب پر آئے گا، پھر ان کے اعمال کے اعتبار سے ان کا حشر کیا جائے گا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو پندرہ سال کے لیے ان کی عورتوں کو بانجھ کردیتا ہے، تاکہ ان بچوں پر وہ عذاب نہ آئے جن سے قلم تکلیف اٹھا لیا گیا ہے۔ (حافظ ابن حجر فرماتے ہیں) اس توجیہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے، اور حضرت عائشہ کی حدیث اس کو مسترد کرتی ہے اور یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جہاز مردوں اور عورتوں اور بچوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے، اور وہ پورا جہاز غرق ہوجاتا ہے اور سب ہلاک ہوجاتے ہیں (آج کل ہوائی جہاز کے حادثات میں ایسا بکثرت ہوتا ہے) اسی طرح بہت بڑی حویلی جل جاتی ہے، اور کسی قافلہ پر ڈاکو حملہ کرتے ہیں اور تمام قافلے والوں کو مار دیتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمانوں کے شہروں پر کفار حملہ کرتے ہیں اور شہر والوں کا قتل عام کرتے ہیں اور قدیم زمانہ میں خوارج نے مسلمانوں کو تہ تیغ کیا اور قرامط نے اور ان کے بعد چنگیز خان، اور ہلاکو اور تاتاریوں نے بکثرت مسلمانوں کو قتل کیا اور ان میں بہت لوگ بےقصور اور بےگناہ تھے اور بچے بھی تھے۔ خلاصہ یہ ہے اگر بہت لوگ مرنے میں مشترک ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ثواب یا عذاب میں بھی مشترک ہوں اور ابن ابی جمزہ کا اس طرف میلان ہے کہ اگر ظالموں کے ساتھ غیر ظالم بھی ہلاک کیے جائیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر ظالموں نے نیکی کا حکم نہیں دیا تھا اور برائی سے منع نہیں کیا تھا، لیکن جن لوگوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا وہ برحق مومن ہیں اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نہیں بھیجتا بلکہ ان کی وجہ سے عذاب کے مستحق لوگوں سے بھی عذاب دور کردیتا ہے، اور اس کی تائید میں قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ہیں :

ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض۔ (البقرہ : ٢٥١) اور اگر اللہ بعض لوگوں (کے عذاب) کو بعض (نیک) لوگوں کے سبب سے دور نہ فرماتا تو ضرور زمین تباہ ہوجاتی۔

وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظالمون۔ (القصص : ٥٩) اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان میں رہنے والے ظالم ہوں۔

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغرون۔ (الانفال : ٣٣) اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان کو عذاب دے حالانکہ آپ ان میں موجود ہیں، اور نہ اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے جبکہ وہ مغفرت طلب کر رہے ہوں۔

اگر غیر ظالم نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے تو وہ بھی ظالموں کے حکم میں ہے اس پر دلیل یہ آیت ہے :

اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بھا ویستھزء بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ، انکم اذا مثلھم۔ (النساء : ١٤٠) جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑیا جارہا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، حتی کہ وہ دوسری کسی بات میں مشغول ہوجائیں، ورنہ بلاشبہ اس وقت تم بھی ان ہی کی مثل ہوجاؤ گے۔

اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں اور ظالموں کی مجلس سے اٹھ جانا چاہیے، کیونکہ ان کے ساتھ بیٹھنے میں اپنے آپ کو ہلاک میں ڈالنا ہے، یہ اس وقت ہے کہ جب وہ ان کی مددنہ کرے اور ان کے کاموں سے راضی نہ ہو اور اگر اس نے ان کی مدد کی اور ان کے کاموں سے راضی ہوا تو پھر اس کا شمار ان ہی لوگوں میں سے ہوگا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت تیزی کے ساتھ دیار ثمود سے نکلنے کا حکم دیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب غیر ظالم ظالموں کے ساتھ ہلاک کیے جائیں تو ان کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کا عادلانہ حکم ہے کیونکہ ان کے نیک کاموں کی جزا صرف آخرت میں دی جائے گی اور دنیا میں ان پر جو مصیبت آئی وہ ان کے سابقہ گناہوں کے لیے کفارہ ہوجائے گی۔ پس دنیا میں جو عذاب ظالموں پر بھیجا گیا اس میں ان کے ساتھ غیر ظالم بھی شریک ہوں گے، جنہوں نے ان کے ظلم اور برے کاموں پر انکار نہیں کیا تھا اور یہ ان کی مداہنت کی سزا ہے، پھر قیامت کے دن ہر شخص کو اٹھایا جائے گا اور اس کو اس کے اعمال کی سزا ملے گی، اور اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو ظلم اور برے کاموں کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو مداہنت کرتے ہیں یعنی ظالموں کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ظالموں سے راضی رہتے ہیں، اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ظلم پر معاونت کرتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے ان امور سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔

(حافظ عسقلانی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ ابن ابی جمرہ کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ گنہگاروں کے جرائم کی وجہ سے ان پر جو عذاب آئے گا وہ عذاب نیکوکاروں پر نہیں آئے گا۔ علامہ قرطبی نے التذکرہ میں اسی طرف میلان کیا ہے اور ہم نے جو اس بحث میں لکھا ہے کہ ان پر بھی (بعض اوقات) عذاب آئے گا وہ ظاہر حدیث کے زیادہ مشابہ ہے اور قاضی ابن العربی کا بھی اسی طرح رجحان ہے، حضرت زینب بنت جحش کی حدیث : کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فمرایاجب خبث اور برائی بہ کثرت ہوگی۔ اس حدیث میں ہم اس مسئلہ پر مزید گفتگو کریں گے۔ (فتح الباری ج ١٣، ص ٦٠، ٦١، مطبوعہ ل اورہ، ١٤٠١ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے حضرت زینب بنت جحش کی جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے :

حضرت زینب بنت جحش بیان کرتی ہیں کہ ایک دن ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے ہوئے آئے، آپ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ، عرب کو اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آپہنچا ہے، یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے، پھر آپ نے اپنی انگلی اور انگوٹھی کا حلقہ بنا کردکھایا، حضرت زینب بنت جحش کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے خواہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں : جب خبث بہت زیادہ ہوجائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٨٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٥٣ )

حافظ ابن حجر عسقلانی نے جس مزید گفتگو کا کہا تھا وہ یہ ہے :

علماء نے خبث کی تفسیر زنا، اولاد زنا، اور فسق و فجور کے ساتھ کی ہے اور فسق و فجور مراد لینا اولی ہے، کیونکہ یہ صلاح ہے اور نیکی کے مقابلہ میں ہے، قاضی ابن العربی نے کہا کہ اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ بدکار لوگوں کے ساتھ نیک لوگ بھی ہلاک ہوجائیں گے، جب وہ فسق و فجور کو مٹانے کی کوشش نہیں کریں گے، اور اسی طرح نیک لوگ اس وقت بھی ہلاک ہوجائیں گے جب وہ فسق و فجور کو مٹانے کی کوشش کریں، لیکن اس کا فائدہ نہ ہو اور بدکار لوگ اپنے فسق و فجور پر قائم رہیں اور ان کا فسق و فجور عام ہوجائے اور کثرت سے پھیل جائے اس وقت سب لوگ ہلاک ہوجائیں گے خواہ قلیل ہوں یا کثیر، اور ہر شخص کا حشر اس کی نیت کے اعتبار سے ہوگا اور یہ اللہ تعالیٰ کا عادلانہ اور حکیمانہ فیصلہ ہے۔ (عارضۃ الاحوذی، جز ٩ ص ٢٧، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ) 

حضرت زینب بنت جحش نے یہ سوال اس لیے کیا کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یاجوج ماجوج کی دیوار کا سوراخ اتنا بڑا ہوگیا کہ وہ اس سوراخ سے باہر آسکیں گے اور ان کو یہ علم تھا کہ جب یاجوج ماجوج باہر نکل آئیں گے تو وہ لوگوں کا قتل عام شروع کردیں گے۔ (فتح الباری ج ١٣، ص ١٠٩، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ گنہگار لوگوں کو بالعموم ہلاک کردے گا اور اس کی لپیٹ میں نیک لوگ بھی آجائیں گے اس سلسلہ میں ایک اور حدیث یہ ہے :

٤۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا اگر اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے گناہ کی وجہ سے مخلوق پر گرفت فرماتا تو اس کا عذاب ساری مخلوق کو پہنچتا حتی کہ بلوں اور سوراخوں میں کیڑوں مکوڑوں کو بھی عذاب پہنچتا اور آسمان سے بارش کو روک لیتا اور زمین سے کچھ پیدا نہ ہوتا، اور تمام جاندار مرجاتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے عفو، درگزر اور فضل و کرم سے کام لیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛

وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر۔ (الشوری : ٣٠) اور تم کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور تمہاری بہت سی خطاؤں کو تو وہ معاف کردیتا ہے۔

٥۔ اس بحث میں ہمیں قرآن مجید کی اس آیت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے :

لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ (الانبیاء : ٢٣) اللہ جو کچھ کرتا ہے اس کے متعلق اس سے سوال نہیں کیا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مالک علی الاطلاق ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک ہے اور مالک اپنی ملکیت میں جو چاہے تصر کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 61